Daily Mashriq


علماء کرام،سیاست دان ،عوام اورسماج

علماء کرام،سیاست دان ،عوام اورسماج

علماء کرام اور سیاست دان دونوں معاشرے کے اہم کردار ہیں۔جو معاشرتی سماجی ضروریات اور مسائل کو نہ صرف اچھی طرح جانتے ہیں ،بلکہ ان کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات اور تجاویز کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں۔سماج اور عوام بھی دونوں کے نہ صرف قدردان اور عقیدت مند ہیں، بلکہ ان کی آواز پر لبیک کہہ کردیوانہ وار جان تک دینے کو تیار رہتے ہیں۔ سماج اورعوام کا علما ء کرام اور سیاست دانوں سے محبت کا یہ جذبہ معاشرے اور سماج کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے علماء کرام سے زیادہ سیاست دان اس جذبے کو عموماً محو کیے رکھتے ہیں اورانہیں عام طور پر عوام کا خیال الیکشن کے قریب آتا ہے یا پھر چند ایک تقریبات میں عوام سیاست دانوں کا درشن کرپاتے ہیں۔دوسری طرف علماء کرام سے عوام کا واسطہ زیادہ تر مسجدتک رہتاہے۔علماء کرام سے عوام کی اور سیاست دانوں کی عوام اور علماء کرام سے دوری کا نتیجہ ہے کہ معاشرہ اور سماج ہمہ وقت مسائل میں گھرارہتاہے۔ حالانکہ معاشرے کے تینوں اہم کردار یعنی علماء کرام ،سیاست دان اور عوام کا باہم مربوط اورہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے۔بالخصوص علماء کرام اور سیاست دانوں کاایک دوسرے کے قریب ہونا اور مل کر معاشرے کے لیے کام کرنا ناگزیرہے۔گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی کے ایک دینی مدرسے جامعہ فاروقیہ کا دورہ کیا۔جہاں انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم اور وفاق المدارس پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان کی وفات پر منتظمین سے تعزیت کی۔عمران خان کا یہ دورہ علماء کرام اور دینی مدارس سے محبت کامظہرہے۔اس سے پہلے عمران خان خیبرپختون خوا کے مشہور دینی ادارے جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث ڈاکٹرشیرعلی شاہ کی وفات پر تعزیت کے لیے جاچکے ہیں۔عمران خان کی سیاست اور سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود عمران خان کے بہت سے ایسے اقدامات ہیں جولائق تحسین ہیں۔جن میں سرفہرست بزرگ علماء کی وفا ت پران کے ہاں جاکر تعزیت کرنا ہے۔اس کے علاوہ کے پی کے حکومت کا ختم نبوت کے مضامین کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانا،تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم کو لازمی قراردینے کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے بل پر دیگر صوبوں کی بنسبت پہل کرنا،تعلیمی اداروں میں ظہر کی نماز کو لازم کرنا،خلفاء راشدین کے ایام پر تعطیلات کرکے عوام کے دلوں میں خلفاء راشدین کی اہمیت کو اجاگرکرنا،امریکی ڈرون حملوں کے خلاف زبردست اسٹینڈلینا اورتاریخ میں پہلی مرتبہ محض ڈرون حملوں کی وجہ سے نیٹو کی سپلائی کومعطل کرنااوراس جیسے دیگر کئی اقدامات ہیں جن پر عمران خان کو ہرمنصف مزاج داد دیے بغیر نہیں رہ پائے گا۔عمران خان امریکاکی افغانستان اور پاکستان میں جنگی مداخلت کی بھی شدید مذمت کرچکے ہیں عمران خان کا مولانا طارق جمیل ،مفتی نعیم احمدمولانا سمیع الحق اور دیگر کئی علماء کرام سے رابطہ اورتعلق بھی مشہور ہے۔عمران خان کے ان تمام اچھے اقدامات کے باوجود حیرت ہے کہ بعض لوگ انہیں کیسے ''یہودی ایجنٹ ''کے سیاسی لقب سے پکارتے ہیں۔گزشتہ دنوں مشہور عالم دین مفتی عدنان کاکا خیل نے خیبرپختونخواحکومت کوتعلیمی اداروں میں قرآن کی تعلیم لازمی کرنے میں پہل کرنے پر مبارکباد کا پیغام بھجوایا ،جس پر سوشل میڈیا پر ایک مذہبی سیاسی جماعت کے اچھے خاصے پڑھے لکھے کارکنوں کی طرف سے مفتی عدنان کاکاخیل کے خلاف ایسا ہنگامہ برپاکیا گیا تھاجس کابیان کرنا مشکل ہے ۔افسوس درافسوس یہ ہے کہ اس جماعت کے ذمہ داران کی طرف سے ایسے کارکنوں کو سمجھانے کے لیے توجہ تک نہ دی گئی،حالانکہ یہی ذمہ داران ان کارکنوں سے مل کرانہیں داد دیتے رہتے ہیں۔عمران خان سے سیاسی اختلاف رکھنااور سیاسی پالیسیوں پر تنقید کرنا بالکل بجا ہے۔لیکن سیاسی پالیسیوں پر تنقید اور سیاسی اختلاف کی آڑ میں اسلام کواستعمال کرنا اور انہیں یہودی ایجنٹ قراردینا قابل تشویش ہے۔جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عمران خان کے حمایت کرنے والے کلمہ گو اور بہت سے دین دار لوگ علماء کرام سے بدظن ہوگئے۔بدقسمتی سے ہمارے سیاست دانوں کی اس نہج کی اخلاقی تربیت نہیں ہوتی جتنی سیاست اور عوام کی نمائندگی ایسے اہم منصب کے لیے ضروری ہے۔ دیکھاجائے توسیاست دانوں کا اخلاقی زوال علماء کرام اور سیاست دانوں میں باہمی تعلق کے مضبوط نہ ہونے اور سیاست دانوں کے دین اور سیرت طیبہ سے دورہونے کانتیجہ ہے۔مذکورہ سیاست دانوں اور علما ء کرام کوماضی سے سبق لینا چاہئے۔ منشی عبدالرحمن مرحوم نے اپنی کتاب میں قائداعظم کے علماء کرام سے تعلقات پر کئی ایسے واقعات ذکر کیے ہیں جنہیں پڑھ کرانسان حیران رہ جاتاہے کہ اس وقت علماء کرام اور سیاست دان ایک دوسرے کے کتنے قریب تھے اور سیاست دان علماء کرام کی باتوں کو کس قدر توجہ سے سنا کرتے اور اس پر عمل کیا کرتے تھے۔

متعلقہ خبریں