گلبہار کے گنج ہائے گراں مایہ

گلبہار کے گنج ہائے گراں مایہ

گلبہار کالونی کے حوالے سے چھپنے والے کالم میں جو 13فروری کی اشاعت میں شامل تھا چند اہم نام سہواً رہ گئے تھے جس کی جانب ہمدم دیرینہ دوست نے توجہ دلائی۔ سب سے پہلے تو یار طرحدار سید شکیل احمد کو ہی لے لیں ان سے لگ بھگ 1966ء سے میرا صحافتی تعلق ہے اور وہ بھی ایک طویل عرصے سے گلبہار میں رہائش پذیر ہیں۔ مقامی اہم اخبارات کے علاوہ ملکی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کے اخبارات سے ان کی وابستگی اور صحافتی تنظیموں میں فعال کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔ سید صاحب ایک عرصے تک مولانا سعید الدین شیرکوٹی روڈ کے سنگم پر واقع پارک میں چند بزرگ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ملکی سیاسی حالات پر بحث مباحثے کرتے تھے۔ خود سید شکیل احمد نے اپنے ایک کالم میں انہیں گلبہار کے بابے قرار دیا تھا۔ انہی میں ایک اور صحافی منظور احمد خان شیروانی بھی ہوتے تھے جن سے میری بھی پرانی یاد اللہ تھی۔ وہ اپنے والد گرامی رحمت اللہ شیروانی کے ترکے میں چھوڑے ہوئے ہفت روزہ اخبار قلندر کو ایک عرصے تک جاری رکھے ہوئے تھے۔ رحمت اللہ شیروانی نے ہی گلبہار کے ابتدائی ایام میں پلاٹ قسطوں پر حاصل کرکے گھر تعمیر کروایا تھا جہاں اب ان کے پوتے رہائش پذیر ہیں۔ رحمت اللہ شیروانی نے قیام پاکستان سے پہلے اخبار پیام بھی جاری کیا تھا اور خود مشہور زمانہ اخبار زمیندار میں کام کرتے رہے یوں وہ مولاناظفر علی خان کے دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے۔ رحمت اللہ خان شیروانی سے میری چند ملاقاتیں ایک اور اہم صحافی سید حسن گیلانی مرحوم کے اخبار روزنامہ الجمعیت سرحد کے دفتر واقع چکہ گلی کریم پورہ میں ہوئی تھیں جبکہ ان کی رحلت کے بعد ان کے برخوردار مرحوم منظور احمد خان شیروانی سے الجمعیت ہی کے دفتر میں سالہا سال تک ملاقاتیں ہوتی رہیں اور جب خود میں گلبہار اٹھ آیا تو یہاں بھی اکثر آمنا سامنا ہوجاتا۔ ادھر سید حسن گیلانی بھی جو صحافت کے میدان میں میرے مہربان تھے آخری عمر میں وہ بھی اپنے برخوردار سید علی گیلانی کے ساتھ گلبہار ہی شفٹ ہوگئے تھے اور ان کا جسد خاکی یہیں سے اٹھایاگیا۔ ان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں ۔گزشتہ کالم میں استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر الٰہی بخش اختر اعوان کاذکر بھی رہ گیا تھا۔ بنیادی طور پر تو وہ محلہ عطائی خان ڈبگری کے رہائشی تھے مگر پھر وہ بھی گلبہار اٹھ آئے تھے۔ کالج کے زمانے میں ان سے اردو زبان و ادب سیکھتے رہے اور خصوصاً شاعری اور نثر نگاری کے اسرار و رموز ہم نے ان سے بھی سیکھے۔ تاہم پھر وہ انگلستان منتقل ہوگئے اور وہیں مدفون ہوئے۔ اسی طرح ٹی وی کے ایک اہم فنکار عزیز ناصر جورشتے میں میرے ماموں تھے کہ میری والدہ کے چچازاد بھائی تھے تاہم عمر میں مجھ سے دو چار سال چھوٹے اور میرے بچپن کے دوست تھے۔ وہ بھی لگ بھگ پندرہ سولہ سال پہلے جاوید ٹائون میں گھر بنا کر آبائی علاقے سے یہاں شفٹ ہوگئے تھے مگر ان کی زندگی نے وفا نہ کی اور 2010ء میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ ہمارے ایک اور دوست رئیس بیگ جو ہمارے کالج کے پروفیسر محمد ابراہیم بیگ کے برادر خورد ہیں اور ریڈیو کے صداکار کی حیثیت سے طویل عرصہ ریڈیو ڈراموں میں کام کرتے رہے وہ بھی اپنے بھائی کے ساتھ میری گلبہار آمد سے پہلے رشید ٹائون میں قیام پذیر تھے۔ وہ ہماری ادبی تنظیم ینگ تھنکرز فورم کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے سرگرم تھے جبکہ یو این ایچ سی آر میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ بعد میں پہلے وہ حیات آباد اور اب چند برس سے اسلام آباد شفت ہوچکے ہیں۔ ریڈیو سے یاد آیا کہ لکی ڈھیری روڈ گلبہار کی شادمان سٹریٹ میں ناصر علی سید کے گھر کے قریب میرے ریڈیو کے ایک انجینئر ساتھی عبدالرئوف درانی بھی رہائش پذیر ہیں وہ کنٹرولر انجینئرنگ کی حیثیت سے ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں مگر ان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بر صغیر کی قدیم موسیقی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور انڈین و پاکستانی قدیم فلمی نغموں کے بارے میں بیش بہا معلومات رکھتے ہیں۔اسی طرح ہندکو اکیڈیمی کے دو اہم افراد جن میں ایک تو تنظیم کے وائس چیئر مین ڈاکٹر صلاح الدین (کالم نگار) اور دوسرے اسی ادارے کے جنرل سیکرٹری ضیاء الدین بھی اسی کالونی میں رہائش پذیر ہیں۔اس ضمن میں ایک انتہائی اہم نام مرحوم ناز سیٹھی کا بھی ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک مرحوم خاطر غزنوی کے گھر کی پشت والی گلی میں رہائش پذیررہے۔ وہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں ایک اہم پوسٹ پر ملازمت کرتے رہے اور اس حوالے سے شہر کے صحافیوں جبکہ خود اردو‘ فارسی اور ہندکو زبان کے شاعر ہونے کے ناتے اہل ادب سے ان کے گہرے تعلقات رہے۔ ایک طویل عرصے تک وہ بزم بہار ادب کے نام سے ایک ادبی تنظیم چلاتے رہے۔ شعبہ موسیقی سے دو اور بھائی اقبال اعوان اور کفیل اعوان نے بھی بہت عرصہ پہلے ہشتنگری کے آبائی علاقے محلہ عطائی خان سے اٹھ کر گلبہار میں رہائش اختیار کی۔ جبکہ محقق ابراہیم ضیاء بھی کچھ عرصہ پہلے یہاں شفٹ ہوگئے ہیں۔ وہ اہم کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس تبصرے میں شاید اب بھی کچھ نام رہ گئے ہوں جس کی وجہ میری ناقص معلومات ہوں۔ سو اگر کسی کا تبصرہ رہ گیا ہو تو معذرت قبول کرنے کی درخواست کروں گا۔ مرنے والوں کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اولئیم!
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے؟

اداریہ