Daily Mashriq


بار بار ایک ہی خبر

بار بار ایک ہی خبر

کم و بیش پندرہ سال سے ایک ہی خبر بار بار آ رہی ہے ، خود کش حملے، بم دھماکے اور دہشت گرد حملے کی۔ فاٹا میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے یہ خبرکم وقفے سے آتی تھی اس کے بعد وقفہ طویل ہو گیا۔ دم تحریر اخبارات میں ایک ہی دن میں چار خود کش حملوں کی خبر ہے۔ اس خبر میں مقام اور جاں بحق ہونے والوںکی تعداد بدل جاتی ہے۔اس کے بعد سرکاری اور غیر سرکاری زعما کے مذمت اور تعزیت پر مبنی بیان آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ مرنے والوں کے ورثاء کے لیے اور زخمیوں کے لیے زر اشک شوئی کے اعلان ہوتے ہیں۔ عوام کو حوصلہ دیا جاتا ہے کہ دہشت گردوںکو جلد کیفر کردار تک پہنچا دیاجائے گا اور یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھی جائے گی۔ ابھی یہ دعوے پرانے نہیں ہوتے کہ ایک بار پھروہی خبر نئے اعداد و شمار کے ساتھ آ جاتی ہے۔ خبر کی اہمیت جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کی تعداد سے شمار کی جاتی ہے۔ حالانکہ جاں بحق ہونے والے اور زخمی ہونے والے اعداد نہیںہوتے۔ انسان ہوتے ہیں۔ ہر انسان کتنی ہی محبتوں ، رفاقتوں ، دوستیوں اور امیدوں کا مرکز ہوتا ہے۔ یہ خبر ان انسانی تعلقات پر بجلی کی طرح گرتی ہے۔ یہ بار بار آنے والی خبر ریاست کی توہین ہے جو اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوتی ہے۔ حکومت کے اعلیٰ کارپردازوں کے دعوئوں اور وعدوں کاجواب ہوتی ہے۔ پتہ نہیں یہ ذمہ دار اس جواب پر کیا محسوس کرتے ہیں۔ اہم شخصیات کی سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے ۔ ان کی جان قیمتی ہوتی ہے ۔ لیکن ان کی جان بھی قیمتی ہوتی ہے جو سیکورٹی پر مامور کیے جاتے ہیں ۔ اور ان کی بھی جن کی سیکورٹی پر اہل کار مامور نہیں کیے جاتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کی وارداتوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی سے سارا پاکستان دکھی ہے۔ بے توقیر ہے اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہے۔ کیا دہشت گردوں کا جلد صفایا کر دینے کے دعوے اور وعدے اس دکھ ، توہین اور غم و غصہ کا ازالہ کر سکتے ہیں! حکمرانوں کو اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ حکومت کے کارپرداز اپنی سی کوشش کرتے ہیں ۔ خفیہ کار بغیر وردی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اطلاعات حاصل کرتے ہیں اور الرٹس جاری کی جاتی ہیں۔ سیکورٹی پر مامور فوج، رینجرز اور پولیس کی وردیوں میںملبوس پہرہ دیتے ہیں، تعاقب کرتے ہیں اور دہشت گردوںکا ہدف بنتے ہیں۔ اہل اختیار ہدایات جاری کرتے ہیں اور سیکورٹی کے اہل کاروں کو عوام الناس کی حفاظت پر مامور کرتے ہیں۔ کیا اہل اختیار جو عوام کے نمائندے ہونے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے اُن کا فرض محض یہ ہے کہ ہدایات جاری کیا کریں۔ اگر ان ہدایات کے باوجود عوام الناس کو تحفظ نہ مل سکے تو وہ پھر بھی ایسی ہدایات جاری کیا کریں اور عوام سے تحفظ کے وعدے اور دعوے کرتے رہیں۔ کیا یہ با اختیار لوگ جو عوام کی نمائندگی کا دعویٰ رکھتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کے عوام کی جنگ کہنے کے باوجود عوام کو اس جنگ کے لیے تیار کرنے کے بارے میں سوچنے سے قاصر ہیں۔ یہ کام صرف سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب کراچی میں رینجرز نے آپریشن کیا تو شور مچا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ کسی ٹی وی اینکر یا عوام کے نمائندے نے یہ سوال نہیں اُٹھایا تھا کہ سندھ کو مجرموں سے پاک کرنے کی کارروائی سندھ کے ساتھ زیادتی تھی یا بھلائی؟ فاٹا میں آپریشن ہوا تو کہا گیا کہ پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ فاٹا کو دہشت گردوں سے پاک کرنا پشتونوں کے ساتھ ہمدردی تھی یا ان کے ساتھ زیادتی؟ پنجاب میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کومبنگ آپریشن کا وعدہ اس سے وابستہ توقعات کے مطابق پورا نہ ہوا، یہ پنجاب کے ساتھ زیادتی ہوئی یا بھلائی؟ کراچی اور فاٹا میں آپریشن ہوئے تو کیا یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ آپریشن سے جان بچا کر اگر کچھ دہشت گرد ملک سے فرار ہوئے تو کچھ پنجاب میں روپوش بھی ہوئے ہوں گے۔ جب کہ پہلے ہی پنجاب میں ایسے متعدد مطلوب دہشت گردوں کی موجودگی کی خبریں ہیں جن کی گرفتاری پر پچاس لاکھ ، بیس لاکھ اور دس لاکھ روپے تک انعام مقرر ہیں۔ یہ اگر روپوش ہیں تو اپنے سہولت کاروں کی سرپرستی کی وجہ سے روپوش ہیں۔ وسیع پیمانے پر کومبنگ آپریشن کی راہ میں کون حائل ہے اور کیوں؟ یہ کہاجاتا ہے کہ دہشت گردوںکا تعلق فلاں تنظیم سے ہے۔ تحریک طالبان پاکستان ، بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را''، سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ اور اب جماعت الاحرار نے لاہور کے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ان اطلاعات سے دھیان اس طرف جاتا ہے کہ اب دہشت گردوں کی نشاندہی ہو گئی ہے اب ان کے خلاف مؤثر کارروائی ہو گی۔ لیکن کارروائی مؤثر نہیں ہوتی۔ اہل سیاست عوام کے منتخب نمائندے دہشت گردوں کوکسی قیمت پر برداشت نہ کرنے پر مکمل اتفاق کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں نمائندگی کی حامل جماعتوں کے اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان مرتب ہوا۔ اس پر من و عن عمل درآمد کرنے میں حکومت کی کم کوشی صاف نظرآتی ہے لیکن پارلیمنٹ جو حکومت کی کارکردگی کی نگران ہے مگر اس نے کب حکومت سے جواب طلبی کی 'کب حکومت کو نئی رہنمائی فراہم کی۔ جب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سارے پاکستان کی جنگ ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دہشت گردی کی وارداتوں میںزیادہ تر عوام ہی نشانہ بنتے ہیں۔ ان ہی کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر عوام کے نمائندوں کو چاہیے کہ وہ عوام کو اس جنگ کے لیے تیار کریں اور اس جنگ میں شریک کریں۔ عوام ہی بہتر جان سکتے ہیں کہ ان کے محلوں گلیوں میں کون اجنبی آتے جاتے ہیں ۔ عوام کو اعتماد دیا جائے، تحفظ دیا جائے۔ انصاف کو یقینی بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیںکہ وہ مشتبہ لوگوں تک امن وامان کے ذمہ دار اداروں کی رسائی کویقینی بنانے میں موثر تعاون نہ فراہم کرسکیں۔

متعلقہ خبریں