Daily Mashriq


خصوصی افراد کی ضروریات نظر اندازنہ کی جائیں

خصوصی افراد کی ضروریات نظر اندازنہ کی جائیں

پشاور میں شروع ہونے والے مجوزہ ریپڈ بس سروس میں خصوصی افراد کو سہولیات کی فراہمی کیلئے عدالت سے رجوع بروقت بھی ہے اور قابل توجہ بھی ۔ خصوصی افراد کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ میں سواری کی سہولت ، پبلک مقامات پر ان کیلئے سہولیات بلکہ اگر اسے ان کی بنیادی ضرورت کا نام دیا جائے تو درست تشریح ہوگی ان کا بنیادی حق ہے ۔ مہذب معاشروں میں ان کا خیال خود بخود رکھا جاتا ہے مگر ہمارے جیسے بے حس معاشرے میں ان افراد کو اپنے حقوق کیلئے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ ہمارے تئیں اس مقصد کیلئے عدالت سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور متعلقہ حکام کی یہ از خود ذمہ داری تھی کہ وہ خصوصی افراد کی ضروریات و سہولیات کا خیال رکھتے ۔عدالت سے ان کے حقوق و سہولیات کو یقینی بنانے کی بجا طور پر توقع ہے ۔ اس موقع پر ہمیں اس رویے اور ا س صورتحال پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خصوصی افراد عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور کیو ں ہوئے ۔شاید اس کی وجہ ہو کہ خصوصی افرد کیلئے اس وقت کہیں بھی کسی بھی جگہ خصوصی انتظامات دیکھنے کو نہیں ملتے ہمارا تو وتیرہ یہ ہے کہ سٹرک عبور کرتے شخص کو دیکھ کر گاڑی کی رفتار آہستہ کرنے کی بجائے رفتار تیز کر دیتے ہیں خواہ سڑک پار کرنے والا شخص سفید چھڑی والا ہی ہو ۔ ریپڈ بس منصوبے میں خصوصی افراد معمر افراد اور خواتین کی سہولت کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے اور بجا طور پر اس کی توقع ہے کہ متعلقہ حکام اس اہم پہلو کو نظر انداز نہیں کریں گے ۔ معاشرے میں خصوصی افراد کے حوالے سے آگاہی و شعور پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو درپیش مشکلات اور اس کے سہل ازالے کے لئے اقدامات پر توجہ حکام کی ذمہ داری ہے جس کے حصول کیلئے لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہونا اس امر پر دال ہے کہ متعلقہ حکام اپنے فرائض سے غفلت برت رہے ہیں ۔

ٹائون ٹو کے توجہ طلب معاملات

ٹائون ٹو میں چھ ماہ کے دوران ہونے والی بھرتیوں پر بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے اعتراضات اور تحفظات کا اظہار اور ٹائون ٹو کی پر چیز کمیٹی کے عہدیداروں کی ڈمپر گاڑیوں کی خریداری پر عدم اطمینان اور اعتراضات اس امر پر دال ہیں کہ ٹائون ٹو میں سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق امور نہیں نمٹا ئے جارہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں اس طرح کے معاملات معمول کی بات ٹھہر تی ہے جو اندر خانے نمٹا ئے جاتے ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے اس پر اعتراض اور احتجاج حق نمائندگی کی ادائیگی ہے جس کو نظر انداز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ صورتحال کا سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کو نوٹس لینا چاہیے جو گزشتہ روز ہی بلدیاتی افسران کو معلومات ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کرنے اور عوامی مسائل کے حل کی تلقین کر رہے تھے ۔ ہمارے تئیں بلدیاتی اداروں میں بد عنوانی اور قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے کی روک تھام کر کے عوامی مسائل پر کان دھرنے کی ریت ڈالی جائے تو مذکورہ ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے منفی عوامی تاثرات میں خود بخود کمی آئے گی اور محکمے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

بہرو پیوں کے خلاف کارروائی احسن اقدام

واڑی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جعلی حکیموں اور جعلی پیروں کے خلاف کارروائی اور سادہ لوح عوام کو ان کی دھوکہ دہی سے محفوظ بنانے کیلئے ان عناصر کو بے نقاب کرنا احسن اقدام ہے ۔ اس طرح کے عناصر صوبہ بھر میں سرگرم عمل ہیں جو سادہ لوح عوام کو نہ صرف عقیدتاً گمراہ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ان کی صحت اور جیب پر بھی ڈاکہ ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی اس طرح کے عناصر کی بھر مار ہے مگر انتظامیہ کبھی کبھار ہی ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔ اس طرح کے عناصر سے عوام کو از خود اپنے مفاد میں بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے عوام کو جھوٹے پروپیگنڈے اور سنی سنائی باتوں پریقین کرنے کی بجاے علاج کیلئے مستنداطباء و ڈاکٹروں اور روحانی علاج کے لئے علمائے باعمل اور ایسے حضرات سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے جن کا مقصد لوگوں کو لوٹنا نہیں بلکہ مخلوق خدا کو خیر پہنچا نا ہو۔

متعلقہ خبریں