Daily Mashriq

ہماری سیاست کی مشکلات

ہماری سیاست کی مشکلات

مغرب کی ترقی کے رازوں میں سے ایک ا ہم بات یہ ہے کہ جب سے انہوں نے جمہوریت کو اپنے لئے طرز حکومت یا نظام حکمرانی کے طور پر اپنایا ہے' پھر ان میں سے ہر سیاسی جماعت نے اس نظام کی مضبوطی اور استحکام کے لئے کام کیا ہے۔ کیا حزب اقتدار اور کیا حزب اختلاف' دونوں ہی نظام کے تحت اور نظام کے لئے کام کرتے ہیں اور وہاں کے عوام نے جمہوریت کا ثمر اس صورت میں پایا ہے کہ ان کے روز مرہ کے مسائل سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک میں ان کی مرضی شامل ہوتی ہے۔ وہاں کی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں اور پارٹی کارکنوں کے درمیان ہمارے ہاں کی طرح دشمنیاں نہیں ہوتیں اور اگر کوئی سیاست میں ایسی روش اپناتا ہے تو عوام اسے بہت جلد اپنے طاقت ور ووٹ کے ذریعے ناک آئوٹ کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سیاست میں مذہب اور قوم پرستی اور ازمز (Isms) کا عمل دخل بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مغرب کے جن ملکوں میں سوشلزم یا کیپٹل ازم ہے وہاں کے سیاست دان جس منشور پر ووٹ حاصل کرتے ہیں اسی کے مطابق کام کرنے کے پابند ہوتے ہیں ورنہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن قاعدہ قانون کے مطابق ان کا ناطقہ بند کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ اب ہمارے ہاں کی سیاست میں بقول شاعر' غم ایک ہو تو کوئی اس کا مداوا بھی کرے' کے مصداق بیک کیپٹل ازم' نیشنلزم' مغربی جمہوریت' مذہبی سیاست اور لبرل ازم اور درمیان میں مارشل لاز اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ آج تک پاکستان کی ستر سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی کہانی یاداستان پڑھنے کو ملے گی۔ پاکستان جمہوری حکومتوں میں ایک وزیر اعظم انڈسٹری اور بالخصوص موٹر ویز اور ایکسپریس ویز کا شوقین تھا' ایک صاحب جمہوریت کا ٹھیکہ لئے ہوئے تھا اور ان دونوں کے ساتھ مذہبی اور کٹر قوم پرست جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور بقاء کے لئے وقتاً فوقتاً شامل ہوتی رہی ہیں اور پاکستان کا جمہوری دور ان ہی دو سیاسی جماعتوں کے درمیان ادل بدل (باری لینے پر) مشتمل رہا اور حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے قائدین اور ان کی حکومتیں عوام (ان کی جماعتوں کے کارکن نہیں) کی امیدوں پر کما حقہ پورا نہ اتر سکیں۔ اس کے علاوہ ان حکومتوں نے ٹو دی پوائنٹ (ضرورت کے مطابق) بروقت ڈیلیور نہیں کیا جسکے اثرات ملکی معیشت پر اس برے انداز سے پڑے کہ آج پاکستان کے قومی خزانے سے روزانہ چھ ارب روپے قرضوں کی سود کی مد میں خرچ ہو رہے ہیں۔سندھ میں گزشتہ تیس چالیس برس سے جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار جماعت بر سر اقتدار رہی لیکن تھر کے باسیوں کو پانی اور وہاں کے معصوم نوزائیدہ بچوں اور ان کی مائوں کو ضروری بنیادی خوراک نہ مل سکی جس کے سبب ہر سال سینکڑوں بچے موت کے منہ میں اور ہزاروں بچے اور مائیں پیچیدہ امراض میں مبتلا ہیں۔عوام نے ان حالات سے تنگ آکر ووٹ کے ذریعے کوشش کی کہ حالات تبدیل کئے جائیں۔ عمران خان کی صورت میں پڑھی لکھی نوجوان نسل نے اپنی تقدیر و مستقبل کی خاطر اپنا لیڈر چن لیا لیکن یہاں المیہ یہ ہوا کہ اگرچہ ان کو خیبر پختونخوا میں دو تہائی اکثریت مل گئی لیکن مرکز اور پنجاب میں اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر بھی دو تہائی تو کیا اچھی اکثریت بھی نہ مل سکی بلکہ چار پانچ ارکان کے ادھر ادھر ہو جانے سے حکومت دائو پر بھی لگ سکتی ہے جس کی وجہ سے عمران خان بہت تگ و دو کے باوجود ابھی تک اس سمت پر اپنی حکومت ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کا وہ اپنے جلسوں اور انتخابی منشور میں اعلان کرتے رہے ہیں۔ جب کہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ عمران خان پاکستان کی سیاست کی ساری روایات سے ذرا ہٹ کر نہیں بلکہ بہت ہٹ کر سیاستدان اور حکمران ہیں۔ عمران خان پاکستان کا پہلا سیاستدان ہے جو پاکستان سے غربت مٹانے کا نعرہ لے کر اٹھے ہیں۔ غربت مٹانے کے لئے انہوں نے جو فارمولا دیا ہے وہ کرپشن کا خاتمہ اور سادگی و کفایت شعاری ہے۔ عمران خان اس وقت سخت مشکلات میں ہیں' ایک طرف اس کا نظریہ (غربت مٹانا) ہے دوسری طرف پاکستان کے سیاستدانوں کی شدید مخالفت ہے۔ تیسری طرف بہت تیزی کے ساتھ انگڑائیاں لیتے عالمی حالات ہیں' بالخصوص امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور عالمی سیاست و معیشت پر اس کے اثرات ہیں۔ چوتھی طرف پاکستان کے بگڑتے معاشی حالات ہیں جس کو پاکستان کی روز بہ روز بڑھتی آبادی اور وسائل کی کمی اور بھی نازک اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ عمران خان کو درپیش سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن کے ساتھ جڑی عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے پیغام کی ریسپٹو (Receiptive) نہیں ہے اور جو جو پیغام کو سمجھ چکے ہیں اور اسے صحیح مانتے ہیں اور اس پر عمل کروانا بھی چاہتے ہیں' وہ خوف زدہ بھی ہیں کیونکہ ان کو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان کو خطرہ ہے کہ اس پیغام کے پھیلنے اور روبہ عمل آنے کے بعد کہیں سب کچھ بدل نہ جائے اور اس میں ایک طاقتور گروپ ایسا بھی ہے جو ہر صورت میں عمران خان کو ناکام کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ سرمایہ دار' جاگیر دار' صنعت کار جو پاکستان کو جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے' ان کو خطرہ ہے کہ کہیں منی لانڈرنگ کی سب راہیں ہمیشہ کے لئے مسدود ہوگئیں تو پھر زندگی کتنی بے کیف و بے رونق ہو جائے گی۔ ہم جیسے لوگ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق تماشا دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں