تربیلا ڈیم میں پڑنے والی دراڑیں؟

تربیلا ڈیم میں پڑنے والی دراڑیں؟

عالمی بنک کے تعاون سے تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ کے پاور ہائوس میں افتتاح سے قبل ہی دراڑیں پڑنے کی خبریں یقینا تشویش کا باعث ہیں۔ ایک قومی اخبار کے مطابق منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش میں نئی تعمیر ہونے والی سرنگ میں سے پانی لیک ہو کر پاور ہائوس کی بلڈنگ میں داخل ہوگیا ہے۔ خبر کے مطابق وزیر اعظم کے تیز تر تکمیل پروگرام کے تحت 51ملین ڈالر سے مکمل ہونے والے چوتھے توسیعی منصوبے کی سرنگ سے آزمائشی بنیادوں پر پانی گزاراگیا۔ پانی لیکج کے باعث پاور ہائوس بلڈنگ میں داخل ہونے لگا۔ غیر معیاری کام اور ناقص میٹریل کے استعمال سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ 470میگا واٹ صلاحیت کا پہلا یونٹ 27فروری کو مکمل ہونا تھا ‘ اس منصوبے نے ابتدائی طور پر 48 ماہ میں مکمل ہونا تھا۔ بعد ازاں اس کی مدت کم کرکے 42ماہ کی گئی مگر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پر اس کی تکمیل کی مدت 36ماہ کردی گئی۔ تکمیل کی مدت کم کئے جانے کے بعد اس کا 470میگا واٹ پیداواری صلاحیت کا پہلا یونٹ مارچ ‘ دوسرا اپریل اور تیسرا مئی 2017ء میں مکمل ہونا تھا اور معاہدے میں طے پایا تھا کہ اضافی رقم اقساط میں ادا کی جائے گی اور کنٹریکٹر کی کارکردگی اطمینان بخش ہوگی تب اگلی قسط جاری کی جائے گی عدم اطمینان کی صورت میں قسط روک لی جائے گی۔ مگر مقررہ مدت میں پہلا یونٹ مکمل نہ ہوسکا اس کے باوجود کام جاری رہا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ توسیعی منصوبہ پر چین اور جرمنی کی دو کمپنیاںکام کر رہی ہیں۔ واپڈا کے ترجمان کے مطابق اس مسئلے کو جلد دورکرلیاجائے گا جبکہ منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے کا عمل بھی متاثر نہیں ہوگا۔ خامی کی نشاندہی کی جاچکی ہے اسے دور کرنا سول کنٹریکٹر کی ذمہ داری ہے۔ منصوبے کے پہلے یونٹ سے شیڈول کے مطابق بجلی پیداوار شروع ہوجائے گی۔ اس وقت منصوبہ کے الیکٹریکل اور میکنیکل آلات کے مختلف ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں جن کی تکمیل پر فروری کے آخری ہفتے میں پہلا یونٹ بجلی شروع کرد ے گا جبکہ وزیر اعظم مارچ کے دوسرے ہفتے میں منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے اہم منصوبے میں جو ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کیوں اتنی کمزوریاں پیدا ہوئیں ‘ کیا یہ جلد بازی کا نتیجہ ہے کہ منصوبے کی تکمیل کی اصل مدت کو بغیر سوچے سمجھے کم کرکے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمزوری چھوڑنے کی غلطی کا ارتکاب کیاگیا۔ یا پھر جس طرح کہ خبر سے پتہ چلتا ہے ناقص میٹریل استعمال کرکے کمزوریاں چھوڑی گئیں۔ کچھ بھی ہو یہ صورتحال خاصی تشویشناک ہے اور اگر جلد بازی میں اس پر قابو پانے کی کوشش کربھی لی جائے تب بھی اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آنے والے دنوں میں اس منصوبے میں دوبارہ لیکج پیدا نہیں ہوگی۔
بی آر ٹی منصوبہ ۔۔یوٹرن کی بندش
ناظم کونسلرز اتحاد کے صدر نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ بی آر ٹی کے باعث ممکنہ طور پر ختم کئے جانے والے گلبہار یوٹرن کو بحال رکھا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے گلبہار‘ شاہین مسلم ٹائون‘ گنج اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے اگر یوٹرن ختم کیاگیا تو بھرپور احتجاج کیاجائے گا۔ اس سے پہلے گلبہار یوسی 9اور10 کے وفد نے ضلع ناظم پشاور محمد عاصم سے گزشتہ روز ملاقات کرکے ارباب سکندر فلائی اوور کے نیچے اور اس سے آگے یوٹرن ختم کرنے پر شدید تحفظات کااظہار کیا تھا جبکہ ضلع ناظم نے وفد کو یقین دلایا کہ اس مسئلے سے صوبائی حکومت اور ڈائریکٹر پی ڈی اے سے رابطہ کرکے تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔جہاں تک بی آر ٹی منصوبے میں ارباب سکندر فلائی اوور کے نیچے یوٹرنز کی بندش کا تعلق ہے تو منصوبہ سازوں کو پہلے ہی اس مشکل کا احساس ہوجانا چاہئے تھا مگر شنید یہ ہے کہ جلد بازی میں منصوبے کی کھدائی کے بعد احساس ہونے پر جو پائلرز تعمیر کئے جانے کے لئے ابتدائی تیاریاں کی گئی تھیں اور جن پر بھاری اخراجات بھی کئے گئے اب ان کو بند کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے جہاں قومی خزانے کو نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے وہاں یوٹرنز بند کرکے عوام کو آنے والے دنوں میں مشکلات سے دو چار کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور موجودہ یوٹنرز کی جگہ ہشتنگری میں چاچا یونس پارک جبکہ دوسری جانب حاجی کیمپ اڈے کے پاس یوٹرن دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو ایک سڑک سے دوسری پر آنے جانے کے لئے اتنی طویل مسافت طے کرنا پڑے گی جو عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔ اس سے گلبہار کے قریب مرکزی سڑک پر ٹریفک کا بہائو بھی بری طرح متاثر ہوگا۔ اس لئے جو وفود اس سلسلے میں ملاقاتیں کر رہے ہیں انہیں کوئی نئی حکمت عملی اختیار کرکے ہی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اداریہ