امریکی نائب معاون وزیر خارجہ کا دورۂ اسلام آباد

امریکی نائب معاون وزیر خارجہ کا دورۂ اسلام آباد

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں یکم جنوری کا ٹویٹ ’’مایوس کن‘‘ تھا جسے پاکستان نے بجا طور پر مسترد کر دیا۔ اس کے بعد ان دو ہفتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید فاصلہ اور تناؤ کی جو کیفیت محسوس کی جاتی رہی ہے وہ حالات و واقعات کے حوالے سے عیاں ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات پاک افغان خطے کے کلیدی حقائق سے ہٹ کر اپنے انتخابی وعدوں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس خطے کے حقائق نئے ہیں نہ ان کے بارے میں دونوں ملکوں کے رابطے نئے ہیں۔ دونوں ملکوں کا اہم ترین مسئلہ اس خطے میں دہشت گردی ہے۔ جس کی ذمہ داری محض ایک ملک پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی ایک ملک کو اس کے خاتمے کیلئے ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے بڑی حد تک یکطرفہ طور پر دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جو خطرات مول لیے ہیں ‘ جو قربانیاں دی ہیں اور جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کی ساری دنیا معترف ہے۔ اس کے بعد بقول آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ’’اب دنیا کو ڈومور کرنا چاہیے‘‘وہ نہیں ہو رہا۔ امریکی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ نے پاکستان سے یہ توقع لگا لی ہے کہ اپنے ملک میں دہشت گردی کیخلاف کامیاب کارروائی کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ کا مسئلہ بھی حل کر دیگا۔ لیکن یہ توقع عبث ہے۔ افغانستان کو اور اس کے سرپرست امریکہ کو افغانستان میں دہشتگردی کا مسئلہ خود ہی افغانستان کے سیاسی حقائق کے تقاضوں پر پورا اترتے ہوئے حل کرنا ہوگا۔ یکم جنوری کے بعد کے دو ہفتوں کے دوران یقینا بہت کچھ سوچا گیا ہو گا ‘ کچھ بیک ڈور رابطے بھی شاید ہوئے ہوں گے تاہم امریکہ کی قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کا دورہ اسلام آباد کا اس امید کیساتھ خیر مقدم کیا جانا چاہیے کہ خطے میں دہشت گردی کیخلاف ممکنہ تعاون کی کچھ راہیں نکلنے کا امکان ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ میں پاکستان سے دہشت گردی کیخلاف جس فوری ردِعمل کا توقع کا ترشح ہوتا تھا وہ ترک کر دی گئی ہے اور مسئلہ کے حقائق پر ایک بار پھر غور کرنے کا آغاز کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق پاک امریکہ تعلقات ایسے ہیں جن میں علیحدگی ممکن نہیں ، ان میں فاصلے ‘وابستہ کی جانیوالی توقعات کے حوالے سے ‘گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اسلئے دونوں ملکوں کے دفاتر خارجہ کے اکابرین کو ایک دوسرے سے وابستہ کی جانیوالی توقعات قابلِ حصول توقعات میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے اور محدودات کو مدِنظر رکھنا چاہیے، اس الزام کو بار بار دہرائے جانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کہ پاکستان سے دہشت گرد جا کر افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب اور اس کے بعد جاری آپریشن رد الفساد کے بعد اس الزام کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک یا افغان طالبان کے عناصر کو پناہ دیے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام پاکستان کیلئے نقصان دہ ہے اسلئے پاکستان سے افغانستان میں سرگرم کسی گروہ کی سرپرستی کی توقع فضول ہی ہے۔ البتہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کوئی منظم ٹھکانے نہیں ہیں۔ (پاکستان کی یہ پیش کش اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ نشاندہی کرے پاکستان ان ٹھکانوں کیخلاف کارروائی کریگا) اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ وہ بڑے آپریشنوں کے باوجود اب بھی پاکستان میں افغانستان سے آ کر دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دہشت گرد پاکستان آتے ہیں وہ واپس بھی جا سکتے ہیں۔ اس کی وجوہ دو ہیں، ایک پاکستان اور افغانستان کی طویل سرحد کا نگرانی سے خالی ہونا جس میں آنے جانے سے سینکڑوں خفیہ اور اعلانیہ راستے ہیں، دوسرے پاکستان میں گزشتہ تیس سال سے 35لاکھ افغان باشندوں کی موجودگی جن میں سے کچھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے طور پر مقیم ہیں اور کچھ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی صورت میں پاکستان میں ہیں۔ آزادانہ آمدورفت کی سرحد پار کر کے اگر کوئی ناپسندیدہ عنصر پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں تو ان کیلئے ان افغان باشندوں کی صورت میں پناہ گاہ موجود ہے جہاں ان کی شناخت گم ہو سکتی ہے اور انہیں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ افغان باشندوں کے انخلا سے نہ صرف پاکستان میں ناپسندیدہ عناصر کی پناہ گاہیں ختم ہو جائیں گی بلکہ یہ سالہا سال سے پرامن ماحول میں بسنے والے لوگ جب اپنے وطن واپس جائیں گے تو وہاں کے حالات کو پرامن بنانے میں موثر کردار ادا کرسکیں گے۔جب سرحد پر آمدورفت قاعدے اور ضابطے کے مطابق ہو جائیگی تو افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ بھی کم ہو جائے گی جس سے افغان معیشت کو فائدہ ہو گا ۔ محترمہ ایلس ویلز سے توقع کی جانی چاہیے کہ کم از کم ان دو بنیادی مسائل پر ضرور متوجہ ہو ںگی۔ پاک افغان تعلقات میں بگاڑ کا تیسرا عنصر امریکہ کی افغانستان میں بھارت کو کلیدی کردار ادا کرنے کی پالیسی ہے۔ اس پالیسی سے افغانستان میں امن کو کوئی تقویت پہنچنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ اب جب سے پاکستان نے سی پیک میں شمولیت اختیار کی ہے بھارت کا منفی رویہ اور بھی کھل کر سامنے آگیا ہے حالانکہ اس منصوبے کے مضمرات پر غور کرنے کے بعد بھارت سے یہ توقع ہونی چاہیے تھی کہ وہ اس میں شامل ہو کر اس سے استفادہ کرنے کی طرف مائل ہو گا لیکن بھارت پاکستان کو دفاع پر متوجہ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو اس کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راوت کے حالیہ بیان سے ظاہر ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پر مزید دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائیگی، بھارت امریکی اسلحہ کا بڑا خریدار ہے۔ امریکہ افغانستان میں امن کی خاطر اسے پاکستان کیخلاف جنگ بازی عزائم سے روک سکتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ امریکی نائب معاون وزیر خارجہ یہ تین موضوعات لیکر وطن واپس جائیں گی۔

اداریہ