Daily Mashriq

پلوامہ کا واقعہ،چند سوال

پلوامہ کا واقعہ،چند سوال

پلوامہ میں ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کا بظاہر کوئی قصور نہیں تھا لیکن اپنے ضمیر کے سامنے 'عالمی ضمیر کے سامنے ان کایہ جرم کم نہیں کہ وہ ایک ایسی ظالم انسانی مشین' بھارتی فوج' کا حصہ تھے جو نریندر مودی کی بی جے پی کی عملی سیاست کی محکوم ہے۔ ان ہلاک ہونے والے فوجیوں کے بھی بیوی بچے' عزیز رشتہ دار اور پیارے ہوں گے ' وہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ ان پر بھی آشکار ہو رہا ہو گا کہ جرم کی فصل بوئی جائے تو امن پیدا نہیںہوتا۔ اور جو لوگ ظالم کے سامنے مظلوم کا ساتھ دینے کے لیے آواز نہیںاٹھاتے ۔ جو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک نہیں کہتے یا ظالم کے تکبر کا سہارا لے کر اپنے ضمیر کی آواز کو بھلا دیتے ہیں ان کی آنکھیں کھولنے کا بندوبست قدرت کر دیتی ہے۔ انیس بیس سال کا نوجوان عادل ڈار اس کشمیری قوم کا نوجوان تھا جس پر آئے روز مودی کی بھارتی فوج گولیاں برساتی ہے۔ جن کے گھروں میں زبردستی گھس کر تلاشیاںلی جاتی ہیں۔ اس ماحول میں کسی ہائی سکول کے طالب علم عادل ڈار کا فدائی بن جانا انہونی بات نہیں۔ آزادی کی جدوجہد میں شہید ہونے والے کشمیریوں کی کئی لاکھ قبروں پر لگے ہوئے ان کے ناموں کے کتبے بھارتی وحشت کی شہادت دے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی کسی عالمی تنظیم 'کسی انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی ادارے نے ان کے علاج کی ذمہ داری محسوس نہیں کی۔ یہ سینکڑوں لوگ مودی فوج کی وحشت کی زندہ تاریخ ہیں۔ انہیں دیکھ کر کسی نوجوان عادل ڈار کا عادل فدائی بن جانا سمجھ میں آ جانا چاہیے جب کہ اسی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وحشت کی اس زندہ گواہی کے ساتھ ساتھ مودی فوج کے کارروان بھی گھومتے ہیں۔ انیس بیس سال کے عادل ڈار کو کس نے اس راستہ پر ڈالا۔ ایک خبر رساں ادارے کو اس کے والدین نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے گھر سے غائب تھا۔ انہوں نے تین چار ماہ پہلے اسے تلاش کیا لیکن پھر صبر کر کے بیٹھ رہے کیوں کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان نوجوانوں کا یکایک غائب ہو جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ کچھ دن بعد ان کی لاشیں دریاؤں میں بہتی ہوئی پائی جاتی ہیں۔

لیکن اس واقعے کے کئی پہلو ایسے سوال رکھتے ہیں جن کے جواب ظاہر نہیں۔ عادل ڈار ایک سال تک کہاں رہا ۔ اس مقبوضہ کشمیر میں کہا رہا جہاں چار لاکھ بھارتی فوج ہے'جہاں راء کے جاسوس ہیں ' جہاں بھارت سے لا کر مقبوضہ کشمیر میں بسائے جانے والی ہندو آبادی بھی ہے ' جہاں بھارتی فوجی بغیر بتائے گھروںمیں گھس جاتی ہے اور تلاشی لیتی ہے۔ اس خطۂ زمین میں وہ ایک سال تک چھپا رہا'کس نے اس کا بندوبست کیا؟ وہ مزدوری کرتا تھا۔ لیکن اس نے وہیں وہ کار حاصل کی جسے اس نے بھارتی فوج کے کارروان سے ٹکرایا۔ وہیں اس نے ویڈیو بنائی ۔ یہ بغیر بھاری اور محفوظ امداد کے ممکن نہیں۔ ایک اور جواب طلب پہلو یہ ہے کہ واقعے کے چند منٹ کے اندر بھارت کی ریاستی مشینری اور میڈیا نے اعلان کر دیا کہ یہ حملہ پاکستان میں موجود جیش نے کرایا تھا کیونکہ ''مولانا مسعود اظہر پاکستان میں بہاولپور میں کہیں موجود ہے''۔ یہ بات ملنے والی ویڈیو کے حوالے سے کی گئی۔ لیکن بھارت کے دانش مند پالیسی سازوں اور افسروں کے پاس یہ تحقیق کرنے کے لیے وقت کیوں نہیں تھا کہ آیا اس ویڈیو پر یقین کیا جائے یا اس کی تحقیق کی جائے اور جہاں یہ ویڈیو بنی' جس نے بنائی' جس نے کار تیار کی جہاں عادل ڈار چھپا رہا ان مقامات کا پتہ لگایا جائے اور پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے تحقیقات کر لی جائیں ۔ لیکن جس طرح ممبئی واردات ابھی جاری تھی کہ اس کا پاکستان پر الزام عائد کر دیاگیا اسی طرح پلوامہ حملے کے چند منٹ کے اندر پاکستان کی طرف منفی پراپیگنڈے کا منہ کھول دیا گیا۔ ایک اور جواب طلب پہلو اس واقعہ کے وقت کے انتخاب سے متعلق ہے ۔ وقت وہ منتخب کیاگیا جب پاکستان میں سعودی ولی عہد ایک اہم سرکاری دورے پر آ رہے ہیں۔ پاکستان کے مذاکرات یا ایف ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے ساتھ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بیرونی دنیا سے پاکستان کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششیں بارآور ہو رہی ہیں اور انہیں سراہا جا رہا ہے۔ چند روز پہلے یوم یک جہتی کشمیر پر لندن میں بھارت کی ظالمانہ کشمیر پالیسی اور نہتے شہریوںکی جدوجہد آزادی کے خلاف غیر انسانی مظالم کے خلاف ایک فقید المثال احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں نہ صرف کشمیریوں نے حصہ لیا بلکہ ملکوں ملکوں سے آنے والے انسانی حقوق کے حامیوں نے بلا تفریق رنگ و نسل 'مذہب شرکت کی اور بھارت کی مذمت کی گئی۔ پلوامہ واقعہ کے اس پس منظر کے ساتھ ساتھ یہ بھی قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے چند منٹ ادھر ادھر ایران کے صوبہ سیستان میں جس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے ایسا ہی واقعہ ہوا جس میںایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کارروان کے ساتھ ایک بارود بھری گاڑی ٹکرائی گئی اور اس میں ان کے 24فوجی جاں بحق ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے دہانے کھول دیے حالانکہ پاکستان کو اس واقعہ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ بھارت البتہ تنہا ہو رہا تھا۔ افغانستان میں قیام امن کے مذاکرات سے بھارت کو الگ رکھا جا رہا ہے۔ جب کہ بھارت افغانستان میں اثرو رسوخ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ پاکستان کی سرحد کے ساتھ افغانستان میںبھارت نے 16قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں۔لندن کے احتجاجی مظاہرہ کا ذکر سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی فوج کو کلی اختیار دے دیا ہے۔ یہ بیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے اور یہی مودی کا مقصد ہے۔

متعلقہ خبریں