Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ضحاک شاری ایک خارجی امام ابوحنیفہ کے پاس آیا ۔ اور اس نے دیکھتے ہی یہ کہااے ابوحنیفہ اللہ سے معافی مانگو توبہ کرو آپ نے پوچھا کہ کیا جرم کیا ہے جس کی معافی مانگوں۔خارجی نے کہا آپ نے حضرت علی اور امیر معاویہ کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات میںتحکیم کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔امام ابوحنیفہ نے کہا کہ تم اس مسئلے پر میرے ساتھ مناظرہ کرنا چاہتے ہو۔ خارجی نے کہا ہاں میں تیار ہوں ۔ امام ابوحنیفہ نے کہا ہمارے درمیان ہونے والے مناظرے کا فیصلہ کون کرے گا؟ خارجی نے کہا جس کو آپ چاہیں جج بنالیں۔ امام ابوحنیفہ نے خارجی کے ساتھیوں پر نظر دوڑائی اورفرمایااس کو حکم بنالیں۔ میںآپ کے ساتھی جو جج بنانے پر راضی ہوں کیا تم بھی راضی ہو۔خارجی خوش ہوگیا۔ اور اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔امام ابوحنیفہ نے فرمایا بڑے افسوس کی بات ہے ۔ تم آج خود میرے اور اپنے درمیان ہونے والے جھگڑے کا فیصلے کرنے کیلئے تحکیم کو جائز قرار دیتے ہو۔ اور اللہ کے دو عالی شان صحابہ کے درمیان ہونے والے اختلافات کو مٹانے کی خاطر تحکیم کا انکار کرتے ہو۔ مجھے افسوس ہے تیری عقل ودانش پر ۔ اور تیرے انداز فکر پر۔یہ سن کر خارجی ششدررہ گیا اور اسے کوئی جواب سبھائی نہ دیا۔۔
بہادر شاہ کے زمانہ 1121ھ اور اس کے چوتھے سال کا ذکر کہ کسی مذہبی معاملے پر فضلائے لاہور نے شورش کی ۔ بادشاہ نے ان کو بلوایا۔ حاجی یار محمد اور محمد مراد تین چار مشہور فاضلوں کے ساتھ بادشاہ کے پاس گئے ۔ بادشاہ نے رعب دکھا کر اور آنکھیں غصہ سے لال پیلی کر کے ایک سوال کیا۔دربار کو توقع تھی کہ علمائے لاہور اپنے دعوے سے دست بردار ہو کر عفو تقصیرات کے خواہش مند ہوں گے ۔ لیکن حاجی یارمحمد نے بادشاہ کے قول کا ایسا رد کیا کہ اس کا جواب نہ ہوسکا۔ بادشاہ نے برآشفتہ ہو کر کہا کہ بادشاہوں کے غضب سے نہیں ڈرتا۔ حاجی یار محمد نے جواب دیا مجھے اپنے خداوندکریم سے ہمیشہ چار چیزوں کی خواہش رہی اول تحصیل علم ، دوم حفظ کلام اللہ ، سوم حج ۔ چہارم شہادت، الحمد للہ، اس نے تین نعمتیں عطا کیں، اب شہادت کی آرزو باقی ہے۔ بادشاہ کی توجہ سے ممکن ہے اس میں بھی کامیاب ہوجائوں۔تاریخ میں لکھا ہے کہ حاجی یار محمد کا یہ استقلال اور حوصلہ دیکھ کر تقریباً ایک لاکھ آدمی اس کے ساتھ متفق ہوگئے۔ واقعہ یہ تھا کہ بہادر شاہ خطبہ میں کچھ الفاظ بڑھانا چاہتا تھااور علمائے اہل سلطنت اس سے انکار کرتے تھے۔ آخر بادشاہ کو ہار ماننی پڑی اور خطبہ وہی رہا جو عالمگیر کے زمانے میں پڑھا جاتا تھا ۔بادشاہ نے دل میں کدورت رکھی اور آخر کسی بہانہ سے حاجی یار محمد اور اس کے دو ہمراہیوں کو قلعہ میں بند کر دیا، لیکن ان تکلیفوں اورنظربندیوں پر بھی انہوںنے ضمیرفروشی سے کام نہ لیا۔ (تاریخ ہند)

اداریہ