ناسور

ناسور

ہمیں بحیثیت قوم بہت اہم کام کرنے تھے لیکن ہم عجب ہی کاموں میں الجھے ہیں۔ ہمیں اپنی سمت درست کرنا تھی ‘ ہم غربت درست کرنے میں الجھے رہے۔ ہمیں اپنے لئے اصول تلاش کرنے تھے ہم شخصیت پرستی کے بھنور میں الجھے رہے۔ ہمیں منزل تلاش کرنی تھی اور ہم پل پل زندگی گزارنے کی جستجو سے نبرد آزما رہے۔ جانے کبھی یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ اصل کام کریں‘ وہ کام جو کرنے کے ہیں‘ سنگ میل گنتے رہنے میں بھلا کونسی حکمت ہوگی۔ میں سوچتی رہتی ہوں کہ بحیثیت قوم ہم سے کہاں غلطی ہوگئی۔ آج بھی صبح یہی خیال ذہن پر سوار رہا۔ جب جب میڈیا مجھے بتاتا ہے کہ ملک میں جرائم کیسے بڑھ گئے ہیں۔ اقدار کیسے مٹ رہی ہیں ‘ لوگوں میں غربت کس قدر بڑھتی جا رہی ہے اور ڈاکو لٹیرے سیاستدان کیسے منہ زور ہوئے جاتے ہیں یہ سوال ہم میں سے اکثر کے ذہنوں کے کواڑوں پر دستک دیتا ہی رہتا ہے۔ کہاں غلطی ہوگئی! کونسا موڑ غلط مڑ گئے؟ کبھی ایک جانب سے کوئی خیال ابھرتا ہے ‘ کبھی دوسری جانب سے دبی ہوئی آواز آتی ہے مگر اصل جواب نہیں ملتا۔ کیسے ملے ان پڑھوں کی قوم کو اپنے مسائل کے جواب ملا ہی نہیں کرتے کیونکہ دعویٰ مسلمانی ہو تو پھر بصارت نہیں بصیرت کام کیا کرتی ہے اور بصیرت کیسے باقی رہے کہ حکم تو ہے کہ ’’پڑھ‘‘ اور پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے تاکہ پروردگار درست دیکھنے اور سمجھنے کا فیض بھی ساتھ عطا کرے اور یہاں تو کوئی پڑھتا ہی نہیں۔ ہم ترقی پسند جو ہوگئے ہیں۔ یہ پریشانی کھائے جاتی ہے کہ کیسے اپنے گھن کھائے وجودوں کو سونے کا پانی چڑھا کر لوگوں کی نگاہوں میں خوبصورت بنا لیں اور بس اس سے آگے کوئی نہ کچھ پوچھے نہ کہے۔ اذان ہوتی ہے تو خود اپنے اندر کی آواز سے نظر چرا کر اپنے کاموں میں گم ہو جاتے ہیں حالانکہ پانچ منٹ تو ہم صوفے پر بیٹھ کر‘ کرسی کے ساتھ کھڑے ہو کر‘ کبھی یونہی سر کھجاتے ضائع کردیتے ہیں۔ پریشانی بس اس بات کی ہے کہ پڑھا نہیں تو معلوم ہی نہیں کہ جب زندگی کا بوجھ دل پر زیادہ ہو جائے تو پیشانی مالک کے حضور زمین پر رکھ دینے سے کیسی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ دو آنسو بہا لیں تو روح یوں مضبوط ہو جاتی ہے جیسے ساری دنیا کا مقابلہ کرسکتی ہو۔ اس ملک میں رہتے ہوئے ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے کبھی اپنے مستقبل کی فکر نہیں کی۔ کبھی کچھ بھی سوچ کر ‘ سمجھ کر اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی کوشش نہیں کی۔ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ ہم جانتے نہیں چیزوں کے اصل کو سمجھتے نہیں کیونکہ ہم پڑھ نہیں سکتے۔ ہم اپنا اصل بھول گئے ہیں اور اس کے بھول جانے میں ہر ایک بات کی روح ہماری سوچ سے پرواز کر گئی ہے۔ جیسے ہی کوئی وزیر اپنے اندر کا تمام لالچ‘ تمام بے ایمانی اور کم علمی‘ ترقی کا لبادہ اوڑھا کر ہمارے سامنے آکر بیٹھتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے لئے تو وہی اچھے ہیں جنہیں بد عنوانی کے جرم میں نکالا گیا کیونکہ اگر وہ اصول پامال نہ کریں تو میرا یا آپ کا نالائق آٹھویں فیل بیٹا کسی اچھی نوکری پر نہیں لگ سکتا‘ کوئی گردن میں سریا رکھنے والا بیورو کریٹ اقبال کے آشیانے کے نام کو پامال نہیں کرسکتا اور اس میں حصہ داری پھر وصول نہ کی جاسکے گی۔ ہم اپنے اپنے گناہوں اور خواہشات کی پوٹلیوں کے منہ کھول کر ان میں سے اپنی پسندیدگی کی مہریں نکال لاتے ہیں اور ان کے انتخابی نشان کچھ بھی ہوں ان کے عزائم کیسے بھی ہوں‘ ان پر اثبات کی مہریں لگاتے ہیں۔ ہم بھول ہی جاتے ہیں کہ ایسے حکمران سی پیک کے نام کا جھانسا لے کر آئے تو ہمارے بچوں کی کھانسی ٹی بی اور کینسر میں بدل جاتی ہے اور جب ماحولیاتی آلودگی سے پہاڑوں کی صدیوں کی جمی برف پگھلے گی تو اس میں ہماری ایک ایک روٹی بہہ جائے گی۔ یہ اپنے اپنے گِدھوں کے پروں پر سوار ہو کر کسی اور دیس چلے جائیں گے۔اس غربت‘ کسمپرسی اور نہ جاننے کے دلدل میں ہماری لاشیں پڑی گلتی سڑتی رہیں گی۔ ہمارے بچوں کے سوکھے کے مارے مدقوق جسموں میں سے سانس بھی پوری طرح نہ نکلے گی اور ان کے بچوں کے ہاتھوں میں سونے کے سکے بڑھتے جائیں گے۔ لیکن ہم یہ سب برداشت کرتے ہیں اور مزید بھی کرتے رہیں گے کیونکہ ہم ڈاکٹر فاسٹس (Doctor Faustus)کی طرح اپنی روحیں ان شیطانوں کو بیچ چکے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ڈاکٹر فاسٹس نے یہ سودا علم کے لئے کیا تھا اور ہم نے لا علمی کے لئے کیا ہے۔ ڈاکٹر فاسٹس کہتا ہے کہ ’’ وہ بے وقوف جو زمین پر ہنستے ہیں‘ جہنم میں روتے ہیں‘‘۔ لیکن ہم تو وہ کمال قوم ہیں جنہوں نے خود اپنی مرضی سے اس دنیا میں بھی اپنے لئے آنسو منتخب کر رکھے ہیں اور انہی حکمرانوں کو خود اپنے لئے پسند کرنے پر ہم بعد میں بھی جوابدہ ہوں گے۔ ہم لودھراں کو روتے ہیں اور یہاں وہ جسے خود جواب دہ ہونا ہے وہ انصاف کی کرسی پر بیٹھے لوگوں کی خدا کو جواب دہی کے مکر لوگوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں یہ عجب گورکھ دھندہ ہے۔ یہ جہنم ہمارے اندر ہے اور ہمیں اس میں جلتے ہی رہنا ہے کیونکہ اس کا انتخاب ہم اپنے لئے خود ہی کررہے ہیں۔ آج بھی کل بھی اور اس کے بعد بھی یہ ہمارا ہی فیصلہ ہے لیکن ہم ایسے اندھے کیوں ہوگئے بس یہی سوال روح کا ناسور بن گیاہے۔

اداریہ