Daily Mashriq

غیر معمولی بننے والی معمولی بات

غیر معمولی بننے والی معمولی بات

بعض اوقات بہت معمولی سی باتیں غیر معمولی بن جاتی ہیں ۔بہت چھوٹی سی بات بڑی بن جاتی ہے ۔ایک عام سی بات خاص ہو کر رہ جاتی ہے ۔اس کا تعلق حالات واقعات اور اس معاشرے میں عام روایات اور رواجات سے ہوتا ہے ۔برطانیہ میں وزیر اعظم تھریسامے ٹیکسی پر سواری کرتے ہوئے پائی جائے تو شاید یہ ایک خبر نہ ہو مگر اگر پاکستان میں وزیر اعظم سائیکل پر محوسفر ہو تو بلاشبہ یہ ایک بڑی خبر کہلانے کی مستحق ہے ۔پاکستان میں حکمرا ن اصراف سے دامن بچائیں ،سادگی اپنائیںاورقومی املاک اور وسائل میں کنجوسی کی حد تک دیانت دارانہ رویہ اپنائیں تو یہ ایک خبر ہوتی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقدار اور روایات بالکل ریورس گئیر میں چل رہی ہیں۔جو باتیں دنیا کے بے شمار ملکوں میں اچھی ہیں وہی ہمارے ہاں معاشرتی طور پر انسان کو ''نکو '' یعنی ناپسندیدہ حد تک منفرد بنا ڈالتی ہیں۔اس کے باوجود کچھ چیزوں کی حیثیت علامتی ہوتی ہے ۔جن سے شاید کوئی بڑی تبدیلی تو نہیں آتی مگر معاشرے کو ایک ترغیب ضرور ملتی ہے اور ہمارے ماحول میںایسی ہی ایک غیر معمولی بننے والی معمولی بات وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی کا ایک حالیہ فیصلہ بھی ہے ۔جس کے مطابق انہوں نے دورۂ سعودی حکومت کے دوران حکومت کی طرف سے ملنے والے قیمتی تحائف توشہ خانے میں جمع کر ادئیے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی کو سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے تریسٹھ لاکھ مالیت کے تحائف دئیے گئے تھے۔جن میں اڑتالیس لاکھ پچاس ہزار مالیت کی رولیکس گھڑی،ساڑھے نو لاکھ کا سونے کا قلم ایک لاکھ پینتیس ہزار کے کف لنکس ،دولاکھ پانچ ہزار مالیت کی سونے کی تسبیح اور دولاکھ دس ہزار مالیت کی انگوٹھی بھی شامل تھی۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکمران غیر ممالک سے ملنے والے تحائف کو اپنا حق سمجھتے تھے مگر انہوںنے یہ تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دئیے ہیں۔وزیر خارجہ نے بیرونی تحائف کو اپنے پاس رکھنے سے معذرت کرتے ہوئے ایک اچھی روایت کا آغاز کیا ہے ۔ہو نہ ہو یہ روایت ماضی میں بانیان پاکستان کے وقت بھی پوری طرح رائج رہی ہوگی کیونکہ وہ امانت ودیانت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا زمانہ تھا جب قومی خزانے کو ایک مقدس امانت سمجھنے کا رواج عام تھا اور حکمران سرکاری خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹنے سے گریز کرتے تھے۔خدا جانے پاکستان کی قومی گاڑی کا کانٹا کب اور کیوں بدلا کہ جس کے بعد یہ اعلیٰ اقدار اور روایات معاشرے سے تیزی سے عنقا ہوتی چلی گئیں اور قومی خزانے اور املاک کے بارے میں امانت ودیانت کے تصورات بھی معدوم ہوتے چلے گئے ۔سرکاری حکام کے لئے ذاتی اور قومی مال کی کوئی تمیز ہی نہیں رہی ۔ذاتی مال کے استعمال اور خرچ کرنے میں تو پھر بھی احتیاط برتی جاتی ہے یہاں تو قومی مال اوراملاک کو لوٹ کا مال سمجھ کر برتا جا تا رہا ہے ۔یہ بددیانتی اور خیانت کا عارضہ قوم کو راتوں رات لاحق نہیں ہواہو گا بلکہ اس مزاج کے بگڑنے میں دہائیاں لگی ہوں گی ۔اس دوران اگر کسی نے اس مزاج کے آگے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہوگی تو وہ نکو بن کر رہ گیا ہوگا ۔ بگاڑ اور زوال کی ابتدا میںحکمران طبقات کا مزاج بگڑ جاتا ہے ۔وہ خوف خدا اور امانت ودیانت کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں ۔پھر ان کے مشیر اور خواہ سیاسی کارکن اور دست وبازوہوں یا بیوروکریٹ آگے بڑھ کر اس راہ پر ان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور قدم بقدم ان کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور یوں آوے کا آوا ہی بگڑنے لگتا ہے ۔حکمرانوں کے محلات میں فروغ پانے والے رواج پھر تیزی کے ساتھ معاشرے میں نیچے کی طرف سرایت کرنے لگتے ہیں۔اس طرح ایک قوم کا بر ا یا بھلا ایک مخصوص کلچر فروغ پاتا ہے ۔ہمارے ساتھ بھی یہی واردات ہوتی چلی گئی ۔حکمران طبقات کی بد عادات نے بااثر طبقات میں سرایت کی پھر معاشرے کا عمومی چلن بن گئیں۔ابھی ماضی قریب کی بات ہے جب ترکی کی خاتون اول کا ایک سونے کا ہار جو سیلاب زدگان کی مدد کے لئے دیا گیا تھا پاکستان کی ایک سابق خاتون اول کے پرس اور لاکر سے برآمد ہوا تھا ۔برآمد بھی خود ہوا تھا نہ خوف خدا کے باعث اس کی واپسی ممکن ہوئی تھی بلکہ عدالت نے باقاعدہ طور پر کارروائی کرکے اس قیمتی ہار کو برآمد کرایا تھا ۔اسی طرح قیمتی تحائف کے بارے میں ریاست کے وضع کردہ اصول موجود ہیں مگر ان اصولوں کو موم کی ناک بناتے ہوئے حکمران معمولی سی قیمت ادا کرکے اکثر تحائف کو اینٹھ جاتے رہے ہیں ۔بعض تو معمولی سی قیمت بھی ادا نہیں کرتے تھے۔اب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کوئی کارنامہ نہیں کیا جس پر جشن منایا جائے مگر اس کا کیا کیجئے کہ پاکستان کے ماحول اور رواج میں یہ انوکھی بات معلوم ہو رہی ہے ۔یہ ماضی کی ایک روایت کا احیا ہے۔حکومت کے تمام نمائندوں کو اس روایت پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہئے تاکہ قومی املاک او ر خزانے اور ذاتی ملکیت میں ایک حد فاصل قائم ہو اور دونوں میں فرق روا رکھنے کا مائنڈ سیٹ وجود میں آئے ۔جب یہ مائنڈ سیٹ وجود میں آئے گا تو پھر کسی کو شاہ محمو دقریشی کی طرف سے تحائف کو سرکارکے پاس جمع کرانے پر اچنبھا ہو گا نہ یہ اقدام اخبار کی خبر کا مستحق ہوگانہ کوئی حکمران اپنے اس عمل کی تشہیر کرتے ہوئے سینہ پھلُائے گا ۔

متعلقہ خبریں