Daily Mashriq


دہشت گردی کاسبب

دہشت گردی کاسبب

لا ہو ر میں دہشت گردی کے ایک روز کے وقفے کے بعد پشاور اور قبائلی علا قے میں دہشت گردی کے چار افسوس نا ک واقعات رونما ہوئے ، جس میں سات افراد شہید اور نو افراد شدید زخمی ہو ئے ، ایک خودکش حملہ پشاور میں ججز کو لے جانے والی گاڑی پر کیا گیا ، دوسرا حملہ مہمند ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلنئی میں پو لیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کے گیٹ کے قریب ہو ا ، جبکہ شبقدر میں مہمند ایجنسی سرحد آپریشن کے دوران ایک خود کش حملہ آور نے خودکو اڑا لیا ،حملے کے بعد سیکو رٹی فورسز نے کا رروائی کر کے پانچ دہشت گرد ہلا ک اور سڑسٹھ مشکو ک افراد کو گرفتار کرلیا اس کے علا وہ باجو ڑ ایجنسی کے ہیڈ کوا رٹر میں کر فیو نا فذ کر دیا گیا ہے ، ان دھماکو ں اور دہشت وتخریب کا ری کے واقعات کے بعد مختلف جانب سے رد عمل بھی سامنے آیا ہے ، جس میں سرکا ر کے علا وہ سرکا ری ادارو ں کے سربراہ ، سیا ست دان اور عوامی حلقے شامل ہیں۔ ایسے سانحات پر رد عمل کا سامنے آنا ایک فطری عمل ہے ، جو ہونا بھی چاہیے مگر افسو س تو یہ ہے کہ عمو ما ًایسے درد نا ک واقعات کو بھی بعض عنا صر اپنے مقاصد کے لیے اچھالتے ہیں۔ پاکستان انیس بیس سال سے بھیا نک دہشت گردی کا شکا ر ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کبھی دہشت گردی کا ایسا کوئی سنگین واقعہ رونما ہو تا ہے تو بعض سیکور ٹی ادارو ں کی جانب سے لمحہ مو جو د میں اطلا ع جاری کر دی جا تی ہے کہ حکومت کو پہلے ہی دہشت گردی کے واقعات کے خدشے سے مطلع کردیا گیا تھا۔ اگر پہلے ہی نشاند ہی کر دی جا تی ہے تو حکو مت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ وہ ان اطلا عات کی روشنی میں بند وبست کیو ں نہیں کر تی۔ جہا ں تک پاکستان کے سیا ست دانوں کا تعلق ہے تو اس میں سے وہ ایسے افسو س ناک واقعات پر بھی اپنی دکا ن چمکانے سے نہیں چوکتے ، حالا نکہ ان میں سے ایسے کئی سیا ست دان اور جما عتیں ہیں کہ وہ ماضی قریب میں خود بر سراقتدار رہی ہیں اور ان کے زمانے میں بھی تو اتر سے دہشت گردی خاص طورپر خودکش بم دھما کے ہوتے رہے ، مثلا ً جب کے پی کے میں اے این پی اور پی پی کی متحدہ حکومت تھی اس وقت خود کش دھماکے تسلسل کے ساتھ جا ری تھے اور ہر مرتبہ یہ مو قف پیش کیا جا تا تھا کہ خود کش بمبار کو روکنا دنیا میں سب سے مشکل امر ہے ، اب وہی عنا صر تنقید کر رہے ہیں ۔سب سے زیا دہ دلچسپ تنقید اور تبصرہ عمران خان کا ہے ان کی منطق ان کے دیگر سیا سی مطالبات کی طرح انو کھی ہی ہے۔ وہ فرما تے ہیں کہ جب تک فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم نہیںکیا جا ئے گا اس وقت تک دہشت گردی نہیں رکے گی ۔ اب تک قوم یہ سمجھ رہی تھی کہ دہشت گردی میں ملو ث عنا صر کے کچھ اورہی مقاصد ہیں مگر عمر ان خان کے اکتشاف سے منکشف ہو ا کہ یہ ساری دہشت گردی انیس بیس سال سے فاٹا کو خیبر پختوانخو امیںضم کر انے کی مہم کا حصہ ہے ۔ایسے ایسے انوکھے انکشافات کیے جا تے ہیں کہ عقل دنگ رہ جا تی ہے ۔ سانحہ لا ہو ر کے بعد پنجا ب میں آپر یشن کا غلغلہ اٹھا گویا اب تک پنجا ب میں آپر یشن کے بعد دہشت گرد ی کا قلع قمع ہو جا ئے گا ، آپر یشن ملک میں تو انیس بیس سال سے کسی نہ کسی ڈھنگ میں جا ری ہے اورہر آپر یشن کے مو قع پر حکومت کی جانب سے ادعا کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے ، دہشت گردی پر قابو پالیا گیا ہے ، دیکھنے میں آیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات ختم تو نہیں ہو ئے البتہ ان میںوقفہ آتا رہا ہے ، اور جب تک دہشت گردو ں کے مراکز محفو ظ ہیں اس وقت تک ان کا خاتمہ ممکن نہیںہوسکتا ، چنا نچہ پہلی ضرورت ہے کہ ان کو ختم کیا جائے ۔ یہ با ت حقیقت رکھتی ہے کہ جو عنا صر پا کستان میں دہشت گردی میں ملو ث ہیں ا ن کی پشت پناہی کرنے والے بھی ہیں ، اس مر تبہ حکومت پا کستان نے صحیح جا نب قد م اٹھایا ہے کہ پا کستان کے دفتر خارجہ نے افغان نا ئب سفیر عبدالنا صر کوطلب کر کے افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو نے پر شدید احتجا ج کیا ہے۔ افغانستان اور بھا رت میںجب بھی کوئی واقعہ رونما ہو تا ہے لمحہ بھر کے وفقہ کے بغیر پاکستان پر بنا ء کسی ثبو ت کے الزام دھر دیا جا تا ہے جبکہ پا کستان کے پاس ٹھوس شواہد ہو تے ہیں مگر پاکستان کبھی براہ راست الزام چسپاںنہیں کرتا ، بلکہ الزام ہی نہیںلگا تا ، ایسی کو نسی مجبوری ہے یہ اربا ب حل وعقد ہی بتا سکتے ہیں ۔ تاہم اس امر کا اندیشہ ہے کہ خطے میں رو س پا کستان اور چین مل کر امن و امان کی جو کو شش کررہے ہیںان کو سبوتاژکرنے کی سازش کی جا رہی ہے ، تاکہ علاقے میںکشید گی میں اضافہ ہو جائے اور افغانستان میںامن کے سلسلے میںعلا قائی طا قتوں کا مجوزہ اجلا س نا کا می سے دوچا ر ہو جا ئے ۔ جب پشاور میں آرمی پبلک اسکول کا سانحہ رونما ہو ا تھا اس وقت فوجی قیا دت نے افغانستان اور نیٹو کو مکمل ثبوت پہنچائے تھے ، ان ثبوت پر کیا کا رروائی ہو ئی وہ اللہ ہی بہترجا نتا ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات پا کستان میں حالا ت کی سنگینی رکھتے ہیںجن کو نظر اند از نہیں کیا جا سکتا اور اس کا تدارک بھی لا زمی ہے ۔ توقع ہے کہ چین ، رو س ، اورپاکستان علا قائی امن کی کا وشو ں کو فروغ دینے میں آگے قدم بڑھا ئیںگے کسی رکا وٹ کو حائل نہیںہونے دیں گے ۔چنا نچہ پا کستان کے ان سیاست دانو ں کو چاہیے کہ وہ محض سیاست بازی نہ کریں یہ پا کستان کے استحکا م سے تعلق رکھتا ہے چنانچہ وہ دہشت گردی کے مسئلے پر قومی کر دار اد ا کریں ، کیو ں کہ یہ پوری قوم سے متعلق ہے ۔

متعلقہ خبریں