Daily Mashriq

قبائلی عوام کی توقعات پر پورا اُترنا امتحان سے کم نہیں

قبائلی عوام کی توقعات پر پورا اُترنا امتحان سے کم نہیں

وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا آمد پر صوبے کی تعمیر وترقی کیلئے نہ کسی برے پروگرام کا اعلان کیا نہ ہی اضافی وسائل دینے کی حامی بھری کم ازکم صوبے کے خالص منافع کے بقایاجات بارے بھی کوئی مزید یقین دہانی یا اس بارے کمیٹی کو ہی جلد سے جلد رپورٹ دینے کا عندیہ دیتے تو عوامی نقطۂ نظر سے یہ ایک گونہ اطمینان کی بات ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان صوبے کے کچھ ایسے معاملات طے کرانے آئے تھے جس کی بازگشت کچھ عرصے سے سنائی دے رہی تھی یا پھر فاٹا انضمام کے مراحل ومدارج بارے کچھ معاملات پر مکرر مشاورت ہوئی ہو، بظاہر وزیراعظم کی خیبر پختونخوا آمد کا مقصد قبائلی علاقوں کے عوام کیلئے صحت کارڈ کا اجراء تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں میں ترجیحی بنیاد پر ترقیاتی کاموں کا اعلان نہیں محض عندیہ دینے پر ہی اکتفاء کیا۔ پشاور میں قبائلی اضلاع کے عوام میں صحت انصاف کارڈ کی تقسیم سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غریب گھرانے کیلئے سب سے بڑی مشکل بیماری ہوتی ہے کیونکہ بیماری کے علاج میں ان کا سارا بجٹ ختم ہو جاتا ہے۔ صحت کارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہمارے پچھلے دور میں صحت کارڈ کا تجربہ بہت اچھا رہا تھا اور ہمارا ارادہ تھا کہ جب ہمارے پاس آئے تو سب سے پہلے قبائلی عوام میں یہ صحت کارڈ دینا ہے جس میں7لاکھ20ہزار کا ایک گھرانے کیلئے ہوگا اور مشکل وقت میں وہ قبائلی علاقے سے باہر بھی کسی بھی ہسپتال میں جا کر اپنا علاج کراسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں غربت کم کرنے کیلئے مکمل منصوبہ لیکر آرہے ہیں، صحت کارڈ اس کا ایک حصہ ہے، پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کا پروگرام نہیں آیا جس کا اعلان کروں گا جس میں غربت کو کم کرنے والے ادارے ایک ہی سربراہ کی سربراہی میں مل کر کام کریں گے۔ قبائلی علاقوں کو غربت کے خاتمے کے پروگرام سے فائدہ پہنچانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام جب آئے گا تو اسے سب سے پہلے قبائلی علاقوں میں لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ہمارا پروگرام صرف غربت کے خاتمے کا نہیں بلکہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام کریں گے اور اس کیلئے مرکز سے فنڈ جاری کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ہمیں سکول، ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز بنانے ہیں اور ہمارے وزراء نے دورے کئے ہیں اس لئے ہمیں معلوم ہے کہ ترقیاتی کام کہاں کرنے ہیں۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ بیماری کی تشخیص، علاج اور ادویات کے مہنگا ہونے کے باعث عوام الناس سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ان حالات میں حکومت کی طرف سے عوام کو مفت علاج کی فراہمی کسی نعمت سے کم نہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس کا تجربہ ضرور ہوچکا ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے والے کئی وجوہات کی بناء مطمئن نہیں بلکہ اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ صوبے میں جتنے افراد کو صحت کارڈ جاری کئے گئے تھے ان میں سے کتنے افراد نے اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا اور کتنا فائدہ اُٹھایا۔ جنہوں نے اس سہولت سے استفادہ نہ کیا اس کی وجوہات کیا تھیں۔ آیا ان کو اس کی ضرورت ہی نہ پڑی یا پھر دیگر وجوہات تھیں، جن لوگوں نے اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا ان کے تجربات اور اطمینان کا درجہ کیا تھا اور وہ اس سہولت کے انتظامات ومعاملات میں کس حد تک اور کیا کیا تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صحت انصاف کارڈ خواہ قبائلی علاقوں کے عوام کو دیئے جائیں یا دیگر علاقوں میں تقسیم کئے جائیں محولہ معاملات پر غور کر کے ان کوتاہیوں اور مشکلات کو دور کر کے اس کا اجراء کیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا، علاوہ ازیں چونکہ سابق حکومت نے بھی یہ سہولت بعض علاقے کے مکینوں کو فراہم کی تھی اور خیبر پختونخوا میں بھی صوبائی طور پر اس نوعیت کے پروگرام پر عملدرآمد ہوا تھا اس لئے دونوں پروگراموں کی خامیوں اور خرابیوں کا جائزہ لیکر طریقۂ کار میں تبدیلی لائی جاتی تو زیادہ مناسب ہوتا۔ اگرچہ صحت کارڈز کی تقسیم کا آغاز خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع سے کیا گیا لیکن یہ قبائلی علاقے کے عوام کیلئے خاص اقدامات کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اس کا محض عندیہ ہی ملا ہے جوکافی نہیں۔ قبائلی اضلاع کے عوام کے مسائل دیگر اضلاع کے مقابلے کہیں زیادہ اور پیچیدہ ہیں جن کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قبائلی عوام کو تبدیلی کا احساس دلایا جا سکے۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو موجودہ حکومت سے خاص طور پر توقعات ہیں جس کا تقاضا یہ ہے کہ وفاقی حکومت بھی ان توقعات کو سمجھے اور اس پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وفاقی حکومت مستقبل قریب میں خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع کی ترقی کیلئے خصوصی وسائل فراہم کرے گی اور قبائلی عوام کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے ثمرات سے عملی طور پر روشناس ہونے کا خوشگوار تجربہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں