ایف آئی اے حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کریں

ایف آئی اے حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کریں

خیبر پختونخوا میں اغواء اور اغواء برائے تاوان کی ایک اور قسم شدت کے ساتھ اب سامنے آئی ہے لیکن درپردہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں جن کا تذکرہ ذرائع ابلاغ میں نہ ہوا یا پھر اس پر زیادہ توجہ مبذول نہ ہوسکی۔ نوجوانوں کو روز گار کا لالچ دے کر انسانی سمگلروں کابیرون ملک لے جانا اور ان کو یرغمال بنانے کی شقی القلبی کے خلاف ایف آئی اے خیبر پختونخوا کا حرکت میں آنا دیر آید درست آید کے مصداق خوش آئند ضرور ہے لیکن یہ کارروائی محض ایک دو سامنے آنے والے واقعات میں ملوث گروہوں اور ہنڈی کے ذریعے رقم کی وصولی تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ صوبے میں ایک مربوط عمل اور تحقیقات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ایف ئی اے کی کارکردگی اس حد تک تسلی بخش تو کجا ملی بھگت اور انسانی سمگلروں کی سرپرستی کی رہی ہے۔ جس کے باعث متاثرین کی شکایات اور ان سے اینٹھی گئی رقم کی وصولی ممکن ہوسکی ہو۔ ایف آئی اے حکام اس معاملے میں شکایت کنندگان کی بجائے جن کی شکایت کی گئی ہو ان کے معاون ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اس طرح کی متعدد شکایات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جس میں ایف آئی اے حکام نے متاثرین سے تعاون کا فریضہ نبھانے میں غفلت کا ارتکاب کیا ہواور متاثرین کو مایوسی ہوئی ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں فی الوقت سامنے آئے واقعات ہی نہیں بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ صوبے میں انسانی سمگلرز اور غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کو باہر بھجوانے والے متحرک ہیں جن کا دھندہ ایف آ ئی اے کی چشم پوشی و ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ بہر حال ہر ادارے کے بارے میں شکایات سامنے آئی ہیں۔ فی الوقت صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ایف آئی اے کے حکام سنجیدگی سے کام لیں اور انسانی سمگلروں کو گرفتار کرکے عوام میں اپنا اعتماد بحال کریں اور آئندہ اس طرح کی سرگرمیوں کو سختی سے روکنے پر توجہ دیں اور بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دے کر رقم اینٹھنے کی شکایات پر بھی قانون کے مطابق کارروائی کریں تاکہ قانون کا خوف پیدا ہو اور لوگوں کو جھانسہ دینے والوں کی سرگرمیوں کی روک تھام ہوسکے۔
لواری ٹنل سانحہ' چند گزارشات
لواری ٹنل کے دونوں اطراف سڑکوں کی پوری طرح صفائی نہ ہونے کے باعث دونوں اطراف مسافر گاڑیوں کی لمبی قطار اور شدید سردی میں برف میں پھنس کر رات گزارنے والے مسافروں کی مشکلات کا سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے ۔ اس شدید سردی میں تقریباً آٹھ ہزار مسافروں میں سے صرف ایک بیمار بچے کا جاں بحق ہونا نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ اگر حکام سعی کرتے تو معصوم بچے کو والدین سمیت ہنگامی طور پر کسی گاڑی میں منتقل کرکے ٹنل پار کروایا جاسکتا تھا۔ ایسا کیا جاتا تو شاید والدین کا اکلوتا بیٹا موت کے منہ سے بچ جاتا۔ اگرچہ لواری ٹنل ہفتے میں دو دن مسافر گاڑیوں کے لئے کھلا رکھنے کا نوٹیفیکیشن ہو چکا ہے لیکن اگر ٹنل کے دونوں طرف انتظامات کی بہتری پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ مزید کسی سانحے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اولاً دونوں اطراف کی رابطہ سڑکوں کو صرف ایک گاڑی گزرنے کے بقدر برف ہٹا کر کھلا رکھنے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ برف ہٹا کر سڑک کشادہ کرنے کی پوری سعی کی جائے۔جہاں برف پگھل کر جم جانے یا پانی کے منجمد ہونے سے پھسلن پیدا ہوتی ہے وہاں مٹی ڈالی جائے۔ صفائی کا ذمہ دار عملہ تندہی اور تسلسل سے کام کرے۔ غیر ضروری چیک پوسٹوں کاخاتمہ کیا جائے اور سیکورٹی کو عوام کے تحفظ کی بجائے جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا حامل نہ بنایا جائے۔ سیکورٹی کی ضروریات اور لوازمات دیر کی طرف کسی موزوں مقام اور چترال کی طرف دروش میں پوری کرکے گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے تاکہ لواری ٹنل کے آس پاس ٹریفک میں رکاوٹ نہ آئے۔مسافروں کو کسی بھی ہنگامی صورت میں امداد کی فراہمی کے لئے خوراک اور ادویات کا ٹنل کے دونوں طرف بندوبست کیا جائے۔ مریضوں' شیخ فانی حضرات اور معمر خواتین کو ممکن ہوسکے تو الگ انتظام کے تحت لواری ٹنل سے گزارا جائے۔ اس تجویز کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے کہ لواری ٹنل پر دو ماہ کے لئے کام بند کرکے ٹریفک کے لئے کھلا رکھا جائے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ٹریفک کے شدید دبائو اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے دو دن کے علاوہ بھی ٹریفک گزرنے دیا جائے۔ہنگامی اور نا گہانی طور پر چترال جانے اور چترال سے مریضوں کو پشاور منتقل کرنے والوں کو اطمینان کے بعد گزرنے کی اجازت دی جائے۔ چترال کی ضلعی انتظامیہ اور سیکورٹی کے ادارے تکلفاً نہیں بلکہ تندہی کے ساتھ اپنے فرائض کی ادائیگی اور مسافروں کی مشکلات حل کرنے پر توجہ دیں اور اگر نا گزیر ہو جائے تو چترال اور دیر میں باقاعدہ رجسٹریشن کرکے اتنی ہی گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے کہ راستے میں رات نہ گزارنی پڑے۔

اداریہ