Daily Mashriq

حزب اختلاف کے رہنمائوں کو نظر انداز کرنا قومی مصلحت نہیں

حزب اختلاف کے رہنمائوں کو نظر انداز کرنا قومی مصلحت نہیں

سعودی ولی عہد کے اعزاز میں عشائیہ میں حزب اختلاف کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ اس بناء پر حیران کن ہے کہ اولاً یہ کوئی سیاسی تقریب نہیں دوم یہ کہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کا حزب اختلاف کے اہم رہنمائوں کی جانب سے صریح الفاظ میں خیر مقدم اور اس پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے نیز اس موقع پر قومی رہنمائوں سے کسی ایسے کردار کی بھی توقع نہیں جو خدانخواستہ ملک وقوم یا پھر حکومت کیلئے خفت کا باعث بنے اس کے باوجود اس اہم اور بڑے موقع پر جمہوریت کے ایک ستون اور عوام کے نمائندوں کو مدعو نہ کرنا ناقابل فہم ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔سعودی ولی عہد جو معاہدے کرنے جارہے ہیں وہ سابقہ اور موجودہ حکومتوںہی سے تسلسل نہیں بلکہ آئندہ حکومت کا بھی اس میں کردار اہم ہوگا نیز ان معاہدوں کی کم سے کم مخالفت اور ایوان کو اس ضمن میں اعتماد میں لینے کیلئے بھی حزب اختلاف کو دعوت دینا ملکی مفاد کا تقاضا اور مصلحت ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور سعودی مہمانوں کا قومی سطح پر خیر مقدم کرنے کی فضا پیدا کی جائے گی۔

بلاوجہ کا خوف اور ردعمل

خیبر پختونخوا کی حکومت کا اعلیٰ ترین شخصیات کی جانب سے نیب کی جانب سے ڈائریکٹر آرکیالوجی ومیوزیم کی گرفتاری بارے وزیراعظم سے شکایت اور وزیراعظم کی جانب سے مبینہ طور پر اس بارے متعلقہ حکام سے بات کرنے کا عندیہ نیب کی خودمختاری پر سوال ہے جسے خود وزیراعظم کئی مواقع پر آزاد اور خودمختار ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کے معاملات میں مداخلت کو دخل درمعقولات قرار دے چکے ہیں۔ جہاں تک ہتھکڑیوں کا سوال ہے اس ضمن میں اگر پنجاب میں معمر اور سینئراساتذہ کیساتھ اسی قسم کے سلوک پر اس وقت بھی اس طرح کے ردعمل کا اظہار ہوتا تو یہاں بھی اس کی گنجائش تھی۔ پنجاب میں سینئر صوبائی وزیر علیم خان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد حکمرانوں اور تحریک انصاف کے بطور جماعت نیب پر اٹھتی انگلیاں اور نیب کا احتساب کی بجائے ہراساں کرنے والے ادارے کے طور پر تذکرہ کسی طور مناسب نہیں۔ ہمیں نیب کی وکالت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، سول سوسائٹی اور میڈیا کی جانب سے ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم کی گرفتاری کے طریقۂ کار اور ہتھکڑی لگانے پر تنقید سے بھی اتفاق ہے لیکن حکومتی سطح پر اس ضمن میں ردعمل کی نہ گنجائش ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔ حکمرانوں کو اس واقعے سے خائف ہونا ازخود سوالات کا باعث ہے جہاں تک اس گرفتاری اور سلوک بارے سنجیدہ ردعمل کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ گرفتار ڈائریکٹر کے جج سے مکالمہ سے بہتر اس پر کوئی ردعمل ممکن ہی نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں یہ پیشکش کر کے کہ اگر ان پر الزام ثابت ہوجائے تو ان کو دوگنی سزا دی جائے بصورت دیگر ان کو ہراساں کرنے اور شہرت خراب کرنے پر نیب کے متعلقہ افسر سے پوچھ گچھ کی جائے۔ موصوف پر جو الزام ہے اسے چھوٹا بڑا اور اس سے صوبے میں افسران کے کام نہ کر سکنے کے عمل سے تعبیر کرنے کی بجائے اگر صوبائی حکومت میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنانے اور بھرتیوں کی تحقیقات کا خیرمقدم اور اس ضمن میں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ یقیناً نیب کی جانب سے کسی باعزت شخص پر اس وقت ہی ہاتھ ڈالنا مناسب اور قانونی ہوگا جب اس کے حوالے سے کافی شواہد سامنے آئیں۔ نیب کا اقدام درست ہے یا ڈائریکٹر آرکیالوجی اینڈ میوزیم کا چیلنج، عقدہ کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

ٹائون ون حکام کی احسن کارروائی

ٹائون ون کے رہائشی علاقے میں حکام کی جانب سے ایک شادی ہال اور بھینسوں کے باڑے کو سیل کرنے کا اقدام احسن اور سنجیدہ اقدام ہے جس سے شہریوں کا سکھ کا سانس لینا فطری امر ہے اس سے بڑھ کر یہ نفاذ قانون کا عملی مظاہرہ ہے جس کی عرصہ دراز سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ حکام کو شہری علاقوں میں قائم غیر قانونی نجی ہاسٹلز کے خلاف بھی اسی قسم کی سنجیدہ کارروائیاں کرنی چاہئیں جس کے باعث شہریوں کا سکون لٹ چکا ہے اور معاشرہ اخلاقی خرابیوں اور منشیات کی لعنت کی زد میں ہے۔معلوم نہیں کہ یہ ایک علاقے میں اس طرح کی نمائشی کارروائی رہتی ہے یا پھر بلاامتیاز شہر کے تمام علاقوں میں اس قسم کے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے شہریوں کی مشکلات کا تدارک کیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک تمام ٹائونز اور شہری علاقوں میں اس قسم کی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا عوام کو اطمینان میسر نہیں آئے گا قانون کے مکمل نفاذ اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ صوبائی دارالحکومت ہی کی سطح پر نہیں بلکہ پورے صوبے میں اور خاص طور پر بڑے شہروں میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر ہونے والی تمام تجارتی وکاروباری سرگرمیوں کے خاتمے اور روک تھام کے سخت اقدامات کیئے جائیں۔

متعلقہ خبریں