Daily Mashriq


پشاور پھر نشانے پر

پشاور پھر نشانے پر

سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے نہ دینے کے عزم کے اظہار میں پوری قوم بھی شریک ہے۔ اس حوالے سے دوسری رائے نہیں کہ دہشت گردوں کو پوری قوت سے کچل دیا جائے۔ اس کا عملی مظاہرہ بھی اب تک ہمارے سامنے ہے ہم بڑی حد تک دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دینے کے دعوے میں حق بجانب بھی ہیں اور اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار ہونے لگا تھا کہ وطن عزیز کا امن لوٹ آیا ہے۔ معیشت بحال ہو رہی ہے' کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے لیکن عود کر آنے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور اس کے ملک بھر میں تسلسل سے اس اعتماد کا مجروح ہونا فطری امر ہے۔ امن وامان کی صورتحال کے بارے میں ہر معاشرے اور ہر فرد کا محتاط اورحساس ہونا فطری امر ہے۔ حالیہ واقعات اور اس طرح کے مزید واقعات کے امکانات کااظہار اپنی جگہ اس استفسار کا باعث ہے کہ آیا دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں کوئی کسر باقی رہ گئی تھی اور ہم ادھورے کام کو مکمل سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے تھے۔ اگر چہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کا دعویٰ تو کسی بھی جانب سے نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایک تاثر ضرور تھا کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور وہ یا تو مارے اور پکڑے جا چکے ہیں یا پھر ٹکڑیوں میں بکھر چکے ہیں۔ گزشتہ دو دن کے واقعات اس بناء پر خاص طور پر باعث تشویش ہیں کہ محولہ تاثر اور اطمینان کے لمحات عارضی ثابت ہوئے اور ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے تقویت پکڑنے اور ان کی منصوبہ بندی اور کارروائی کی صلاحیت سامنے آئی جسے اتفاق گرداننا اس لئے قرین حقیقت نہ ہوگا کہ ان عناصر نے ملک بھر میں اپنی موجودگی اور نظم ثابت کردی ہے جو ہمارے سیکورٹی اداروں سمیت ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کو یہ موقع کیسے میسر آیا کہ وہ ایک مرتبہ پھر پھیل کر کارروائی کرنے کے قابل ہوسکے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر وہ کیا خلاء اور اسباب و عوامل ہیں جن کی بناء پر دہشت گردی عود کر آئی اور دہشت گردوں کو مواقع ملے کہ وہ اپنے مذموم مقصد کے لئے متحرک ہو پائے۔ ہم محض اس بناء پر بری الذمہ نہیں ہوسکتے کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے اور منصوبہ بندی سے لے کر دہشت گردوں کی روانگی تک کا عمل وہیں ہوا۔ اس نکتے اور اس مشکل سے بہر حال انکار نہیں اور ایک مسلسل مشکل اور درد سر ضرور بنا ہے۔ سرحدی انتظامات اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کی مشکلات اور دشواریاں بھی مد نظر ہیں لیکن اس امر کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی کہ دہشت گرد لاہور کے معروف اور حساس علاقے میں کیسے داخل ہوئے۔ وہاں تک اس کے باوجود ان کی رسائی کیسے ممکن ہوسکی جب پہلے سے باقاعدہ خبردار بھی کردیاگیا تھا مگر وقت آنے پر سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا اور دہشت گردوں کو دہشت گردی کا بآسانی موقع مل گیا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے جس علاقے میں ججوں کی وین کو نشانہ بنایاگیا ہے وہ نہایت حساس علاقہ ہے جہاں پر دن رات نگرانی معمول کا عمل خیال کیا جاتا ہے مگر افسوسناک حقیقت یہ سامنے آئی کہ اس حساس علاقے میں ججوں کی گاڑی کو بآسانی نشانہ بنایاگیا ۔ ججوں کی وین کو نشانہ بنانے کا موقع بھی اپنی جگہ خاص طور پر قابل توجہ ہے اسے اتفاق بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے فوجی عدالتوں کی توسیع و عدم توسیع کی بحث بہر حال چل رہی ہے ۔ فوجی عدالتوں کی توسیع اور اس پر حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں کیاطے پاتاہے وہ ایک الگ موضوع ہے۔ مختصراً اسوقت کے حالات کے تناظرمیں فوجی عدالتوں کی توسیع ہی واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردوں نے خاص طور پر ججوں کی وین کو نشانہ بنا کر گویا عدلیہ کو کھلا چیلنج دے دیا ہے اور اس امر کا بھی اعادہ ہوا ہے کہ ان حالات میں فوجی عدالتیں ہی دہشت گردوں پر مقدمات چلانے اور ان کو سزائیں سنانے کاموزوں فورم اور ضرورت ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سزائوں کا اعلان سامنے آتا ہے مگر اس پر عملدرآمد کی تشہیر سامنے نہیں آتی۔ بہر حال جاری حالات میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے ساتھ ساتھ ایک مرتبہ پھر ملک بھر میںدہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ناکے اور تلاشی کی کارروائیاں ہماری طبع نازک پر گراں گزرتے ہیں مگر معاشرے کو محفوظ بنانے کے لئے یہ عمل اختیار کئے بنا رہا نہیں جاسکتا۔ اسی طرح دہشت گردوں کو سخت سزائوں کا خوف دلانے کے لئے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر طوعاً و کرھاً اتفاق کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں۔ حیات آباد کے حساس علاقہ اور سرکاری سیکٹر فیز فائیو میں نیب کے دفتر کے سامنے سپیشل برانچ ایف آئی اے کے دفاتر نادرا اور دیگر سرکاری عمارتوں اور سرکاری رہائشی کالونی کے نزدیک اس طرح کا واقعہ محفوظ حیات آباد کے نعرے کی ہی نفی نہیں بلکہ حفاظتی اقدامات پر سوالیہ نشان اور تشویش کا باعث امر بھی ہے۔ حیات آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر کیمرے لگے ہونے اور پولیس کی موجودگی کے باوجود اس حساس مقام پر ججوں جس میں اکثریت خواتین ججوں کی تھی کو نشانہ بنایا جانا خیبر پختونخوا پولیس اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر خاص طور پر سوالیہ نشان ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں کسی وی آئی پی کی آمد ہو پولیس کو اپنا سارا دھیان ان کے پروٹوکول پر لگا کر دہشت گردوں کی ممکنہ کارروائیوں سے غفلت برتنے کی بجائے دونوں پر ساتھ ساتھ توجہ کی ضرورت ہے تاکہ کوئی حفاظتی خلاء پیدا نہ ہو جس کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں