Daily Mashriq


یہ بھی کوئی حجا ب ہے

یہ بھی کوئی حجا ب ہے

سینٹ کے الیکشن قریب تر ہو تے جارہے ہیں ایسے میں پلس مائنس کا کھیل بھی جا ری وساری ہے۔ ایم کیو ایم میں ڈبل مائنس ہو گیا کہا جار ہا ہے کہ ایم کیو ایم بکھر گئی ہے۔ کیسے بکھری اور کس نے بکھیرا یہ باتیں اس مو قع کی نہیں ہیں تاہم برقی اور ورقی ذرائع ابلا غ کا ڈھنڈور ا ہے کہ ایم کیو ایم پی آئی بی کا لو نی اور بہا در آبا د کے حلقو ں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ یہ بات تو اس حد تک ٹھیک ہے کہ آنکھ کی پتلی کو بظاہر ایسا ہی منظر دکھا یا جارہاہے مگر اصلی پلس مائنس گروپ دبئی میں ہے جس کے بار ے میں یقین ہے کہ بہادر آباد گروپ کو وہی بڑھا رہا ہے۔پرویز مشرف کی جب احمد رضا قصوری سے قربت تھی تو اس وقت وہ مشرف کی وکالت ہی نہیں کیا کر تے تھے بلکہ ان کی سیا سی ساکھ کی بڑھوتری بھی کر تے تھے چنا نچہ ایم کیو ایم کے سینیٹرفروغ نسیم نے احمد رضا خان کی کا وشو ں پر پر ویز مشرف کا مقدمہ اپنے ہا تھ میں لیا تھا ۔اس طرح پر ویز مشرف کو ایم کیو ایم میں براہ راست دخیل ہو نے کا موقع ملا تھا۔سمجھا یہ ہی جاتا تھا کہ الطاف حسین کی حرکتو ں کی وجہ سے ایم کیو ایم پر جو داغ لگا ہو ا ہے وہ پر ویز مشرف کی قیاد ت کی وجہ سے دھل جا ئے گا۔ جب الطاف حسین کو مائنس کیاگیا تو حالات کو سنبھالا دینے کی غر ض سے بہا در آبا د گر وپ نے ڈاکٹر فاروق ستارکی قیا دت کو اس لیے قبول کیا کہ ان کے ذریعے دامن نچو ڑا جا سکتا تھا۔ اس وقت بھی یہ تجو یز دی گئی کہ پر ویز مشرف کو قیادت سونپ دی جا ئے مگر ملک بھر میں پر ویز مشرف کو جس نظر سے دیکھاجا تا ہے اس بنا ء پر بات آگے نہ بڑھ پائی ۔ پا کستان میں اب الیکشن کا موسم شروع ہے یہ مو سم کہا ں تک کھلتا ہے یہ الگ بات ہے مگر سیاسی میلہ زورو ں پر ہے اور یہ ہی مناسب سمجھا جا رہاہے کہ خوف زدہ پر ویز مشرف جو پاکستان آنے کی ہمت کر نہیں پار ہا ہے اس کو بچاؤ کا راستہ کر اچی میں ہی مل سکتا ہے اور ایسا تب ہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک ایسی سیا سی جماعت میں ہو جو اسٹریٹ پا ور کی صلاحیت سے بھر پو ر ہو۔ یہا ں یہ سوال ہے کہ کیا پرویز مشرف ایم کیو ایم کی قیا دت سنبھا ل کر قومی لیڈر بن پائیں گے ، ایم کیو ایم میں ان کے چہیتو ں کا گما ن ہے کہ پر ویز مشرف کے آنے سے ایم کیو ایم پر جو یہ داغ لگایا جا تا ہے کہ وہ بھارت کی ایجنٹ ہے دھل جا ئے گا۔ ایم کیو ایم میں تو ڑ پھوڑ کا عمل جو دبئی سے کیا جا رہا ہے وہ اپنی جگہ لیکن ایک اور کھیل بھی بہت اہمیت کا حامل ہے وہ یہ ہے کہ عام انتخابات کے متو قع ہو نے سے پہلے سیا سی جماعتو ں میں پا رلیما نی سطح پر جو شکست وریخت کا عمل شروع ہو ا ہے یا کیا گیا ہے اس کے بہت دور رس نتائج نکل رہے ہیں۔ واضح ہو رہا ہے کہ کچھ پس پر دہ قوتیں سینٹ کے انتخابات میںمسلم لیگ ن کی اکثریت کو بلا ک کرنے کی غرض سے جو پارلیمان میں انجینئر نگ کر رہی ہیں اس میں ایک سیا سی جماعت کو فائد ہ پہنچا یا جا رہا ہے۔ بلو چستان اسمبلی میں پی پی کا ایک رکن اسمبلی نہیں ہے لیکن وہا ں جو حکومت کی تبدیلی کا کھیل ہو ا اس کے نتیجے میں اب پی پی کو وہاں سے کم سے کم ایک سینٹ کی نشست حاصل ہو جا ئے گی گویا پی پی کا مقتدر قو ت کے ساتھ این آر او ہو گیا ہے۔ ایم کیو ایم کے بکھرنے کے جو نتائج سامنے آرہے ہیں وہ بھی اس امر کا اغما ض ہیں کہ ایم کیو ایم کے نئے بحران سے پی پی کو سینٹ میں بھی فائد ہ مل جائے گا اور اگر عام انتخا بات کا انعقاد اپنے وقت پر ہو گیا تو پی ٹی آئی کو بھی سند ھ خا ص طور پر کراچی سے نشستیں حاصل ہو نے میں ایک حد تک کا میا بی مل جائے گی ۔ پی پی کے رہنما ء جب غیر سیا سی بیا ن دیتے ہیںتو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ان کو پو را حساب کتا ب مل گیا ہے اور وہ حساب کتا ب ہی کی روشنی میں اعدا د وشما ر گنو اتے ہیں۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ کو عینک لگا کر دیکھنا ہوگا گویا کسی بینا کو تاریخ دکھ نہیں رہی ہے ، سینٹ کے الیکشن کے مو قع پر جو تو ڑپھو ڑ جاری ہے مثلا ًکے پی کے میں بھی اس کے آثار نظر آرہے ہیں قومی وطن پارٹی کی کے پی کے اسمبلی میں دس نشستیں تھیں اب وہ سات رہ گئیں ہیںظاہر ہے کہ ما ضی بعید اور قریب میں پی ٹی آئی نے قومی وطن پا رٹی کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اس میں ان دونوں جما عتو ں کا یکجا ہو نا مشکل ہی نہیںنا ممکن بھی ہے اور اگر ہا تھ ملا ئی رسم کوئی ہو سکتی ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہی کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے یا پھر جے یو آئی کے ساتھ ان دونو ں صورتو ں میں پی پی اور تحریک انصاف کے لیے گھٹاہے تاہم جو تین ارکان قومی وطن پارٹی سے ٹوٹے ہیں اس کا فائد ہ پی ٹی آئی اور پی پی کے کھاتے میں جا رہا ہے ۔ محولہ بالا حا لا ت و واقعا ت کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ تو ڑ پھوڑ جا ری رہی تو اس سوچ کو دھچکا لگے جن کا خیال ہے کہ سینٹ کے انتخابا ت کے بعد مسلم لیگ ن کو یہ حیثیت حاصل ہو جا ئے گی کہ وہ آئین میں اپنی خواہش کے مطابق ترمیم لا سکے گی اور اس بات کا مکا ن بڑھ جائے گاکہ نو از شریف کو چوتھی مر تبہ وزیر اعظم منتخب کیا جا سکے گا ۔ لیکن نو از شریف پر اہلیت کی مد ت کی تلو ا ر لٹکی نظر آرہی ہے۔ بہر حال اگر جو ڑ تو ڑ کا یہ تانا بانا چلتا رہا تو سینٹ میں مسلم لیگ ن کو خسار ے کا سامنا کر نا پڑ جائے گا۔ اب پی پی کے سربراہ آصف زرداری بھی فرما رہے ہیں کہ آئند ہ پارلیمنٹ لٹکتی جھٹکتی آئے گی جس کو انگریزی میںہنگ پارلیمنٹ کہاجا تا ہے۔ وہ یہ بھی ارشاد فرما رہے ہیں کہ مخلو ط حکو مت بنے گی اورپی پی اس پو زیشن میں ہو گی کہ وہ کسی جما عت کے ساتھ مخلو ط حکومت بنا لے گی اس کو بلی کے خواب میں چھچھڑ تو نہیںکہا جا سکتا مگر حالات وواقعات دوسرے حقائق کے حامل ہیں جس کی ایک واضح تصویر لو دھراں کے ضمنی انتخاب نے کھینچ دی ہے جہا ں یہ کہنا کہ تحریک انصاف کو شکست ہوئی ہے اتنا درست نہیں بلکہ نتیجہ یہ کہہ رہا ہے کہ ایسے میں نواز شریف کے ووٹو ں میں اضافہ ہی ہو تا جارہا ہے۔یہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑی چوٹ ہے ۔ اگر یہ ہی صورت حال رہی تو مقتدر قوتو ں کے باؤنسر سلپ پر پھسلتے رہیں گے اور مسلم لیگ ن کے چوکے چھکے بڑھتے رہیں گے ۔

متعلقہ خبریں