Daily Mashriq

یہاں پگڑی اُچھلتی ہے اسے مے خانہ کہتے ہیں

یہاں پگڑی اُچھلتی ہے اسے مے خانہ کہتے ہیں

وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے نارووال میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کو بلاناغہ اور روزانہ جھوٹ بولنے والے کہا وہیں وہ میڈیا سے بھی شکوہ کناں نظرآئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پگڑیاں اُچھال رہا ہے اور عوام نے مایوسی پھیلانے والے چینل دیکھنا چھوڑ دئیے ہیں ۔میاں محمدنوازشریف سیاست کی دنیا کے شہسوار ہیں اور اپنے سیاسی بھائی بندوں کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں اور کیوں کہتے ہیں یہ تو سیاسی کلاس کا باہمی معاملہ ہے ۔ایک زمانہ ہوتا تھا جب ملک دوبڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن اور دو بڑی شخصیات بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے درمیان شدید محاذ آرئی کی زد میں تھا ۔پھر وقت اور حالات نے دونوں سیاسی شخصیات کو ماضی کے واقعات اور تجربات کی روشنی میں مستقبل کے لئے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کیا اور دونوں سیاسی شخصیات نے عالم جلاوطنی میں ''میثاق جمہوریت '' کے نام سے ایک معاہدے پر دستخط کئے ۔گو کہ عملی طور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں ماضی بعید کی دوری اور ماضی قریب کی طرح قربت نہیں اور پیپلزپارٹی کی قیادت اکثر مسلم لیگ ن کے خلاف گرم گفتاری کا مظاہرہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے اس کے باجود دونوں جماعتیں میثاق جمہوریت کی ڈور میں بندھ کر ایک دوسرے کے لئے مشکلات کو ایک حد سے آگے بڑھانے کو تیار نہیں ہوتیں ۔دونوں جماعتیں سسٹم بچانے کے نام پر دو مخالف سمتوں کی جانب رواں رہنے کی بجائے دو متوازی لکیروں پرایک سمت میں رواں دواں دکھائی دے رہی ہیں۔آج تحریک انصاف کی صورت میں ایک اور جماعت اس دلکش اور جاں فزا منظر نامے کو احتجاجی سیاست کے ذریعے خراب کر رہی ہے کیا عجب کل وہ بھی سسٹم بچانے کے لئے اسی سیاسی کیمپ کا حصہ بن جائے ۔سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی نہ مستقل دوست اور دشمن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں قومی اتحاد کے زمانے میں ائر مارشل اصغر خان جیسی شخصیات بھٹو صاحب کو اقتدار سے ہٹانے میں پیش پیش تھیں اور اس حوالے سے فوج کو مداخلت کی دعوت کے حوالے سے ان کا ایک خط بھی بحث کا موضوع بنا تھا ۔پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ بلند کرنے میں بھی وہ پیش پیش تھے مگر جب جنرل ضیاء الحق نے ملک میں اقتدار کو طول دینے کاراستہ اختیار کیا تو ائر مارشل اصغر خان ایم آرڈی کے پلیٹ فارم پر کندھے سے کندھا ملا ئے چلنے لگے ۔کچھ یہی حال بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خان کا تھا ۔چونکہ پاکستان کی سیاست میں استحکام نام کی کوئی چیز نہیں اس لئے یہاں کی سیاست میں تو سرے سے کوئی بات حرف ِآخر نہیں ہوتی ۔اصل معاملہ میڈیا سے پگڑیاں اُچھالنے کا شکوہ ہے۔میڈیا حالات کا آئینہ ہوتا ہے ۔جس طرح آئینہ بلا کم وکاست منظر کا عکس دکھاتا ہے بالکل اسی طرح میڈیا بھی معاشرے کے حالات و واقعات کی خبر دیتا ہے اور اس کا تجزیاتی انداز میں جائزہ لیتا ہے ۔عین ممکن ہے کہ خبر دینے کا انداز غیر متوازن ہو ۔پیرایۂ اظہار میں جانبداری جھلکتی ہو مگر یہ نہیں ہوتا کہ میڈیا دن کو رات اور رات کو دن کہتا اور دکھاتا ہو۔عدالت میں پانامہ پانامہ کی باتیں چل رہی ہوں ۔جلسوںاور جلوسوں میں پانامہ کے نام پر ہنگامہ آرائی جاری ہو ۔تو میڈیا اس سے ہٹ کر کیا دکھائے اور کیا سنائے؟جمہوریت میں ادارے عوامی طاقت سے اپنی توانائی اور تگ وتاز کشید کرتے ہیں اور جواب میں عوام اس طاقت کا احتساب کرنے کا فطری حق بھی رکھتے ہیں۔شاید اسی کیفیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ 

یہاں پگڑی اُچھلتی ہے اسے مے خانہ کہتے ہیں
پانامہ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت کے ایک معزز رکن اپنے ریمارکس یوں دیں گے کہ'' وزیر اعظم میاںنواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی زندگی کھلی کتاب ہے مگر اس کتاب کے کچھ صفحات گم ہیں''تو میڈیا ان ریمارکس کو کس طرح پیش کرسکتا ہے ؟ پگڑیاں اُچھلنا جمہوری کھیل کاحصہ ہے ۔سیاست کے کھیل میںپگ کو سلامت اور محفوظ رکھنے کے خواہش مندوں کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ پگڑی اور دامن دونوں کو داغدار ہونے سے بچائے رکھیں ۔سیاسی جماعتوں کے جلسوں کو کور کرنا ،وہاں اداہونے والے جملوں اور بلند ہونے والے نعروں کو رپورٹ کرنا ،عدالتی کارروائیوں کو دنیا کے سامنے لانا میڈیا کا کام ہے ۔عدالت میں پانامہ پانامہ ہوتا رہے اور میڈیا جج صاحب کی ٹائی کوٹ کا رنگ وہاں چلنے والے کافی کے دور اور کمرہ عدالت کی منظر کشی نہیں کر سکتا ۔کچھ یہی حال سیاسی جلسوں کا ہے وہاں جو کچھ ہوتا ہے میڈیا وہی دکھا ،سنا اور پڑھا سکتا ہے نہ یہ کہ عمران خان کی مخصوص چپل کے رنگ اور ان کی قمیض کے کف لنکس اور بنی گالہ کے حدودِ اربع پر بحث کرے ۔یہ بات طے ہے کہ جمہوریت میں اشرافیہ کے رنگ ڈھنگ اور سلاطین جیسے ناز وانداز نہیں چلتے۔دنیا میں جہاں کہیں جمہوریت ہے وہاں حکمرانوں کی غلطیوں پر پنڈورہ باکس کھل جاتے ہیں ۔ہمار سٹائل چونکہ اشرافیہ جیسا ہے ہم جاگیردارانہ اور قبیلائی معاشرے کا حصہ ہیں خانقاہی ثقافت کے خوگر ہیں، اس مزاج کے زیر اثر چاہتے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو قبیلے کے سربراہ ،جاگیر کے مالک یا کسی خانقاہ کی روحانی شخصیت جیسی عزت اور تکریم ملے ۔یہ جانے بغیر کہ غیر مشروط عزت ،تکریم اور سروری صرف رب کعبہ کو زیبا ہے اور سلطانی ِ جمہور میں تقدس اداروں فقط اداروں کو ہوتا ہے۔ وہ بھی اس وقت تک جب تک کہ وہ کچھ اصولوں اور ضوابط پر عمل پیرا نہیں رہتے۔

اداریہ