Daily Mashriq


افغان حکومت پاکستانی پیشکش کا مثبت جواب دے

افغان حکومت پاکستانی پیشکش کا مثبت جواب دے

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے اور دونوں ممالک کی طرف سے موثر بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشیوں سے خطے میں امن دشمن عناصر کو تقویت ملی ہے۔ پاکستان پر اس کے باوجود کہ پاک فوج نے قبائلی علاقوں سے بڑی محنت اور قربانیوں سے تطہیری آپریشن کرکے دہشت گردوں کا صفایا کیا یہ الزام پھر بھی لگتا رہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں۔مشکل امر یہ ہے کہ امریکہ اور افغانستان الزامات تو لگاتے ہیں مگر اس کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرتے۔ اب تو ڈرون حملوں کا دور نہیں رہا لیکن جب تک ڈرون حملے ہوتے رہے ان دنوں تو دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا ان کے پاس گویا کھلا موقع تھا مگر جہاں جہاں ڈرون حملے ہوئے وہاں بھی ان کی افادیت اور ہدف کو نشانہ بنانے کی شرح مضحکہ خیز حد تک رہی ۔ڈرون حملوں کی صورت میں امریکہ کے پاس اپنی دانست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو محفوظ طریقے سے نشانہ بنانے کے بہتیرے مواقع تھے جن سے انہوں نے حتیٰ المقدور فائدہ اٹھایا ہوگا اس روشنی میں امریکی اور افغان الزام تراشوں سے استفسار کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک ایک برق رفتار محفوظ اور جاسوسی نظام سے لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے کامیابی حاصل کیوں نہ کرسکا۔ ان کے مقابلے میں پاکستان کے پاس زمینی حملے اور دو بدو مقابلے کا طریقہ کار تھا۔ آپریشن ضرب عضب ہو یا اس سے قبل کے آپریشن اور تطہیری کارروائیاں پاک فوج نے بڑی دلیری کے ساتھ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا۔ میران شاہ میں طالبان کے چالیس کمروں پر مشتمل زمین دوز اور جدید حربی آلات سے محفوظ بنائے گئے ہیڈ کوارٹر پر پاک فوج کے قبضے کے بعد محولہ نوعیت کے الزامات کاسرے سے ازالہ ہونا چاہئے تھا ۔ اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام اور مرکز پر پاک فوج کے قبضے کے بعد تو دہشت گرد ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے اور وہ شوال کی پہاڑی اور گھنے جنگلات میں اپنی بقاء کی آخری لڑائی میں بھی شکست کھا گئے۔ اسی طرح خیبر ایجنسی کے علاقہ تیراہ اور راجگل کی پہاڑیوں میں دہشت گرد بساط بھر مقابلہ کے بعد معدوم ہوگئے۔ ان دو قابل ذکر اور اہم ترین مقامات سے بھی نکلنے کے بعد آخر دہشت گردوں کے وہ کونسے ٹھکانے ہیں جن کا پروپیگنڈہ سننے کو تو بہت ملتا ہے مگر امریکہ اور افغانستان یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ دہشت گردوں کے وہ مبینہ ٹھکانے آخر ہیں کہاں۔ کوئی ثبوت اور انٹیلی جنس اطلاع دی جائے تو پاکستان ان کے خلاف کارروائی میں لمحہ کی تاخیر نہ کرے۔ پاک فوج قبائلی علاقہ جات اور حساس اداروں سمیت انسداد دہشت گردی کی خدمات انجام دینے والے فوجی اور سویلین ادارے ایک تسلسل کے ساتھ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے ماضی کے واقعات میں ملوث ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تگ و دو میں ہیں۔ ایک نظم اور تسلسل کے ساتھ جاری کارروائیوں ہی کے باعث آج پاکستان کے بندوبستی اور قبائلی علاقوں میں امن لوٹ آیا ہے۔ امریکہ اور افغانستان کو چاہئے کہ وہ الزام تراشی اور انگشت نمائی کا وتیرہ اختیار کرنے کی بجائے افغانستان کے طول و عرض میں پاکستان کی طرز کا آپریشن کرکے دہشت گردوں کا صفایا کریں۔ جہاں عالم یہ ہو کہ رات کے وقت سوائے کابل شہر کے باقی علاقے پر حکومتی اثر و نفوذ طالبان کے رحم و کرم پر رہ جائے وہاں پر کسی بھی واقعے کا الزام پاکستان اور اداروں پر دھرنا حقیقت پسندی سے صورتحال کو سمجھنے کی بجائے بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مصداق معاملہ ہے۔ ہمارے تئیں یہی وہ کمزور لمحہ ہے جس کا دہشت گرد عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں اور حساس مقامات پر حملہ کرنے میں ان کو کامیابی ملتی ہے۔ ہمارے تئیں افغانستان کی صورتحال اس امر کا پوری طرح سے متقاضی ہے کہ وہاں پر دہشت گردوں کے خلاف پوری قوت سے آپریشن کئے جائیں' ساتھ ہی ساتھ سیاسی طریقے اور مذاکرات کا بھی راستہ اختیار کیا جائے تطہیری آپریشن سے دبائو ڈال کر ان کو اس امر پر مجبور اور قائل کیا جائے کہ مذاکرات و معاملت ہی کا راستہ باقی بچے۔ افغانستان کی حکومت کو سرحدی انتظامات اور سرحدی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھی پر اثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ سے دہشت گرد عناصر کی آمد و رفت اور ان کے خلاف بروقت اقدامات کی سہولت ہوگی۔ افغان حکام جب تک اپنی حفاظت آپ اور اپنے داخلی معاملات خود حل کرنے کے حامل نہیں ہوتے ان کو اسی طرح کے معاملات سے واسطہ بہر حال پڑتا رہے گا۔ بہتر ہوگا کہ وہ اپنی مشکلات کا دوسروں کو ذمہ دار گرداننے اور الزام تراشی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے داخلی گروپوں سے معاملات و مفاہمت اور پڑوسیوں پر اعتماد کی روش اختیار کریں اور اپنی داخلی سلامتی کے نظام کو اس قدر فعال اور مضبوط بنائیں کہ دہشت گردوں کو اس میں دراڑ ڈالنے اور ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہی نہ مل سکے۔

متعلقہ خبریں