Daily Mashriq


مال مفت دل بے رحم

مال مفت دل بے رحم

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری خرچ پر بیرون ممالک کے دوروں پر عائد پابندی کے باوجود صوبائی وزرائ، مشیر، معاونین خصوصی، پارلیمانی سیکرٹریز اور حکومتی و اپوزیشن ارکان اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کے بیرون ملک دوروں پر کروڑوں روپے کے اخراجات کی شاید یہی تو جیہہ پیش ہو سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ صوبائی حکومت اور صوبے کا حصہ نہیں بلکہ کسی ایسے ملک کے کسی پروسائل صوبے کی اسمبلی ہے جس کے افسران کے گلچھڑے اڑانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس بہتی گنگا میںعوامی نمائندوں کی بھی طویل فہرست ہمارے نمائندے کی رپورٹ کا حصہ ہے جبکہ مال مفت دل بے رحم کے مصداق اسمبلی ملازمین کے ناموں، ممالک کے دوروں اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کی رقم کی پوری تفصیل موجود ہے جس کا اگر نیب اور صوبائی احتساب کمیشن کے حکام نوٹس لینا چاہیں یا محکمہ انسداد رشوت ستانی و بد عنوانی کے حکام تفتیش کرنے کی ہمت کر سکیں تو تمام معلومات تفصیل کیساتھ اس رپورٹ میں شائع ہو چکی ہیں۔ پابندی کے باوجود اس کا راستہ تلاش کرنے والوں کی حاتم طائی کی قبر کو لات مارنے کی حرکت کا تو اندازہ ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپیکر خیبر پختونخوا اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں کو روندے جانے پر خاموش کیوں رہے۔ غور کیا تو اس سوال کا جواب بھی زیادہ مشکل نہیں جس حمام میں سب ننگے ہوں وہاں کوئی دوسرے کو کیا عار دلائے ؟ اس قدر تفصیلی رپورٹ کی اشاعت کے بعد بھی اگر تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک صرف نظر سے کام لیں تو اس کے بعد صوبے میں پھر ان کو عوام کو انصا ف دینے، میرٹ اور اس طرح کے دیگر دل خوش کن دعوئوں سے دستبرداری اختیار کرلینی چاہئے ۔

کاش ! یہ ہوتاہوا دیکھ سکیں

روز گار کے مقامات اور سرکاری دفاتروغیرہ میں خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ فراہم کرنے،نہروں میں کوڑاکرکٹ پھینکنے سے متعلق ترامیمی بل پیش کرنے کی تیاریاں نافع قانون سازی کے زمرے میں آتی ہیں جس کے تحت گریڈ 21 کی خاتون محتسب کی تقرری اور نہروں میں کوڑاکرکٹ پھینکنے پر تین ماہ قید یا دس لاکھ روپے تک سزاسنائی جاسکتی ہے واضح رہے کہ خواتین سے متعلق ہراساں کرنے کے بل کو2010ء میں منظور کیاگیاتھا تاہم سات سال گزرنے کے باوجود اس متعلق کیسز کی شنوائی کیلئے خاتون محتسب کی تعیناتی نہیں کی گئی تھی۔خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قوانین اور طریقہ کار پہلے سے بھی موجود ہیں جو وفاقی اداروں کے دفاتر میں موزوں مقامات پر آویزاں بھی دکھائی دیتے ہیں صوبائی حکومت کی طرف سے بھی 2010ء میں بل کی منظوری دیدی گئی لیکن عملی طور پر خواہ وہ وفاقی سطح پر ہو یا صوبائی سطح پر افسوسناک حد تک غیر مئوثر اور نمائشی اقدامات ہیںجہاں سرکاری دفاتر میں محض کا غذات کی حد تک قوانین موجود ہوں اور عملی طور پر خواتین کو اتنی بھی ہمت نہ دلائی جا سکی ہو کہ وہ لب ہی کھولنے کی ہمت کر سکیں تو اس طرح کی قانون سازی لا حاصل ہی ٹھہرایا جائے گا ۔ صوبائی حکومت اگر واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہوتی تو 2010ء میں منظور شدہ بل کو سات سال تک کونے کھدرے میں رہنے نہ دیتی اور اس پر عملدارآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی بہرحال گریڈ 21کے خاتون محتسب کی تقرری مروجہ طریقہ کار کے مطابق جتنا جلد عمل میں لایا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا تاکہ خواتین کو اُمید کی کوئی کرن نظر آئے اور وہ کسی شکایت کی صورت میں اعتماد کیساتھ ان سے رجوع کر سکیں۔ جہاں تک نہروں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے پر سزا اور جرمانہ کا تعلق ہے حقیقت یہ ہے کہ خود حکومت اور سرکاری ادارے ہی سب سے پہلے ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر اس کی زد میں آتے ہیں نہروں میں کھلنے والے گٹروں کی بندش کس کی ذمہ داری ہے ؟۔

علمائے کرام کے متفقہ فتویٰ سے پوری رہنمائی ہوئی

تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ سو انتیس علمائے کرام کا اتفاق رائے سے پاکستان میں خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کے فتویٰ سے متعلق رائے زنی مناسب نہیں سوائے اس کے کہ علمائے کرام نے اجماع میں بہت تاخیر کی۔ علمائے کرام کے ہر مکتبہ فکر کا صراحت سے اس امر کا اظہار اور اس پراتفاق ہمارے اور سبھی کے لئے رہنمائی کا باعث ہے کہ پاکستان میں خودکش حملے کرنے اور کرانے والے اسلام کی رو سے باغی ہیں، ریاست پاکستان شرعی طور پر ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا جواز رکھتی ہے۔طاقت کے بل پر اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا فساد فی الارض ہے ۔اس متفقہ فتوی کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی اس سے اذھان وقلوب کی صفائی و رہنمائی دونوں کی ضرورت پوری ہو گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں