Daily Mashriq


کیا میں نے جھوٹ بولا

کیا میں نے جھوٹ بولا

آج اس طبقے کا ذکر مقصود ہے جن کی نظر صرف اپنی کمائی پر ہوتی ہے۔ انسان کی حیثیت ان کی نظر میں ککھ بھی نہیںہوتی۔ان لوگوں کا اپنا ایک لائف سٹائل ہوتا ہے' مخصوص مطمح نظر رکھتے ہیں۔ ہماری مراد بنیوں سے ہے۔ یہ کچھ عجیب و غریب قسم کی کائیاں مخلوق ہے جب تک یہ لوگ دو اور دو کو بلین نہ بنائیں کھانا ان کا ہضم نہیں ہوتا۔ ہم نے ان کے لائف سٹائل کی بات کی۔ از راہ مثال ہمارے ایک عزیز کا ذکر سن لیجئے' اللہ بخشے گزر چکے ہیں۔ ان کی کپڑے کی بہت بڑی دکان تھی' تھوک کا کاروبار کرتے تھے۔ عید کے دنوں میں بھی ان کی دکان کا آدھا شیٹر کھلا رہتا۔ ایک دفعہ اپنی بند دکان کے سامنے عید کے دن کچھ تھان رکھے بیٹھے تھے۔ پوچھا' عید نہیں منائی' بولے یہ سامنے مسجد میں نماز پڑھ لی' تو پھر جا کر لوگوں سے عید ملئے؟ گھر میں شیر خرما اور سویاں کھائیے۔ جی نہیں ' ان کا جواب تھا' عید کے روز بھی تو لوگ مرتے ہیں نا' ان کے لئے کفن کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کار خیر کے لئے بیٹھا ہوں۔ کروڑ پتی تھے' زندگی کے آخری دن تک بائی سائیکل کے علاوہ کوئی دوسری آرام کی سواری نصیب نہ ہوئی۔ لاہور سے کپڑے خریدنے جاتے' کہتے ازراہ مجبوری بس میں سفر کرنا پڑتا ہے ورنہ تو مردان سے شاہ عالمی تک بھی بائی سائیکل پر ہی جاتا۔ جب مرے تو ایک رشتہ دار نے کہا' لالہ کو فوراً دفنا دو' اچانک دکان کھولنے نہ چل پڑیں' کہیں گے غسل بعد میں دینا پہلے دکان تو کھول آئوں۔ انہیں کام کام اور صرف کام پر پورا ایقان تھا۔ آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا کہ ایک بنیا چلچلاتی دھوپ میں بیٹھا تھا' کسی نے کہا وہاں چھائوں میں بیٹھئے۔ ترفت جواب دیا' پیسے کتنے دو گے۔ اسی سے کسی نے ایک دفعہ پوچھا۔ جنت جانا پسند کرو گے یا دوزخ۔ پورے اطمینان سے جواب دیا جہاں دو پیسے کا فائدہ ہوگا۔ ایک شخص دریا میں ڈوب رہا تھا کنارے پر کھڑے آدمی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ' ہاتھ دو' وہ اسی طرح غوطے کھاتا رہا۔ کہیں سے آواز آئی بنیا ہے بدبخت ڈوب جائے گا ' ہاتھ نہ دے گا یہ صرف لینا جانتا ہے دینا نہیں' اسے کہو ہاتھ لو۔ ہمارے سکول کے زمانے کے ایک دیرینہ دوست ہیں۔ بازار میں ان کا بہت بڑا سٹور ہے۔ ایک روز پوچھ بیٹھے' چائے پیتے ہو۔ ہم نے اپنے اس بنئے دوست کے جملے کی قواعدی ساخت پر کسی غور کے بغیر بلا سوچے سمجھے ہاں کردی۔ صبح و شام دونوں وقت یا صرف ایک بار؟ ہم ہونق بن کر دیکھتے رہے۔ مزید فرمایا' بندہ خدا ' چائے کا نہیں صرف تم سے چائے نوشی کے اوقات پوچھے تھے۔ کل ہی ایک تحریر میں اسی نوع کے بنئے کا لطیفہ پڑھا۔ بنئے نے اپنی بات میں وہ Saspance پیدا کیا ہے کہ منٹو کے بس کی بات بھی نہ تھی۔ ہوا یوں کہ کچھ لوگ ایک سیٹھ کے پاس گئے اور کہا ہم ایک نیک مقصد کے لئے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں' براہ کرم آپ بھی اس میں حصہ ڈالیں۔ سیٹھ بولا' میری چھوٹی معذور بیٹی ہے کیا اس کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اس کی آسائش کی ہر چیز مہیا کرنا نیک کام نہیں۔ لوگوں نے کہا' یقینا یہ بہت بڑی نیکی ہے اس کے بعد سیٹھ نے کہا' میری ایک بیوہ بہن ہے اس کا کوئی روز گار نہیں' کیا اس کے اخراجات پورے کرنا' اس کے بچوں کی فیسیں' وردیاں اور کتابیں مہیا کرنا اور نان نفقہ میں اس کی مدد کرنا نیک کام نہیں؟ انہوں نے کہا' یقینا ہے۔ سیٹھ صاحب پھر بولے' میرا باپ بوڑھا اور بیمار ہے' کیا اس کے علاج کی سہولتیں مہیا کرنا اور اس کی ضروریات کا خیال رکھنا نیک کام نہیں؟ وہ لوگ بولے سبحان اللہ ' اپنے باپ کی خدمت کرنے سے بڑی نیکی اور کیا ہوسکتی ہے؟ اس پر سیٹھ نے اپنا پیٹ کھجلاتے ہوئے ارشاد فرمایا' میں یہ سارے کام جو نہیں کرتا تو تمہیں چندہ کس لئے دوں۔ ان کا یہ بتانا تھا کہ نیکی کا کام کسی بنئے کی کیمسٹری میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ وہ اس پر سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بالکل اسی طرح ایک نیک شخص نے نہر میں ڈوبتے بچے کو نکال کر اس کے گھر پہنچایا۔ دوسرے روز صبح سویرے اس کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر نکلا تو دیکھا محلے کا ایک بنیا اس کے سامنے کھڑا تھا۔ پوچھنے لگا' میرے بچے کو تم نے نہر سے نکالا تھا' نیک شخص سمجھا بنئے صاحب میرا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ بولا' سیٹھ صاحب یہ تو میرا فرض تھا۔ اتنی بڑی بات نہیں۔ بنیا غصے سے بولا' کیسی بڑی بات نہیں۔ اس کی ٹوپی کہاں ہے؟ یہ اور اس طرح کی بے شمار مثالیں ' کاروباری لوگوں کے بارے میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان کی نظر ہمیشہ اپنے فائدے کے کاموں پر ہوتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء میں اضافے سے منافع کتنا بڑھ سکتا ہے۔ سرخ مرچوں میں کس مقدار سے سرخ اینٹیں پیسنے سے زیادہ کمائی ہوسکتی ہے۔ دو نمبر کی ادویات سے منافع میں کتنے فیصد اضافہ ہوگا اور دو دھ میں پانی ملانے سے مزید کتنی رقم ہتھیائی جاسکتی ہے۔ اب ہم آپ کو کیا بتائیں جب صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن سے بنیا ذہنیت کے لوگ باز نہیں آتے تو آپ ان سے اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔ خادم اعلیٰ نے تو فرما دیاہے کہ ہم ذمہ داروں کو سزا دیں گے۔ اگر وطن عزیز میں سزائیں دینے کی کئی روایت قائم ہوتی تو قوم و ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔ کیا میں نے جھوٹ بولا؟

متعلقہ خبریں