Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبداللہ جعفر ایک مرتبہ جنگل سے گزر رہے تھے ۔ راستے میں ایک باغ پرگزر ہو ا۔ وہاں ایک حبشی غلام باغ میں کام کر رہاتھا ، اس دوران اس کا کھانا آیا اور اس کے ساتھ ہی ایک کتا بھی باغ میں چلا آیا اور اس غلام کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔اس غلام نے کام کرتے کرتے ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی ۔ اس کتے نے اس کو کھا لیا اور پھر کھڑا رہا ۔ اس نے دوسری روٹی بھی ڈال دی ۔ اس کتے نے اس کو کھا لیا اورپھر کھڑا رہا ۔ اس نے تیسری روٹی بھی ڈال دی ۔ تین ہی روٹیاں تھیں ، وہ تینوں کتے کو کھلا دیں ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر غور سے کھڑے دیکھتے رہے ، جب وہ تینوں ختم ہو گئیں تو حضرت عبداللہ بن جعفر نے اس غلام سے پوچھا کہ تمہاری کتنی روٹیاں روزانہ آتی ہیں ؟ اس نے عرض کیا کہ آپ نے ملا حظہ فرمالیا تین ہی آتی ہیں ۔ حضرت نے فرمایا کہ پھر تینوں کا ایثار کیوں کر دیا ؟ غلام نے کہا : حضرت ! یہاں کتے نہیں رہتے ، یہ بھوکا کہیں دور سے مسافت طے کر کے آیا ہے ، اس لیے مجھے اچھا نہ لگا کہ اس کو ویسے ہی واپس کر دوں ۔ حضرت ابن جعفر نے فرمایا کہ پھر تم آج کیا کھائو گے ؟ غلام نے کہا : ایک دن فاقہ کر لوں گا ۔ یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیںہے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے دل میں سوچا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو بہت سخاوت کرتا ہے ۔ یہ غلام تو مجھ سے بڑھ کر سخی ہے ، یہ سوچ کر شہر میں واپس تشریف لے گئے اور اس باغ کو اور غلام کو اور جو کچھ سامان باغ میں تھا ، سب کو اس کے مالک سے خرید کر غلام کو آزاد کردیا اور وہ باغ اس غلام کو ہبہ کردیا۔ (تاریخی واقعات)

امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ : '' حضرت حفصہ بنت سیرین ، ثقہ اور حجت کے درجے پر فائز ہیں ۔ '' اس جلیل القدر خاتون کو علم کے ساتھ محبت اور پڑھائی میںدلچسپی خاندان سے ورثے میں ملی ۔ انہوں نے ایک ایسے گھرانے میںنشوو نما پائی جو تقویٰ ، علم ، پرہیز گاری اور دنیا سے بے رغبتی رکھنے میں مشہور و معروف تھا ۔ اس عظیم المرتبت خاتون نے مدرسہ صحابہ سے سند فراغت حاصل کی ، یہ وہ مد رسہ ہے جس نے دنیا کو ایسی علمی شخصیات سے نوازا جو عزت و وقار کے آسمان پر روشنی کے دائروں کی صورت میںچمکے اور انہوں نے زمانے کی گردش کو اپنے علوم سے آراستہ کر دیا ۔ حضرت حفصہ اپنے دور کی تابعی خواتین میں سر داری کے مقام و مرتبہ پر فائز تھیں ۔ فقہ و علم کے حوالے سے ان کے دور میں کوئی بھی ان کا ہم پلہ دکھائی نہیں دیتا ۔ علمی گتھیاں سلجھانے کے لیے ان کی طرف رجوع کیا جاتا اور یہ جلیل القدر اور عظیم المرتبت خاتون ام الہذیل ، حضرت حفصہ بنت سیرین فقیہہ انصار یہ بصر یہ تھیں ۔ یہ مشہور معروف تابعی حضرت محمد بن سیرین کی ہمشیرہ تھیں ۔ حضرت مہدی بن میمون کہتے ہیں کہ حضرت حفصہ 30سال تک نماز کی جگہ سے صرف سونے یا کسی کے گھرآنے پر ملاقات کرنے یا پھر قضائے حاجت کے لیے ہی نکلاکرتی تھیں ، باقی سارا وقت عبادت میں صرف کرتیں ۔

متعلقہ خبریں