Daily Mashriq


پھر کبھی،پھر کبھی نہیں آتا

پھر کبھی،پھر کبھی نہیں آتا

پھر کبھی ،کبھی نہیں آتا اس لئے کوئی وعدہ نبھاتے وقت کوئی قسم پوری کرتے وقت یاکسی اہم کام کو نپٹاتے وقت پھر کبھی کا لفظ زبان پر نہیں لانا چاہئے کسی اہم کام کو پھر کسی وقت پر ٹالنے کی بجائے جب اور جیسے ہی موقع ملے اسے پورا کرلینا ضروری ہوتا ہے اور اگر خدا ناخواستہ آپ کسی کام کو انجام تک پہنچانے کی بجائے پھر کبھی پھر کبھی کرتے رہ جائیں تو کسی سیانے کی یہ بات بھول کر بھی نہ بھولیں کہ پھر کبھی، پھر کبھی نہیں آتا۔ اپنے تعلیمی سفر کے ابتدائی دنوں ہم نے یہی بات کسی اور انداز میں پڑھ رکھی تھی کہ’’ آج کاکام کل پر نہ چھوڑو‘‘۔ جب اور جیسے ہی موقع ملے آج کا کام آج ہی ختم کرکے دم لو ، ہر کام کو فوراً ختم کرکے دونوں ہاتھوں کو تالی بجانے کے سے انداز میں جھاڑ کر فارغ ہوجاؤ۔ بڑا سکون ملتا ہے ایسا کرنے سے سارے تفکرات یکلخت ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات کام فوراً ختم کردینے والے ’’کام کام کام اور بس کام‘‘ جیسے فرمودہ قائد پر عمل کرکے ایک کام کے بعد دوسرا کام شروع کرنے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں ا ور نصیب دشمناں جو لوگ کام کرتے کرتے تھک جاتے ہیں یا سستانے لگتے ہیں وہ گھڑی بھر آرام کرنے کی غرض سے سستاتے ہیں اور کبھی کبھی لمبی تان کر سوجایا بھی کرتے ہیں۔ اس خرگوش کی مانند جوکچھوے کے ساتھ ریس لگانے کے بعد لمبی تان کر سو گیا تھا۔ایسے لوگوں کو لوگ نیند کے ماتے کہتے ہیں۔ سست، کاہل، آرام طلب اور جانے اس قسم کے کتنے خطابات سے نوازا جاتا ہے انہیں۔ اور کہنے والے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے۔ معاف کیجئے گا ، یہاں کھوتا سے مراد گدھا ہر گز نہیں۔ کیونکہ گدھے انسان کے سدھائے ہوئے اس جانور کو کہتے ہیں جس کا تعلق گھوڑے، خچر، ٹٹو اور زیبرے کے خاندان سے ہے لیکن بوجھ اٹھانے کے علاوہ، مال برداری، گدھا گاڑیوں کو کھینچنے، ہل اور رہٹ چلانے کے کام بھی آتا ہے ، ۔ اس حوالے سے وہ تھک کر سوجانے والوں سے کہیں بہتر ہے کہ سر جھکا کر اپنے کام میں جتا رہتا ہے۔ یہ الگ بات کہ کبھی کبھی دولتیاں بھی جھاڑ دیتا ہے۔ گدھا گاڑیوں کے لئے ضروری نہیں کہ انہیں گدھے ہی کھینچیں ۔ آج کل گھوڑے یا گھوڑیاں بھی یہ خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن وہ جس گاڑی کو کھینچتی ہیں وہ گدھا گاڑی ہی کہلاتی ہیں اور پشاور شہر کی گنجان آباد سڑکوں کی ٹریفک کو جام کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں ۔ اللہ کی عاجز مخلوق ہے ۔ ہم نے چند گدھوں کو مٹی میں لوٹتے پوٹتے یا اپنے آپ کو روندتے دیکھا تو اقبال کے اس شعر کی سمجھ آگئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے

بات پھر کبھی ، پھر کبھی نہیں آتا کے موضوع پر کرنا چاہتا تھا لیکن اڑیل گھوڑے کی طرح ٹریک بدل کر جاپہنچی گدھوں کے مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے تک ، گدھے ایسا کیوں کرتے ہیں اس کے بارے میں تو گھوڑوں یا گدھوں کے ڈاکٹر ہی کچھ بتا سکتے ہیں ۔ اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر عرض کرچکا ہوںکہ گدھے گھوڑوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ گدھوں کو بھولا باچھا سمجھا جاتا ہے جب کہ گھوڑوں کو سمجھدار جانور کہا جاتا ہے۔ گدھے بے چارے سستے داموں بک جاتے ہیں جب کہ گھوڑے بہت مہنگے بکتے ہیں ۔ گھوڑوں کو خریدنے کے شوق میں پہلے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، اس کے بعد منی لانڈرنگ کی جاتی ہے تب جاکر گھوڑے خریدے جاسکتے ہیں ۔ گھوڑوں کی قیمت کا تعین ان کی نسل اور صلاحیتوں کو دیکھ کر کیا جاتا ہے ۔ گھوڑے اپنے مالک سے وفاداری بشرط استواری نبھانے میںبھی اپنی مثال آپ ثابت ہوتے ہیں ۔ گھوڑے پر سواری کرنے والا بادشاہ نہ بھی ہو تب بھی اسے شہسوار ہی کہا جاتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک شہسوار اپنے گھوڑے سے گر گیا ۔ تو اس کا گھوڑا اسے اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔ یہ الگ بات کہ وہ اسے انسانوں کے ڈاکٹر کی بجائے گھوڑوں کے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا۔ ہمارے ہاں کے زردار اپنے گھوڑوں کو مربعہ کھلانے میں بڑی شہرت رکھتے ہیں ۔گھوڑوں کی طاقت کا اندازہ مشینری میں استعمال ہونے والی ہارس پاوریونٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ گھوڑوں کی تجارت کو انگریزی زبان میں ہارس ٹریڈنگ کہتے ہیں اور الیکشن کے دنوں میں ہارس ٹریڈنگ کا کاروبار اپنے عروج پر پہنچ جاتاہے۔ آج کل سینٹ کے الیکشن کا سیزن ہے اور ہارس ٹریڈنگ کے بازار میں دھڑا دھڑ گھوڑوں کی خریدو فروخت ہورہی ہے۔ جو پہلے آئے گا وہ پہلے پائے گا کے مصداق گھوڑوں کی مارکیٹ میں پھر کبھی پھر کبھی کہنے والے یا سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرنے والے اچھی نسل کے گھوڑے خریدنے سے رہ جائیں گے اور یوں ان کے گھوڑے وفاداری بشرط استواری کی شرط پوری کرتے ہوئے انہیں گھوڑوں کے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے۔ یہ جو پشاور میں بے وقت شروع ہونے والا بس ریپڈٹرانزکشن کا منصوبہ ہے یہ بھی پھر کبھی پھر کبھی کا شکار ہونے کی وجہ سے عین گھوڑوں کی خریداری کے سیزن میں شروع ہوا کاش دھرنوں کی سیاست کرنے والے چہروں پر سجے چہرے نوچنے کی بجائے عوامی بہبود کے منصوبوں کو پھر کبھی کے لئے نہ ٹالتے تو آج انہیں لودھراں میں شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا، کیونکہ پھر کبھی ، پھر کبھی نہیں آتا۔

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

متعلقہ خبریں