Daily Mashriq


جو لکھیں بھی تو کیا لکھیں

جو لکھیں بھی تو کیا لکھیں

کراچی'کوئٹہ' لاہور اور پھر کل پشاور میں دہشت گردی کے واقعات سے دماغ سن ہوگیا ہے۔ خیالات میں جب یکسوئی باقی نہیں رہتی تو قلم لکھنے پرکیسے مائل ہوسکتا ہے۔ لاہور کے مال روڈ پر خودکش حملے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 20قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے جن میں بچے' بوڑھے' جوان سب شامل ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ڈیوٹی پر موجود دو پولیس آفیسرز کے علاوہ ایک جواں سال خاتون بھی شامل ہے جو گھر سے اپنی شادی کے لئے کچھ سامان خریدنے نکلی تھی۔ اپنے بوڑھے والدین کا واحد کفیل ایک بنک ملازم بھی شہید ہوا جو اپنے دوستوں کو اگلے ہفتے اپنی شادی کے کارڈز دینے نکلا تھا۔ زیادہ افسوس اس لئے ہوا کہ اس وقت لاہور کے مال روڈ پر فارما سیوٹیکل کمپنیوں کے مالکان پنجاب اسمبلی میں ڈرگ ایکٹ 1975ء کے ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس بل میں جعلی اور غیر معیاری ادویہ سازی پر سزائیں تجویز کی گئی تھیں اور ان لوگوں نے یہ بل ماننے سے انکار کردیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اس کا تو یہی ایک مطلب لیا جاسکتا ہے کہ ہمیں جعلی ادویات تیار کرنے اور مارکیٹ میں پھیلانے کی کھلی چھٹی ہونی چاہئے اور پھر دہشت گردوں نے اس لا یعنی اور فضول اجتماع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاہور کو خون میں نہلا دیا۔ شام کو اس المناک حادثے پر وہی روایتی قسم کے بیانات سننے کو ملے جن میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کے خلاف مہم جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا اور یہ کہ ہم سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہیں۔ سیکورٹی کو بھی حسب معمول ہائی الرٹ کردیاگیا۔ یہاں تک تو خیر ٹھیک تھا لیکن ہمارے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ اس رات پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر جتنے بھی ٹاک شوز ہوئے ان میں شرجیل خان اور خالد لطیف کے میچ فکسنگ کا واقعہ زیادہ نمایاں تھا اور یہ کہ اب لاہور میںپی ایس ایل کا فائنل میچ کیسے منعقد ہوگا۔بالخصوص کرکٹ بورڈ کے نجم سیٹھی تو اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی فکر مند نظر آرہے تھے۔ یہ واحد ایسا موضوع نہیں جس سے ہماری ترجیحات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مفاد عامہ کے دیگر مسائل بھی قومی ایجنڈے میں شامل نظر نہیں آتے۔ تعلیمی معاملات ہوں' صحت کے مسائل' کمر توڑ مہنگائی یا پھر کرپشن کا طوفان بدتمیزی حکومت ان سے مکمل طور پر لا تعلق نظر آتی ہے۔ اسی گہما گہمی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کے بے ضرر نام سے اضافہ اس کا ثبوت ہے۔ ہمیں یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ لاہور میں اگر چار روز پہلے ریڈ الرٹ جاری کردیاگیا تھا تو پھر شہرکے مصروف ترین علاقے میں احتجاجیوں کو جمع ہونے کی اجازت کیوں دی گئی۔ سینئر پولیس آفیسرز کو بلوائیوں کے درمیان جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اگر اس سے پہلے اسی مصروف روڈ پر نا بینا افراد کو ان کے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے سے روکا جا سکتا تھا تو ان فسادیوں کو بھی اسی طریقے سے ہٹانا نا ممکن نہ تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت بے بس اور نا بینا افراد پر باقاعدہ لاٹھی چارج کیا گیا تھا لیکن اس موقع پر ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ پولیس آفیسر احتجاج کرنے والوں کی منت سماجت کرتے ہوئے دکھائی دئیے اور اس ہنگامے میں خود کش حملہ آور بے قابو ہجوم میں داخل ہو کر خون کی ہولی کھیلنے میں کامیاب ہوگیا۔ اربوں روپے کے بجٹ سے جو سیف پراجیکٹ قائم کیا گیا تھا اس کے تحت جگہ جگہ لگائے گئے سی سی ٹی کیمرے شہر میں گرد و غبار کی وجہ سے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ یقین جانئے ہم لاہور اور ملک کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کی اس نئی لہر کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ لکھنے سے قاصر ہیں۔ عوام تو صرف قربانیاں دے سکتے ہیں اس سے زیادہ ان کا کچھ بس نہیں چلتا۔ دماغ مائوف ہوچکا ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ہم مزید خامہ فرسائی کی بجائے میاں محمد افضل کی کتاب سقوط بغداد سے سقوط ڈھاکہ تک کی ورق گردانی میں مصروف ہوگئے۔ جی ہاں' یہ کتاب تاریخ میں ملت اسلامیہ کو پیش آنے والے واقعات کا عبرت آ موز تذکرہ ہے جس میں جا بجا چشم کشا واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لکھا گیا ہے کہ 1739ء میں جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو بادشاہ اسلام حضرت محمد شاہ المعروف رنگیلا پیا' عیش و آرام کے تمام لوازمات کے ساتھ کرنال میں مقیم تھے۔ خطرے کی موجودگی کے باوجود بادشاہ کے عیش و عشرت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ نورا بائی نام کی ایک عورت جو حسن و جمال کی خوبی کے ساتھ رقص و نعم میں بھی کمال رکھتی تھی وہ بادشاہ سلامت کے ہم رکاب تھی اور میدان جنگ میں لگائے گئے خیموں میں برپا شاہی محفلوں کی جان تھی۔ دراصل بادشاہ دہلی باہر نادر شاہ کا مقابلہ کرنے نکلے تھے۔ لیکن جس طور سے انہوں نے کرنال تک کا سفر زرنگار پالکی میں بیٹھ کر کیا تھا اس سے تو یوں لگتا تھا کہ وہ جنگ کے لئے نہیں پکنک منانے نکلے ہیں۔ نادر شاہ نے بڑی آسانی سے میدان مار لیا اور دندناتا ہوا دہلی میں داخل ہوگیا اور اب آخری منظر جب رنگیلے نے اپنی حماقت سے نادر شاہ کو دہلی میں قتل عام پر مجبور کیا تو اس میں ایک لاکھ سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ نادر شاہ نے جب قتل عام بند کرنے کا حکم دیا تو دہلی مردوں کی بستی بن چکی تھی۔ گلی کوچوں میں لاشوں کا تعفن پھیلا۔ وبائیں پھوٹ پڑیں۔ بادشاہ نے کوتوال کو بدبو پر قابو پانے کے لئے حکم دیا تو اس نے بغیر اس فرق کے کہ کون کافر ہے اور کون مسلمان تمام لاشوں کو جمع کرکے انہیں آگ لگا دی۔ ہم ہر گز یہ نہیں کہتے کہ محمد شاہ رنگیلا کے سامنے نورا بائی کے رقص اور لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل میں کوئی مماثلت پائی جاتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہیں گے کہ کرکٹ کے فائنل کے انعقاد کی بجائے فی الوقت قومی سلامتی اور عوام کا تحفظ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں