Daily Mashriq


تقدیر و تدبیر کے مسائل اور نئی نسل

تقدیر و تدبیر کے مسائل اور نئی نسل

آج چونکہ دنیا سمٹ گئی ہے اس لئے دنیا کے کسی دور پار ملک یا خطے میں کوئی بات' فکر' نظریہ یا خبر آناً فاناً پھیل جاتی ہے اور ہماری نوجوان نسل کو بہت جلد اور بری طرح متاثر کرتی ہے۔ یہ طرز عمل انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں رہا ہے اور جاری رہتا ہے۔ آج مواصلات اور جدید ذرائع ابلاغ کی مدد سے امریکہ اور مغرب کے سیکولر افکار ہماری نوجوان نسل کے سامنے کئی ایک سوالات اور مسائل سامنے لاتے ہوئے ان کے اسلامی عقائد کو ڈنواں ڈول کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ ان مسائل اور سوالات میں سے جو سوال اکثر ہمارے نوجوان آج کل علماء یا اساتذہ سے کرتے ہیں وہ تقدیر یعنی قسمت کے بارے میں ہوتا ہے۔ اصل میں یہ وہی پرانے افکار ہیں جن کے سبب کبھی سلسلہ جبر یہ و قدریہ وجودمیں آئے تھے۔ آج چونکہ آزادی فکر اور بنیادی انسانی حقوق کے تحت ہر انسان کو یہ حق دینے کی بات ہوتی ہے کہ اس کے دماغ میں جو خیال بھی آئے اس حوالے سے سوال کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ ہمارے ہاں ایک گروہ کا خیال ہے کہ آزادی فکر پر قدغن لگانے سے معاشروں پر جمود طاری ہوتا ہے اور وقت اور ضرورت کے مطابق خیالات و افکار اور علوم و فنون وجود میں نہیں آتے۔ وہ مغرب کی ترقی کو آزادی اور حریت فکر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ خیال جزوی طور پر صحیح ہو لیکن یہ پوری طرح صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام اور قرآن و سنت کا اس حوالے سے اپنا ایک موقف ہے جو دلیل و منطق کے مطابق ہے۔اس حوالے سے آج کے نوجوانوں میں وہ لوگ جو بنیادی دینی تعلیمات اور مسائل سے بے خبر ہیں اس قسم کے سوالات کرتے ہیں کہ ''جب اس دنیا میں ہرایک چیز اللہ کے حکم اور مشیت کے ساتھ بندھی ہوئی ہے تو پھر انسان تو مجبور محض ٹھہرا لہٰذا اگر اس سے گناہ وغیرہ سر زد ہوتے ہیں تو آخرت میں اس سے حساب کتاب کیوں کر جائز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے سوالات عام لوگوں جن کی قرآن کریم اور احادیث پر عمیق اور جامع نظر نہیں ہوتی کے سامنے ایک پیچیدہ صورتحال کھڑی کردیتے ہیں۔ اس کا ایک حل تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو تلقین فرماتے ہوئے بتایا ہے کہ تقدیر کے حوالے سے بحث و مباحثہ اور بغیر علم کے کرید میں نہ پڑیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا '' جب تقدیر کا ذکر آجائے تو اس پر بات (بات کی کھال اتارنے) سے رک جائو'' چونکہ تقدیر ایک فلسفیانہ اور مشکل عقدہ ہے اور جامع ایمان و علم کے بغیر اس پر بات کرنے سے انسان اسلام کے بنیادی عقائد ایمان سے بھٹک کر بے یقینی کی گہرائیوں اور گھاٹیوں میں گر سکتا ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو تقدیر اور اس قسم کے دیگر مسائل کے حوالے سے عقلی دلائل کے مقابلے میں ایمان بالغیب اور قلب سلیم کے ایمان کو فوقیت و ترجیح دی۔ یہ پوری کائنات اور مافیہا قانون فطرت کے مطابق بندھ کر اپنا اپنا فریضہ بغیر کسی چوں چراں کے ادا کر رہے ہیں۔ لیکن صرف انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو حالات و ضروریات کے مطابق اپنے معاملات چلانے سنوارنے اور بنانے کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔ اس دنیاکے ماحول میں انسان کے لئے مزاحمتیں اور رکاوٹیں قدم قدم پر کھڑی ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کو اللہ تعالیٰ نے جو آزادی اور حریت عطا فرمائی ہے وہ اپنی جگہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے۔ انسان اپنی سوچ' فکر اور دائرہ ضمیر میں بالکل آزاد ہے لیکن ان چیزوں کے نفاذ و اطلاق اور دائرہ فعل و عمل میں بالکلیہ یعنی مطلقاً آزاد نہیں ہے بلکہ یہ اس کے ماحول کی حدود اور رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے مطابق ہوتی ہے۔ اللہ اور انسان کے درمیان تعلق ایک ازلی رازہے جس میں اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ کے ساتھ انسانی آزادی منسلک ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات میں دیکھا جائے تو انسان کی آزادی اللہ تعالیٰ کی مشیت' چاہت و رغبت اور مراد کے ساتھ وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لحاظ سے انسان کو اپنے ارادوں میں آزادی دی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کو وہ مقام نصیب کردیتا ہے کہ بقول علامہ محمد اقبال

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو آزادی دی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بھی انسان کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ اسے عقل و اختیار اور ارادہ سے نواز کر چھوڑ دیا ہے۔ البتہ اس کی رہنمائی کے لئے سلسلہ انبیاء کرام اور قرآن و سنت قیامت تک کے لئے محفوظ کردیا ہے تاکہ اتمام حجت ہوسکے۔ جہاں تک پیدائش کا کسی مسلمان یا غیر مسلمان کے گھر میں ہونے کا تعلق ہے تو تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ غیر مسلموں کے ہاں پیدا ہونے والے کعبے کے پاسبان بن گئے اور مسلمانوں کے ہاں جنم لینے والے ارتداد کے مرتکب ہوئے۔ انسان کتنا آزاد ہے' اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ''اگر تیرا رب چاہتا کہ زمین پر رہنے والے سب ایمان لاتے تو سارے اہل زمین ایمان دار ہوتے۔ پھر کیا تو لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرے گا''۔ ایک اور مقام پر آیا ہے کہ ''صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کاجی چاہے انکار کردے''۔ اور سورہ بقرہ میں تو صاف اور کھلے الفاظ میں فرمایا ہے کہ '' دین کے معاملے میں کوئی جبر و اکراہ (زبردستی) نہیں۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں