Daily Mashriq

آرمی چیف کا افغان صدر کے ساتھ ٹیلیفونی رابطہ

آرمی چیف کا افغان صدر کے ساتھ ٹیلیفونی رابطہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر افغانستان کے صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون پر مخاطب کیا ہے اور کابل اور قندھار میں حالیہ دہشت گرد حملوں پر اظہار رنج کیا ہے اور ان میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ اس سے قبل یکم جنوری کو آرمی چیف نے صدر اشرف غنی کو ٹیلی فون پر نئے سال کی مبارک باد دی تھی اور صدر اشرف غنی نے انہیں دورہ افغانستان کی دعوت دی تھی لیکن چند ہی روز بعد کابل اور قندھار میں بیک وقت دہشت گرد حملے ہو گئے جن میں 60کے قریب افراد جاں بحق ہوئے۔ سانحہ یقینا افسوس ناک تھا اور پاکستان کے لیے بھی نہ صرف افسوس ناک تھا بلکہ باعث تشویش بھی کہ افغانستان میں عدم استحکام پاکستان میں امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ لیکن افغان پراپیگنڈہ مشین نے ایک بار پھر وہی الزامات دہرانے شروع کر دیے کہ پاکستان میں فاٹا کے علاقے سے آ کر دہشت گرد افغانستان میں امن دشمن کارروائیاں کرتے ہیں۔ یہ رویہ افسوس ناک ہے کیونکہ پاک فوج نے دو سال تک جاری رہنے والے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے خصوصاً فاٹا میں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔ اور اب فاٹامیں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ختم کی جا چکی ہیں۔ پاک افغان سرحد تک سارا علاقہ اب دہشت گردوں سے پاک کرایا جا چکا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران افغان حکمرانوں اور فوج کو چاہیے تھا کہ فاٹا سے فرار ہو کر افغانستان کا رخ کرنے والے عناصر کو روکا جاتا ۔ لیکن افغانستان کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب افغانستان متعدد شدت پسند تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ پہلے ہی افغانستان کے ایک وسیع علاقے پر افغان حکومت کی رٹ نہ تھی جو افغان طالبان کے زیر اثر ہے۔ لیکن آپریشن ضرب عضب کے بعد افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان' حقانی نیٹ ورک' جماعت الاحرار ' القاعدہ اور داعش کے عناصر اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ داعش بہت پہلے افغانستان اور پاکستان کو اقلیم خراساں کا نام دے چکی ہے۔ یہ صورت حال افغان حکومت کے لیے تو باعث تشویش ہے ہی لیکن پاکستان کے لیے بھی اتنی ہی تشویش ناک ہے جتنی افغانستان کے لیے کیونکہ ان سے آپریشن ضرب عضب میں جو کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں انہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور افغانستان سے شدت پسند پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ الزامات لگانے سے امن دشمن ہی مضبوط ہو سکتے ہیں جو پاکستان اور افغانستان دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔ اور ان کی سرکوبی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل سرحد ایسی ہے جس میں جگہ جگہ راستے ہیں ، کچھ خفیہ اور کچھ ظاہر۔ اس کی موثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ ناپسندیدہ عناصر اور سمگلر اس سرحد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔ پاکستان نے اس سرحد پر گیارہ ایسے راستے بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جہاں سے باقاعدہ قانونی دستاویزات کے ساتھ لوگ ایک دوسرے ملک میں آ جا سکیں۔ اس سلسلہ میں طور خم بارڈر پر گیٹ تعمیر کیا جا چکا ہے۔ جہاں سے سفری دستاویزات کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان سفر کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک گیٹ چین میں بھی بنایا جا رہا ہے۔ افغانستان کا موثر سرحدی انتظام پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا خود افغانستان کے لیے مفید ہے۔ اس سے افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے والوں سے ریونیو حاصل کر سکے گا۔ اور افغانستان سے منشیات کی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ افغانستان میں دنیا کی 85فیصد افیون پیدا ہوتی ہے جس سے ہیروئن تیار کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے 45فیصد افیون کی تجارت پاکستان کے ذریعے ہوتی ہے اور یہ سارا کام سمگلر کرتے ہیں۔ افغانستان اگر افیون کی پیداوار کو باضابطہ بنائے اور اسے محض ادویات کے لیے برآمد کرنے کا بندوبست کرے تو افغانستان کی آمدنی میں اس سے گرانقدر اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاک افغان سرحد کو پرخطر بنائے رکھنے میں افیون کے سمگلروں کے مافیا کا بھی ہاتھ ہے اور اگر دیکھا جائے تو یہ عناصر بھی افغانستان میں استحکام کے خلاف ہیں۔ افغانستان میں امن و استحکام ہو گا تو افغان حکومت افیون کی تجارت کو باقاعدہ قانونی بنا سکے گی بصور ت دیگر یہ عناصر پاک افغان سرحد کو پر خطر بنائے رکھنا چاہیں گے۔ پاک افغان سرحدی انتظام موثر ہو گا تو انتہا پسند عناصر بھی سرحد پار کرنے کی جرات نہیں کریں گے۔ بصورت دیگر ان کے لیے راستے کھلے رہیں گے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق سرحد پار کرنے کی کوشش کریں۔ اس لیے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ سرحدی انتظام قائم کیا جائے اور اس کو موثر بنایا جائے تاکہ انتہا پسند اور امن دشمن عناصر کی فرار کی راہیں مسدود ہو سکیں۔ جنرل باجوہ اور صدر اشرف غنی کی گفتگو کا ایک اہم نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ صدر اشرف غنی نے دونوں ملکوں کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلہ کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔ اڑھائی ہزار کلو میٹر سرحد پر ہمہ وقت نگران فورس رکھنا محال ہے۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردوں اور سمگلروں کی نقل و حمل روکنے کے لیے انٹیلی جنس کے تبادلہ کا موثر نظام قائم کیا جائے جس سے صدر اشرف غنی نے اتفاق کیا ہے۔ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی اور جرائم کے انسداد کے لیے تعاون کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔ کچھ عرصہ پہلے بھی یہ تجویز زیر غور آئی تھی لیکن افغانستان کے انٹیلی جنس کے ادارے نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باہم سرحد غیر محفوظ رہی۔ اور دہشت گردوں کے خلاف کوئی مشترکہ کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ اب صدر اشرف غنی کی انٹیلی جنس کے تبادلہ پر رضامندی کے باعث یہ امید کی جا سکتی ہے کہ خطے میں دہشت گردی سے نجات حاصل کرنے کی کوششوں کو تقویت حاصل ہوگی۔ امید کی جانی چاہیے کہ صدر اشرف غنی کی اس رضامندی کے بعد دونوں ملکوں میں اس حوالے سے کوئی معاہدہ طے ہو جائے گا۔ 

اداریہ