Daily Mashriq


بھارتی افواج کی جارحیت

بھارتی افواج کی جارحیت

بھارتی افواج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکول وین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وین کا ڈرائیور شہید ہوگیا جبکہ پاک فوج نے اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکی تباہ کردی جس کے نتیجے میں 5بھارتی فوجی مارے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جمعرات کے روز بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے بٹل سیکٹر میں بٹل مدارپور روڈ پر طالبات کو سکول لے جانے والی وین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وین کا ڈرائیور شہید ہوگیا۔پاک فوج نے بھارتی چوکی پر جوابی گولہ باری کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں واضح طور پر چوکی کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ادھر ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بٹل سیکٹر میں بھارتی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کرکے مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ بھارت نے رواں سال کے دوران اب تک کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر 335 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ شہری شہید اور 65زخمی ہوئے۔ پاکستان اس قسم کی جارحیت کو بار بار اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے نوٹس میں لاتا رہا ہے لیکن مبصر مشن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی موثر کارروائی اب تک سامنے نہیں آسکی جس کے نتیجے میں بھارت شہ پا کر مزید کارروائیاں کرنے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتا۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اور بھارتی افواج نہتے کشمیری عوام پر ظلم و جور کے پہاڑ توڑتا رہتا ہے۔ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کی گونج سے کشمیری عوام کے عزائم کھل کر سامنے آچکے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام زیادہ واضح ہو کر جا چکا ہے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط کو کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح ایک عرصے سے نوجوان آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے بھارتی افواج پیلٹ گنز استعمال کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو شہید‘ زخمی اور خاص طور پر سامنے سے فائر کرتے ہوئے انہیں بصارت سے محروم کر رہی ہیں اس پر عالمی ضمیر کا نہ جاگنا بھی ایک المیہ ہے۔ اگرچہ کہیں کہیں بھارتی افواج کی جارحیت کے خلاف اکا دکا آوازیں اٹھ جاتی ہیں تاہم وہ ممالک جن کے بھارت کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی مفادات وابستہ ہیں ان کا بھارتی مظالم پر آنکھیں بند کرنا انسانیت کی تذلیل کے زمرے ہی میں شمار کیا جائے گا۔ سب سے زیادہ حیرت اقوام متحدہ جیسی تنظیم کے کردار پر ہوتی ہے جس نے اگرچہ اپنے ذیلی ادارے سلامتی کونسل میں لگ بھگ 70سال پہلے اس معاملے پر قراردادیں پاس کرکے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کااختیار دیا ہے مگر بڑی طاقتوں نے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر ان قرار دادوں کو عضو معطل بنا کر رکھا ہوا ہے اور وہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کی راہ میں روڑے اٹکا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں۔ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی طویل عرصے سے جاری ہے اور بھارت نے خطے کو پہلے روایتی ہتھیاروں اور بارود کے ڈھیر میں تبدیل کیا پھر ایٹمی ہتھیار بنا کر پاکستان کو بھی بہ امر مجبوری اس دوڑ میں شامل کیا کیونکہ جب تک پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب نہیں دیا تھا تب تک اس کے لیڈر اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے اور اسے نشانہ عبرت بنانے کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔ تاہم پاکستان نے جوابی دھماکے کرکے اسے خاموش رہنے پر مجبور کردیا۔ اگرچہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ڈیٹرنٹ کے طور پر ہی اس کی حفاظت کی ضامن ہیں اور وہ کسی کے خلاف جارحیت کی کوئی خواہش رکھتا ہے نہ ہی الجھنے پر تیار ہے مگر بھارت ایک عرصے سے نہ صرف لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر پاکستان کو اشتعال دلانے میں مصروف ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کی ان ریشہ دوانیوں کا نوٹس لینا چاہئے اور خاص طور پر نہتے عوام کو نشانہ بنا کر بھارتی افواج جنیوا کنونشن کا جس طرح مذاق اڑا رہی ہیں اس پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے کیونکہ بھارتی افواج کی مسلسل اشتعال انگیزی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حالات کسی بھی وقت خطرے کے نشان کو کراس کرنے کی نوبت آسکتی ہے اور خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے اور اگر خدانخواستہ نوبت اس حد تک چلی گئی تو اس سے عالمی امن کو بھی سنگین خطرات پیش آسکتے ہیں۔ بھارتی حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اسے اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ وہ خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستانی افواج اپنے وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرنے کی خاطر بھرپور جواب دینے کو تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں