چینیوں کے طور طریقے

چینیوں کے طور طریقے

ڈاکٹر ثاقب چین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں آج کل چھٹی پر اپنے شہر پشاور آئے ہوئے ہیں وہ چین کے حوالے سے مزے مزے کی باتیں بتاتے ہیں۔ بندہ جب اپنے وطن سے باہر نکلتا ہے تو اس کی سوچ میں اسی لیے وسعت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ نت نئی چیزیں دیکھتا ہے سفر کو اسی لیے وسیلہ ظفر کہا گیا ہے کہ تجربات میں اضافہ ہوتا ہے سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے علم بڑھتا ہے اسی لیے سیانے کہتے ہیں کہ علم صرف کتابوں سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زندگی کی کتاب کا بھی مطالعہ کرے ۔ہمیں اکثر چین کے حوالے سے بہت سی باتیں جاننے کا موقع ملتا رہتا ہے اسی لیے جی چاہتا ہے کہ ان باتوں کو اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ایک مرتبہ چین کی ایک مشہور و معروف یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک گھنٹے کے لیے ہڑتال کی یعنی کلاسوں کا بائیکاٹ کیاوہاں ہڑتال کرتے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وقت ضائع نہ ہو اسی لیے ساتھ وقت دیا اور ہڑتال کا سبب کیا تھا؟ یونیورسٹی چونکہ ایئر پورٹ کے قریب تھی اس لیے جہاز ائیر پورٹ پر اترتے وقت نیچی پرواز کرتے ہیں طلبہ کا موقف یہ تھا کہ جہازوں کے شور سے ہماری تعلیم میں ہرج ہوتا ہے۔ ہڑتال کی وجہ بھی تعلیم کا حصول تھا کتنا شاندار موقف ہے !چین میں وقت کی پابندی کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے اساتذہ کرام اپنی کلاسوں میں مقررہ وقت سے پانچ منٹ پہلے پہنچ جاتے ہیں تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو ایک فیمیل ٹیچر جن کی عمر ساٹھ کا ہندسہ چھورہی ہے روزانہ آٹھ میل پیدل چلتی ہیں تاکہ فٹ رہیں اور اپنا کام بطور احسن سرانجام دے سکیں۔ چین کے لوگوں کی ایک بہت ہی اچھی عادت سحر خیزی ہے وہ لوگ رات کو جلدی سوجاتے ہیں اورپھر صبح سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلے باغوں کا رخ کرتے ہیںپارکوں میں دوڑتے رہتے ہیں چین میں یہی وجہ ہے کہ موٹا آدمی کالے گلاب کی طرح نایاب ہوتا ہے۔ جو لوگ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں انہیں بہت سے جسمانی عوارض لاحق ہوجاتے ہیں اور پھر آج کل تو سیل فون کی برکات کی وجہ سے ہمارے طالب علم ساری ساری رات جاگ کر گزار دیتے ہیں۔ رات تو اللہ پاک نے آرام کے لیے بنائی ہے ساری رات سیل فون کے ساتھ اٹکھیلیاں کرنے والا طالب علم صبح کالج وقت پر نہیں پہنچ سکتا اور اگر گرتا پڑتا کالج وقت پر پہنچ بھی جائے تو پھر سارا دن کلاسوں میں اونگھتے گزار دیتا ہے کہاں کی تعلیم اور کہاں کا احساس ذمہ داری ! ہمیںسحر خیزی کے حوالے سے کس کس طرح آمادہ کیا جاتا ہے لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو سحر خیز ہیں ۔اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

عطار ہو،رومی ہو،رازی ہو ،غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
وہاں ٹیچر صرف پڑھاتے نہیں ہیں بلکہ طلبہ کو پڑھنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طلبہ کو کلاسوں میں آنے پر آمادہ کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے اگر طالب علم کلاس میں آنے سے گریزاں ہے تو اس میں بھی ٹیچر کا قصور ہے۔ اگر کوئی طالب علم بیمار ہو جائے تو وہ باقاعدہ استاد کو فون پر اطلاع کرتا ہے استاد اس بات کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ طالب علم کی ہر بات کا خیال رکھے بہت سے اساتذہ کرام طلبہ کوبیمار ی کی حالت میں ڈاکٹرز کے پاس بھی لے جاتے ہیں۔ دراصل وہاں تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے جو تعلیم دے رہا ہے وہ بھی قابل احترام ہے اور جو تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کی عزت بھی لازم ہے وہ اس راز کو پاچکے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں تعلیم کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے ۔آج اکیسویں صدی میں اگر کوئی قوم تعلیم میں پسماندہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ہر لحاظ سے پسماندہ ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ کام کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کام کام اور بس کام! ہم نے ان کا دیا ہوا سبق بھلادیا ہم آرام آرام اور بس آرام کے قائل ہیں ہمارے بچے نجی تعلیمی اداروں میں بھاری بھرکم فیسوں کے عوض تعلیم حاصل کرتے ہیں ہمارے یہاں صاحب حیثیت لوگ علاج کے لیے نجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں فیس کے عوض ہر قسم کی سہولت میسر ہوتی ہے لیکن ہم نوکری سرکار کی کرنا چاہتے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہاں آرام کرنے کے مواقع بہت ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ اداروں میں ملازمت کرنے والوں سے ٹھیک ٹھاک کام لیا جاتا ہے کیونکہ جو سرمایہ کاری کرتا ہے اس نے منافع بھی حاصل کرناہوتا ہے ۔ چین میں دفتری اوقات میں سیل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہے وہاں پابندی کا مطلب پابندی ہوتا ہے ہمارے یہاں بھی دفتری اوقات میں بہت سی باتوں پر پابندی ہے لیکن کس کو کہہ رہے ہو! یہاں اصول و قواعد کاغذات میں تو موجود ہوتے ہیں لیکن ان پر عمل ہوتے نظر نہیں آتا اگر چین میں کسی کا باپ یا کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے تو کام کرتے ہوئے ورکر کو کام کے دوران اس کے باپ کے مرنے کی اطلاع نہیں دی جاتی تاکہ وہ کام کرتا رہے جب وہ کام سے فارغ ہوجائے تو اسے میت کی اطلاع دی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس قسم کے حادثات تو زندگی کا حصہ ہیں پہلی ترجیح ملک و قوم کی ترقی ہے اور ترقی کا راز کام میں پوشیدہ ہے چینی پاکستانیوں سے بہت محبت کرتے ہیں کتنا اچھا ہو کہ ہم بھی چینیوں کی طرح کام کرنے کے جذبے کو پروان چڑھائیںاس کے علاوہ ہمیں یہ حقیقت بھی نہیں بھلانی چاہیے کہ چین یکم اکتوبر9 194کو عالم وجود میں آیاتھا مگر آج اس کا شمار دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔

اداریہ