مشرقیات

مشرقیات

855ھ تک خاندان سادات میں چار بادشاہ ہوئے‘ سب سے آخری بادشاہ سلطان علائوالدین بن محمد شاہ تھا۔ اس زمانے کے وزیر المالک کا نام حسام خاں تھا۔ وہ بادشاہ کو جب کبھی غلطی پر دیکھتا‘ اسے ٹوکتا۔ بادشاہ ناراض ہوتا مگر وہ کبھی پروانہ کرتا۔ وہ کسی بھی موقع اور حالات میں حق گوئی نہیںچھوڑتا تھا۔
بادشاہ850ھ میں بیانہ(اجمیر) کی طرف روانہ ہوا۔لائو لشکر ساتھ تھا‘ راستے میں کسی بد خواہ نے خبر اڑا دی کہ جونپور کا بادشاہ دہلی کی تسخیر کے لئے آرہا ہے‘ یہ خبر سراسر غلط تھی‘ کسی راوی کا پتہ نہ چلتا لیکن بادشاہ یہ خبر سنتے ہی واپس دہلی چلا آیا۔ وزیر المالک کو خبر ہوئی‘ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہا ایسی خبر دروغ پر اعتبار کرلینا اور مراجعت کرنا بادشاہوں کی شان کے خلاف ہے۔ دشمن پر آپ کی مراجعت کا یہ اثر ہوگا کہ وہ دلیر ہو جائے گا اور رعایا پر یہ اثر ہوگا کہ جو لوگ فتنہ پرواز اور شورش پسند ہیں وہ ہنگامہ آرائیوں کے لئے تیار ہو جائیں گے۔
بادشاہ نے وزیر المالک کو اس نصیحت پر جھڑک دیا لیکن اس نے پھر وہی دہرایا جس کو اس نے ملک اور خود بادشاہ کے لئے مفید سمجھا۔
دوسرے سال 851ھ میں بادشاہ بدایوں کی طرف گیا اور وزیر المالک ہمراہ نہ تھا‘ وہاں ایسا دل لگا کہ واپس آنے کا نام نہ لیا‘ وزیر نے کہا دارالسلطنت کو اس طرح آزاد چھوڑ دینا مناسب نہیںہے‘ خداوند کریم نے آپ پر بہت بڑا بوجھ ڈالا ہے‘ اگراسی طرح آپ عیش پرستی اور آرام طلبی میں رہے تو اس عظیم الشان بوجھ سے کس طرح سبکدوشی ہوگی۔
وزیر المالک کی نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس لئے کہ بعض ایسے امراء بھی وہاں موجود تھے جو بادشاہ کی کمزوری و حماقت اور اس کی عیش پرستیوں سے بے شمار فوائد حاصل کر رہے تھے۔ آخر بصد مشکل بادشاہ وہاں سے نکلا اور دہلی آیا‘ یہاں آتے ہی اس نے پھر بدایوں کا ارادہ کیا اور وزیر سے کہا کہ میں دارالخلافہ دہلی سے بدایوں بدلنا چاہتا ہوں۔
وزیر نے کہا بلا وجہ اور بلا عذر معقول دارالخلافہ بدلنے میں بہت بڑی قباحتیں ہیں‘ خلق خدا کو بڑی تکلیف پہنچتی ہے‘ لاکھوں اور کروڑوں روپے جو رعایا ہی کی ملکیت ہیں اور مال گزاری کے سبب خزانہ شاہی میں آگئے ہیں بے جا اور بے ضرورت خرچ ہو جاتے ہیں لیکن بادشاہ نے وزیر کی ایک بات نہ سنی بلکہ اسے عہدہ وزارت سے برطرف کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دکن‘ گجرات‘ مالوہ جونپور‘ بنگال سب جگہ بغاوتیں شروع ہوگئیں اور پنجاب میں ملک بہلول لودھی ایک افغان نے اپنی حکومت نواح دہلی تک پھیلائی۔ آخر855ھ میں بادشاہ علائو الدین نے ملک بہلول کو تخت دہلی اپنے ہاتھ سے سپرد کرکے بادشاہ دہلی بنایا اور خود بدایوں چلا گیا جہاں 882ھ میں بقضائے الٰہی فوت ہوگیا اور ملک بہلول سلطان بہلول لودھی کے نام سے دہلی کا بادشاہ تھا۔
(تاریخی واقعات)

اداریہ