Daily Mashriq


سہل عدالتی نظام، صوبائی حکومت کی سنجیدہ سعی

سہل عدالتی نظام، صوبائی حکومت کی سنجیدہ سعی

خیبر پختونخوا کابینہ کی دیوانی مقدمات کی تیز سماعت اور تنازعات کے فوری حل کیلئے 109 سال پرانے سول پروسیجر کوڈ میں ترامیم کی منظوری دیر آید درست آید کے عین مصداق ہے، جس کے بعد دیوانی مقدمات کا فیصلہ ایک سال کے اندر ہونے کی اُمید ہوگی۔ نئے قوانین کے تحت کسی بھی مقدمے کی عدالت میں آنے کے بعد وکلاء اور فریقین کی حاضری یقینی بنائی جائیگی اور تاریخوں کا تعین بھی مشاورت سے کیا جائیگا۔ جس کے بعد 60 دن میں پلیڈنگ کا عمل مکمل ہوگا۔ کسی بھی اضافی درخواست کا فیصلہ انہی ساٹھ روز میں کیا جائیگا۔ پلیڈنگ کے بعد دستاویزات کی تفتیش اور تصدیق 30دنوں میں ہوگی۔ ٹرائل کے مرحلے میں روزانہ سماعت ہوگی جو فریق عدالت کا حکم نہیں مانے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ عدالت کو کسی بھی مرحلے میں سمری فیصلہ سنانے کا بھی اختیار ہوگا۔ اپیلیٹ عدالت کو اضافی شہادت سننے کا اختیار ہوگا اور اس مقصد کیلئے کیس ماتحت عدالت ریفر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول عدالت اور اپیلیٹ عدالت15 دن میں فیصلہ سنانے کی پابند ہوںگی۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پریس کانفرنس میں اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ مقدمات کی سماعت تیز کرنے کیلئے حکومت اپنے دائرہ اختیار کے اندر عدالتوں میں ججوں اور دیگر عملے کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کریمنل پروسیجر کوڈ میں اصلاحات کیلئے بھی صوبائی حکومت نے تجاویز تیار کی ہیں جسے وفاقی حکومت کو بھجوایا جائیگا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سول پروسیجر کوڈ میں تبدیلی کا اختیار ملنے کے بعد صوبے میں عدالتی نظام میں مجوزہ اصلاحات اگر پہلے ہی ہوجاتیں تو اب تک ان سے ہزاروں سائلین فائدہ اٹھا چکے ہوتے، بہرحال اب بھی دیر نہیں ہوئی خیبر پختونخوا میں مقدمات جلدسے جلد نمٹا نے کیلئے جو طریقہ کار طے کیا جارہا ہے اور جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان کے نفاذسے سول مقدمات میں حصول انصاف کی جو راہ ہموار ہوگی اس کے اثرات نہ صرف عدالتی نظام بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہونگے۔ پہلے پہل سول مقدمات کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر صرف پیشیاں بھگتنے کا رواج تھا بعض اوقات اخبارات میں اس طرح کی خبریں شائع ہو جاتی ہیں کہ دادا کے دائر کردہ مقدمے کا فیصلہ ان کے پوتے اور پڑ پوتے کو سالوں بعد ملا ۔ حق اور انصاف کی فراہمی میں جس قدر تاخیر ہوگی اس سے عدالتی نظام پر انگشت نمائی کا ہونا فطری امر کہلائے گا جبکہ اس نظام کا سب سے محروم اور مظلوم طبقہ عدالت سے اپنے حق کے حصول کیلئے رجوع کرنیوالا ہوتا ہے، بہرحال اس طرح کی صورتحال کا صوبائی حکومت کی جانب سے ادراک اور مجوزہ قانون سازی اُمید کی وہ کرن ہے جو جتنا جلد پھوٹے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ ہمارے تئیں خیبر پختونخوا میں عدالتی نظام ، مشینری ، فعالیت اور عملے سبھی کو فاٹا تک عدالتی نظام کی توسیع کی صورت میں سامنا ہوگا۔ پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے کے بعد ہائیکورٹ میں قبائلی علاقوں سے بھی مقدمات کی آمد شروع ہو جائے گی۔ پہلے سے مقدمات کے بوجھ تلے دبے عدالت عالیہ کیلئے اس طرح کی صورتحال سے نمٹنا تقریباً نا ممکن ہوگا ۔ فی الوقت پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرسکنے کی حد تک صورتحال واضح ہے، قبائلی علاقوں میں سول و سیشن کورٹس کے قیام بارے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا ۔ بہرحال بالآخرقبائلی علاقہ جات میں سول و سیشن کورٹس کا قیام بعید از امکان نہیں بلکہ عدالتی نظام کی ضرورت ہوگی۔ ایک علاقہ جہاں فرنگی کا ظالمانہ نظام رہا ہو، پولیٹیکل انتظامیہ کے مظالم سے عوام گزرے ہو ں، ان علاقوں تک عدالتی نظام کی توسیع کے بعد لوگوں کی بہت بڑی تعداد کا عدالتوں سے انصاف کیلئے رجوع عینمتوقع امر ہے، جس کا ادراک اور اس کیلئے ابھی سے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس وقت بندوبستی علاقوں میں سول کورٹس میں مقدمات کی جو صورتحال ہے اس میں انصاف کے حصول میں تاخیر کے باعث ہی حقدار اپنے حق کیلئے عدالت سے رجوع اور رقم دونوں کا ضیاع سمجھ کر یا تو معاملہ اوپر والے پر چھوڑ دیتے ہیں یا پھر نام نہاد جرگوں کے ذریعے اپنے حق کی تقسیم پر مجبوراً راضی ہوتے ہیں یا پھر ’’ٹوپک زما قانون ‘‘ والا کھیل کھیلا جاتا ہے، محولہ تینوں صورتیں قابل قبول نہیں، خاص کر بندوق اُٹھا کر انصاف مانگنے کا طریقہ کار قتل مقاتلے، دشمنی اور ایک نہ ختم ہونے والی برائی کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس ساری صورتحال کا واحد حل فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہے جس کی طرف جتنی جلد پیشرفت اور اقدامات سامنے آئیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے عدالتی نظام میںایسے احسن اقدامات کو ممکن بنائے گی جس سے صوبے کے عوام کو حصول انصاف کی راہ میں ضرورت سے زیادہ مشکلات اور مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس طرح عوام کو اپنے حق کے حصول کیلئے عدالت سے رجوع میں نہ تو تامل ہوگا اور نہ ہی ان کو عدالتی بھول بھلیوں میں کھو کر دہائیاں دینے کی ضرورت پیش آئے گی ۔

متعلقہ خبریں