Daily Mashriq

چھڑی کی سرحدیں اور ناک کی حدود

چھڑی کی سرحدیں اور ناک کی حدود

ایک کہانی بڑی پرانی،کہتے ہیں جب برصغیر کو انگریزوں سے آزادی ملی تو ایک صاحب ہاتھ میں چھڑی لئے فٹ پاتھ پر پیدل چلتے ہوئے اسے گھماتے جارہے تھے ،سامنے سے بھی لوگ آرہے تھے ، ان صاحب کی چھڑی چکر کھاتے کھاتے مخالف سمت سے آنے والے شخص کی ناک سے جا ٹکرائی اور اس کی چیخیں نکل گئیں، اس نے ایک ہاتھ ناک پر رکھا اور دوسرا ہاتھ چھڑی گھمانے والے کے گریبان میں ڈال کر تکرار شروع کردی ، چھڑی گھمانے والے نے کہا ، اب ہم آزاد ہیں اس لئے میری مرضی جیسے چاہوں سڑکوں ، گلیوں ،بازاروں میں گھومتا رہوں ،تم کون ہو مجھے روکنے والے؟چوٹ کھائے ہوئے شخص نے کہا آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ تم جسے چاہو مارتے ، زخمی کرتے رہو، تمہاری آزادی کی سرحدیںوہاں ختم ہو جاتی ہیں جہاں سے میری ناک کی حدود شروع ہوتی ہیں۔

پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا

ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی

سوشل میڈیا پر ایک عرصے سے جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اس نے لگ بھگ سب کی چیخیں نکال دی ہیں، یہ گویا وہ چھڑی ہے جس کے گھمانے والے خود کو ہرطرح کی پابندی سے آزاد سمجھتے ہیں ، انہیں اپنی''چھڑی'' کی طاقت کا اندازہ ہے جو بے مہاردوسروں کو زخم پہ زخم لگا کر فریاد کرنے پر مجبور کررہی ہے نہ ہی دوسروں کی''ناک'' کی حدود کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہیںاور صورتحال اب وہاں جا پہنچی ہے کہ سرکار والا تبار کو بھی اسے لگام دینے کی فکر پڑ گئی ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے گزشتہ روز ایک بیان میں فرمایا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے پر سخت کارروائی کی جائیگی بلکہ انہوں نے یہ خبر بھی بریک کی ہے کہ کچھ اہم گرفتاریاں ہو بھی چکی ہیں،مقام شکر ہے کہ اب وزیرموصوف کی زبان سے بھی سچ برآمد ہونے لگا ہے یعنی وہ جو سلیم کوثر نے کہا تھا کہ تم نے سچ بولنے کی جرأت کی،یہ بھی توہین ہے عدالت کی۔ اب اگر موصوف کے موجودہ لہجے پر غور کیا جائے تو ان کی پارٹی کے اس رویئے پر کیا کہیں گے جو سوشل میڈیا کے ذریعے اختیار کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوںاور ان کے قائدین کو طنز وتشنیع کا شکار بنانے میں پہل کرتے ہوئے کئی بے نام اکائونٹس کے ذریعے ایک نئی طرز مخالفت ایجاد کی گئی تھی۔ یعنی اس''گریٹ گیم'' کی بنیاد تو خود ان کی جماعت نے رکھی تھی اور اندرون وبیرون ملک سے سوشل میڈیا کی بے مہار''چھڑی'' گھماتے ہوئے کسی کی ناک کی حدود کاخیال نہیں رکھا گیا تھا،اس کے بعد دوسری جماعتوں نے بھی اپنے اپنے میڈیا سیل قائم کر کے جو اب آںغزل کی طرز پر ایک ایسی جنگ کا میدان گرم کردیاتھا جس نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ کو بھی مات کردیا تھا، خصوصاً دوسری عالمگیر جنگ کے گوئبلز کی روح کو سرشار کردیا تھا جو یقیناً اپنی قبرمیں لیٹے مسکرارہا ہوگا کہ اس نے پروپیگنڈے کا جس طرز کا آغاز کرتے ہوئے اس کیلئے یہ اصول طے کرلیا تھا کہ اس قدر جھوٹ بولو کہ سچ کے آتے آتے بستیوں کی بستیاں ویران ہوچکی ہوں، اب اسی اصول کو لاگو کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف ایسی ایسی ہرزہ سرائیاں کی جارہی ہیں کہ الامان والحفیظ۔ اس جنگ زرگری میں وہ بھی کود پڑے جن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیرموصوف نے فرمایا ہے کہ نفرتوں کے سودا گر ہیں اور انتہاپسندی کا پرچار کر کے لوگوں کو مذہب سے بیگانہ قرار دینے کا کاروبار سنبھالے ہوتے ہیںوزیر موصوف نے اگر چہ سوشل میڈیا پر جاری جنگ کو لگام ڈالنے کیلئے اس کا رخ ایک خاص مسئلے کی جانب موڑدیا ہے جس سے اتفاق کئے بناء کوئی چارہ نہیں کیونکہ کسی بھی مذہب میں انتہا پسندی کا درس نہیں دیا جاتا ، تاہم اصل مسئلہ تو انہوں نے چھوا ہی نہیں کہ اگر کسی نے سوشل میڈیا کو ذاتی جنگ کیلئے استعمال کیا خواہ وہ کسی بھی مذہبی گروہ میں شامل گنتی کے چند مفاد پرست ہی کیوں نہ ہوں یا پھر سیاسی جماعتوں کے ایکٹویسٹ یہ کام کررہے ہوں، وزیرموصوف سے کم ازکم یہ بات تو پوچھی جا سکتی ہے کہ جن دنوں ان کی جماعت کنٹینر پر حکومت وقت کے خلاف برسرپیکار تھی اس وقت خود ان کی جماعت کے ''چھڑی بردار''بے مہار ہو کر مخالفین کو نہ صرف اوقات یاد دلاتے ہوئے کیوں کسی سرحد وحدود کو پھلانگ رہے تھے اور جو مذہبی عناصر ان کے ساتھ''برادرانہ تعلقات'' میں شامل تھے ان کی مکمل پشت پناہی کیوں کی جارہی تھی؟اب جب اسی سوشل میڈیا کے گوئبلزائی استعمال سے خود حکومت کی چیخیں نکل رہی ہیں تو سوشل میڈیا کو قابو پانے کا احساس ستانے لگا ہے۔ اسے کہتے ہیں چاہ کن را چاہ درپیش ، ملک کے ایک اہم صحافی اور کالم نگار ہارون الرشید نے جو حکومتی جماعت کے بہت قریب قرار دیئے جاتے ہیں اپنے 24جنوری 2019 کے کالم نا تمام میں ایک عالمی شہرت کے صحافی آریا فلانچی کی ایک بات نقل کی ہے جو انہوں نے ذوالفقارعلی بھٹوسے کہی تھی کہ''آدمی کے کردار کا پتہ اس کے رویئے سے چلتا ہے ، اپنے مخالفین کے باب میںجو روارکھے''۔ اس مقولے کے بعد صورتحال پر اور کیا تبصرہ ممکن ہے، بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے بقول توقیر عباس کہ

ترے سرکس پہ پہلے رش بہت تھا

مگر اب شہر اکتایا ہوا ہے

متعلقہ خبریں