کسان کے چار روپے

کسان کے چار روپے

پڑھنا لکھنا ایک حساس کام ہے اس کے لیے خاموشی اور یکسوئی بہت ضروری ہوتی ہے خیالات کی مثال دریا میں تیرنے والی مچھلیوں جیسی ہوتی ہے۔ کب کوئی مچھلی شکار کر لی جائے اور کب کوئی مچھلی ہاتھ میں آنے کے باوجود پھسل کر پھر دریا میں جا گرے۔ ہمیں نہ تو خاموشی میسر ہے اور نہ ہی یکسوئی جہاں بیٹھ کر ہم لکھتے ہیں وہ ایک ایسا کمرہ ہے جس کے پہلو سے ایک گلی گزرتی ہے۔ ہم اپنا لیپ ٹاپ آن کرتے ہیں لکھنے سے پہلے کچھ دعائیں پڑھتے ہیں تاکہ قلم روانی سے چلتا رہے۔ دراصل لکھنا لکھانا ایک ایسا شغل یا کام ہے جو سیکھا نہیں جاسکتا بس اس کی مثال یوں ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو دریا میں گرا کر ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیے۔ اگر نصیب نے یاوری کی تو کنارے تک پہنچ ہی جائیں گے اور اگر ستارے کھوٹے ہوئے تو چند ہاتھ مارتے ہی سانس پھول جائے گا اور آپ کو بہ امر مجبوری واپس لوٹنا پڑے گا۔ جہاں تک خاموشی اور یکسوئی کا تعلق ہے تو وہ شاید ہمیں کبھی بھی میسر نہیں ہوسکتی ۔ ادھر ہم کالم لکھنے بیٹھتے ہیں اور ادھر گلی میں سبزی والا آجاتا ہے۔ اس بیچارے کو اپنا سودا بیچنے کے لیے باآواز بلند نعرے لگا نے پڑتے ہیں نت نئے جملے ایجاد کرنے پڑتے ہیں اگر وہ کریلے بیچ رہا ہے تو ان کی اتنی خوبیاں گنوائے گا کہ جی چاہتا ہے کہ بندہ ساری عمر کریلے ہی کھاتا رہے۔ اس کی نعرہ بازی کا نقصان ہمیں یہ ہوتا ہے کہ ذہن میں آیا ہوا کوئی اچھوتا خیال کریلوں کے سنگ نو دو گیارہ ہوجاتا ہے۔سبزی والا جیسے ہی رخصت ہوتا ہے گلی میں چھولے بیچنے والا اپنے ٹھیلے کے ساتھ نمودار ہوجاتا ہے۔ اس کے آتے ہی بچوں کی فوج ظفر موج اس کی گاڑی پر ہلابول دیتی ہے۔ ہمیں اس شور شرابے میں ہی اپنے کالم کو ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑ دینا ہوتا ہے۔ ایک دن کے لیے لکھا اور پڑھا جانے والا کالم اگلے دن ردی کا حصہ بن جاتا ہے۔ کاغذ کے اس ٹکڑے سے جس پر ہمارا کالم بمع تصویر موجود ہوتا ہے کئی مرتبہ روٹیوں کی دکان پر ہماری ملاقات ہوتی ہے جب نانبائی ہمیں ہمارے ہی کالم میں روٹیاں لپیٹ کر دیتا ہے تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی ہے کہ ہم نے گلی کے شور شرابے کے باوجود کتنی محنت سے کچھ دیے روشن کرنے کی کوشش کی تھی کتنے خلوص سے اپنی پارسائیوں کے دعوے کرتے ہوئے لوگوں کو نصیحتیں کی تھیں جن کی وجہ سے اکثر دوست ہم سے ناراض ہی رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ نصیحت نہیں کرنی چاہیے بس اپنی بات کرتے چلے جائو لوگ خود ہی سمجھ جاتے ہیں انہیں جھنجھوڑنے جگانے کی ضرورت نہیںہے۔ لیکن ہمارا موقف یہ ہوتا ہے کہ کالم ہر طبقے کے افراد پڑھتے ہیں یہ نانبائی، حلوائی اور قصائی بھی پڑھتا ہے اس لیے زبان اتنی آسان ہونی چاہیے جو سب کی سمجھ میں آجائے۔ جو پڑھے لکھیں ہیں حالات حاضرہ پر جن کی نظر ہے جو قومی سیاست کو سمجھتے ہیں مطالعہ جن کی گھٹی میں پڑا ہے وہ تو کالم کو ایک نظر دیکھتے ہی سمجھ جاتے ہیں ہمارا انہیں نصیحت کرنا نہ کرنا ایک برابر ہے۔ سوتے ہوئوں کو تو آپ جگا سکتے ہیں لیکن جاگتے ہوئوں کو جگانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے اور صبح اٹھنے کو جی نہیں چاہتا تھا ماں جی صبح و سویر ے ہماری چارپائی کے پاس آکر کھڑی ہو جاتی اور ہمیں جگانے کے لیے ہمارا نام مسلسل پکارتی رہتیں کہ بیٹا اب اٹھ جائو نماز پڑھ لو لیکن ہم ان کی آوازسننے کے باوجود بستر سے نہ نکلتے ۔بعد میں ناشتہ کرتے ہوئے ہم کہتے کہ صبح آپ کی آواز ہی کان میں نہیں پڑی ورنہ ہم اٹھ جاتے تو ماں جی بڑی معنی خیز مسکراہٹ سے ہمیں کہتی کہ بیٹا سوئے ہوئے کو تو اٹھانا آسان ہے لیکن جاگتے ہوئے کو کون اٹھائے۔ ہماری قوم بھی جاگ رہی ہے عہد حا ضر کے تمام مسائل سے پوری طرح باخبر ہے ہمارے رہنما دنیا بھر کے دورے کرتے رہتے ہیں ترقی یافتہ ممالک کی جدید اور ترقی کرتی ہوئی زندگی کے ایک ایک پہلو سے واقف ہوتے ہیں وہ سب جانتے ہیں انہیں سب معلوم ہوتا ہے لیکن وہ اپنے ملک واپس آنے کے بعد وہاں دیکھی ہوئی چیزوں کو اپنے ملک میں رائج کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔ اگر کبھی آپ اس حوالے سے ان سے بات بھی کریں تو مسکرا کر خاموش ہوجاتے ہیں ۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے عوام انتخابات کے دنوں میں یہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں اور چند گرم جوش قسم کے نعروں کی وجہ سے اسی کو ووٹ دیتے ہیں جس نے دل کو درد دیا ہوتا ہے۔ ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ صرف سیاستدانوں کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے عوام بھی اس میں برابر کے قصور وار ہیں ۔ ان کی مثال اندھے سوداگروں جیسی ہے جو اپنا نفع نقصان نہیں سمجھتے۔ نفع نقصان پر یاد آیا کہ ایک مرتبہ ہندوستان کا بادشاہ قطب الدین ایبک شکار کرنے نکلا تو ایک کسان کو ہل چلاتے دیکھا۔ پوچھا دن میں کیا کماتے ہو۔چار روپے روزانہ کماتا ہوں ۔ کیسے خرچ کرتے ہو۔کسان نے کہا ایک روپیہ خود پر ، ایک قرض دیتا ہوں،ایک قرض واپس کرتا ہوں،اور ایک کنوئیں میں پھینک دیتا ہوں۔ ایبک حیران ہوا اور کہا میں سمجھا نہیں۔کسان نے کہا ایک روپیہ اپنے آپ پر اور بیوی پر خرچ کرتا ہوں،ایک اولاد پر تاکہ وہ بڑھاپے میں میری خدمت کریں،ایک بوڑھے ماں باپ پر جنہوں نے مجھ پر خرچ کیا تھا،اور ایک روپیہ خیرات کرتا ہوںجس کا اجر دنیا میں نہیں چاہتا۔کاش اتنی عقل ہم اس کسان سے ہی سیکھ سکتے ! ہمارے رہنمااپنے آپ اپنے بیوی بچوں پر تو خوب خرچ کرتے ہیں لیکن رعایا پر جو خرچ کرنے کا حق ہے وہ ان سے ادا نہیں ہوپاتا جس کے بارے میں ان سے رب کائنات ایک دن ضرور پوچھے گا!

اداریہ