Daily Mashriq

'' پراپرٹی ڈیلر''

'' پراپرٹی ڈیلر''

جب کبھی کوئی سروے ٹیم عام لوگوں سے سوال کرتی ہے کہ ان کے خیال میں جمہوریت بہتر نظام ہے یا آمریت، تو آمریت کے حق میں لوگ زیادہ بولتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک کم پڑھا لکھا شخص، نیم خواندہ یا ان پڑھ معاملات کو سطحی انداز میں پرکھتا ہے اور صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کی دال روٹی جمہوری دور میں بہتر چلتی ہے یا آمرانہ دور میں۔پڑھا لکھا اور مالی طور پر آسودہ فرد اس کے برعکس رائے رکھتا ہے سوائے ان کے جن کے آمریت سے سیاسی اور مالی مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ اس طبقے میں آمریت کے حامی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے خاندان میں ایک یا ایک سے زیادہ لوگ آمریت میں سانجھے دار ہوتے ہیں۔ یہ مشرف کے دور کی بات ہے،میرا ایک غیر ملکی جرنلسٹ دوست قائداعظم یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں سٹوڈنٹس سے جمہوریت اور آمریت سے متعلق سوالات کرر ہا تھا۔ ایک لڑکے سے اس نے پوچھا کہ جمہوریت بہتر نظام ہے یا آمریت تو اس نے جھٹ سے کہا آمریت۔ لڑکا چہرے اور لباس سے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔مجھے تھوڑا تجسس ہوا تو میں نے پوچھا آپ کے گھر والوں نے کس پارٹی کو ووٹ دئیے تھے اس نے کہا مسلم لیگ (ق) کو۔ میں نے مزید کریدا مسلم لیگ (ق) کو کیوں دئیے، مسلم لیگ (ن) کو کیوں نہیں؟ میری بات پر مسکرا دیا اور کہنے لگا پہلے مسلم لیگ (ن) کو دیتے تھے لیکن اب (ق) لیگ کو دئیے کیونکہ میرے ایک چچا پہلے مسلم لیگ (ن) میں تھے اب مسلم لیگ (ق) کے ایم پی اے ہیں۔ جب بات میری سمجھ میں آگئی تو میں نے اپنے غیر ملکی دوست کو سمجھائی کہ جب اس لڑکے کا چچا مسلم لیگ (ن) کا حامی تھا تو یہ فیملی جمہوریت کے حق میں تھی لیکن اب چونکہ (ق) لیگ مشرف کے ساتھ ہے تو یہی فیملی آمریت کوسپورٹ کر رہی ہے۔ وہ بھونچکا رہ گیا،کہنے لگا یہ تو کوئی اصول اور قاعدے کی بات نہ ہوئی، میں نے ہنس کر کہا یہاں آپ کو لاتعداد ایسے لوگ ملیںگے جن کی حمایت یا مخالفت کسی نظرئیے یا نصب العین کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اپنی ذات اور مفاد کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ ذات اور مفاد کی سوچ جمہوریت میں بھی پنپتی ہے لیکن آمریت میں اسے پر لگ جاتے ہیں۔لوگ شارٹ کٹ کے عادی ہو جاتے ہیں۔ راتوں رات امیر بننے کے چکر میںہر شخص اتنی تیزی دکھاتا ہے کہ حلال حرام کی تمیز ختم ہو جاتی ہے،۔ ایک سرکاری کام پر اگر دس سے پندرہ روز لگتے ہیں تو لوگ رشوت دے کر یہی کام دو روز میں کراتے ہیں۔محنت مشقت کے عادی نہیں رہتے اور وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس میں محنت کم اور وصولی زیادہ ہو، مثال کے طور پر پراپرٹی کا بزنس جس پر مشرف آمریت کے ایک اہم کل پرزے شوکت عزیز نے پوری قوم کو لگایا تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کروڑ پتی اور ارب پتی ہوئی۔اس نئی کلاس کو ایک بڑی تعداد نے راتوں رات امیر ہوتے دیکھا تو وہ بھی کمائی کے اس ذریعے کی اسیر ہو گئی۔ پھر چل سو چل،اور اب یہ عالم ہے کہ ہر شخص پراپرٹی کا بزنس کرنا چاہتا ہے۔ 

پاکستان میں قابل کاشت زرعی زمینوں کی بہتات تھی لیکن اب یہ زمینیں بہت کم رہ گئی ہیں۔ انہیں یا تو سوسائٹی بنانے کے لئے مختص کر دیا گیا ہے یا ان پر سوسائٹیاں بن چکی ہیں۔پلازوں کے چکر میں لاکھوں کی تعداد میں درخت کاٹے جا چکے ہیں اور پورا پاکستان کنکریٹ کے پہاڑوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔
پراپرٹی کے کاروبار میں پیسہ آتا ہے تو رہائش کے معیار بھی بدل جاتے ہیں۔ بنگلہ ہو اور گاڑی نہ ہو تو بیگم صاحبہ کی ناک کٹنے لگتی ہے اور گاڑی آجائے تو پھر گھر کا پرانا سامان کاٹنے کو دوڑتا ہے چنانچہ ٹی وی کی جگہ ایل ای ڈی، پرانے بیڈز کی جگہ نئے قیمتی بیڈز، پرانے صوفوں کی جگہ امیریکن سٹائل کے نئے صوفے،اعلیٰ پائے کی کچن اسسریز اوراسی طرح کے ڈھیر سارے دیگر لوازمات،لیکن چلئے اور تو سب گوارا لیکن کیا کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ گاڑیوں کی سالانہ تعداد میں جو خوفناک اضافہ ہو رہا ہے یہ کہاں جا کر رکے گا؟ سڑکوں کو ایک حد سے زیادہ کشادہ نہیں کیا جا سکتا تو پھر ٹریفک کی کیا صورت حال ہوگی؟ اسلام آباد کی کشمیر ہائی وے موٹر وے سے بہت زیادہ کشادہ ہے لیکن چند روز پہلے اس پر سفر کرتے ہوئے میں نے ساری لینز کو پیک دیکھا تو توبہ توبہ کر اٹھا۔شوکت عزیز کا دوسرا '' احسان'' اس ملک اور قوم پر یہ ہے کہ انہوں نے ہنڈا طرز پر موٹر سائیکلوں کی مینو فیکچرنگ کی اجازت دی تو لاکھوں موٹر سائیکلوں کو مارکیٹ میں کھپانے کے لئے ڈیلروں نے قسطوں پر موٹر سائیکلیں بیچنا شروع کر دیں اور سستی سواری کے چکر میں ہر بچہ بوڑھا اور جوان اس پر چڑھ بیٹھا اور آج بڑے شہروں میں یہ حالت ہو چکی کہ ایمبولینسوں میں مریض تڑپ رہے ہوتے ہیں لیکن پھنسی ہوئی ٹریفک کو کئی ٹریفک اہلکار مل کر بھی نہیں کھول سکتے۔
آمریت کچھ سالوں بعد ختم تو ہو جاتی ہے لیکن اپنے پیچھے ایسا خوفناک کلچر اورروایت چھوڑ جاتی ہے کہ جمہوریت بھی اس کے سامنے ہار مان جاتی ہے، ذرا تصور کریں کہ اگر موجودہ حکومت پراپرٹی کے کاروبار کی حوصلہ شکنی کرے تو لاکھوں کی تعداد میں جو لوگ اس کاروبار سے وابستہ ہیں وہ اسے ایسا کرنے دیں گے؟اس پر مستزاد ایسی جمہوری حکومت جس کے کرتا دھرتانہ تو کوئی قومی وژن رکھتے ہیں نہ پانچ دس سال آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔جمہوریت کا سفر جاری رہنا چاہئے شائد کبھی ویژنری لیڈرشپ بھی قوم کو میسر آجائے۔