Daily Mashriq


نیم حکیم خطرہ جان

نیم حکیم خطرہ جان

پرانی بات ہے ایک مرتبہ صوابی جاتے ہوئے فلائنگ کوچ میں موجود ایک بزرگ کی باتوں نے بہت متاثر کیا وہ علامہ اقبال اور غالب کے حافظ تھے۔ تعارف پر پتہ چلا کہ جناب پیشے کے لحاظ سے حکیم ہیں اور قصہ خوانی میں ایک عدد کلینک نما دکان رکھتے ہیں حکیم عبدالمجید مرحوم بڑے صاحب مطالعہ تھے ہم ان کی دکان پر ان سے ملاقات کیلئے گئے تو ان کی میز پر شطرنج کی بساط بچھی ہوئی تھی اور کسی صاحب سے زبردست قسم کی بازی لگی ہوئی تھی۔ اب آپ خود سوچئیے علامہ اقبال اور مرزا غالب کی شاعری، علم کا بحز ذخار ، حکمت و دانائی اورجو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ اب شطرنج نے پوری کردی ! اب حکیم صاحب سے ملاقات ہمارا روز کا معمول ہوگیا وہاں پڑھے لکھے لوگ تواتر سے آتے دینی ، ادبی، معاشرتی اور دوسرے بہت سے مسائل پر پر مغز گفتگو کا سلسلہ چلتا رہتا اور شطرنج کی بازی اس پر مستزاد! صاحب ذوق جانتے ہیں کہ اگر اس قسم کی محفل میسر آجائے تو بندے کو اور کیا چاہیے! یہ حکیم صاحب کی صحبت میں گزرے ہوئے مہ و سال ہی کی وجہ ہے کہ آج ہم نیم حکیم خطرہ جان کے طور پر مشہور ہیں نسخہ دینے سے پہلے یہ ضرور کہتے ہیں بھائی کسی ڈاکٹر سے مشورہ کر لینا کہیں ایسا نہ ہو کہ نسخہ الٹ جائے اور تم ہمارے گلے پڑ جائو ! ہوشیار لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے مشوروں کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ہینگ کیساتھ ہماری بہت سی پرانی یادیں وابستہ ہیں ۔ ہمارے بچپن کا ذکر ہے نمک منڈی میں مدنی مسجد کے سامنے بڑی بڑی سرائیں ہو ا کرتی تھیں جہاں کابل سے انار وں کے ٹرک آیا کرتے تھے جب یہ ٹرک خالی کئے جاتے تو ہر طرف اناروں کی بہار ہوتی‘ بچے ٹرک کے قریب سے گزرتے ہوئے زمین پر گرے ہوئے انار اٹھا لیا کرتے تھے۔ اب بچے بڑی بڑی دکانوں پر سجے ہوئے انار صرف دیکھ ہی سکتے ہیں۔ کچھ تاجر ایسے بھی تھے جو ہینگ کا کاروبار کرتے تھے وہ بڑے پیمانے پر ہینگ منگوالیتے اور محلہ گلاب خانہ میں واقع گھروںکے نچلے حصے میں ہینگ ذخیرہ کر لیتے، ہینگ کی بو اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہاں سے گزرنے والے اس تیز بو کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ۔ ہندوستان میں تو ہینگ کو باقاعدہ سالن میں ڈالا جاتا ہے کہتے ہیں یہ گیس کے مریضوں کیلئے بڑی مفید ہے سب کھایا پیا ہضم کردیتی ہے۔ جب اس دنیا کے چالاک اور ہوشیار لوگ سب کچھ ہضم کر لیتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں مارتے تو ایسے موقعوں پر کہا جاتا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ پھٹکڑی کے ساتھ بھی ہمارا گہرا تعلق ہے ہم اس کا استعمال صبح و شام کرتے ہیںیہ زبردست قسم کی اینٹی سپٹک ہے اسے تھوڑے سے پانی میں ڈال کر گھول لیا جاتا ہے پھر اس پھٹکڑی ملے پانی سے کلی کی جاتی ہے۔ اس سے مسوڑھے ہر قسم کے جراثیم سے نہ صرف محفوظ رہتے ہیں بلکہ مضبوط بھی ہو جاتے ہیں۔پہلے لوگ یہی اشیاء استعمال کرتے تھے اب تو جدید زمانہ ہے ٹی وی پر طرح طرح کے اشتہار چلتے ہیں مختلف اشیاء کے فائدے تو بہت بتائے جاتے ہیں لیکن چونکہ مقصد کاروبار ہوتا ہے تاجر نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنی ہوتی ہے بہت سا مال ودولت کمانا ہوتا ہے اشتہارات پر بھی بہت سے اخراجات اٹھتے ہیں اور یہ سارے پیسے وہ اپنی جیب سے تو ادا کر نے سے رہے یہ سارے اخراجات وہ خریدار پر ڈالتے ہیں اسلئے وہ ان چیزوں میں ملاوٹ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اسی لیے جب اس قسم کی اشیاء استعمال کی جاتی ہیں تو ان کا فائدہ برائے نام ہی ہوتا ہے۔ ملاوٹ پر یاد آیا دوائیوں میں بھی ملاوٹ کی جاتی ہے اسی لیے مریض فریاد کرتے ہیں کہ فلاں فلاں دوائی استعمال کرچکا ہوں لیکن کوئی فائد ہ ہی نہیں ہوتا۔ بھائی فائدہ کیسے ہو جب دوائی میں ملاوٹ ہو ۔خالص اجزاء نہ ہوں تو پھر فائدہ کیسا؟طب نبوی ﷺ میں بہت سی عام کھانے پینے کی چیزوں سے علاج بتائے گئے ہیں لیکن ہم ان خالص اشیاء پر ملاوٹ والی دوائیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ کلونجی کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔کلونجی کے بارے میں مشہور حدیث مبارک ہے کہ اس میں سوائے موت کے ہر بیماری کا علاج ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کلونجی ایک بہترین اینٹی بائیوٹک ہے یہ انسانی جسم میں موجود ہر قسم کے جراثیم کو جڑ سے اکھاڑتی ہے۔ اگر کلونجی کو ایک کپ پانی میں اچھی طرح ابال کر وہ پانی سونے سے پہلے پی لیا جائے تو اس سے دماغی کمزوری دور ہوتی ہے یہ موٹاپے کا علاج بھی ہے اور کھانسی کیلئے بھی مفید ہے۔ آج جگہ جگہ سلمنگ سنٹر کھلے ہوئے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر ضروری موٹاپے سے نجات دلا کر آپ کو پھر سے سمارٹ بناتے ہیں اس حوالے سے یہ بھاری بھرکم فیسیں وصول کرتے ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ارے بھائی پیدل چلنے کو ہم نے اپنی زندگی سے نکال رکھا ہے تو موٹاپا تو ہوگا ۔لڑکے موٹر سائیکل چلانے کے اتنے عادی ہیں کہ گلی کے کونے پر واقع تندور سے روٹیاں لانی ہوں تو موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہی نکلتے ہیں۔ پیدل چلنے والا شوگر اور بلڈ پریشر جیسی موذی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ تھوڑی سی دار چینی کو پانی میں ڈال کر اچھی طرح ابال لیا جائے پھر اس میں قہوہ چائے ڈال کر چولہے سے اتار لیا جائے اور رات کے کھانے کے بعد یہ قہوہ پیا جائے تو معدے میں گیس نہیں بنتی یہ قہوہ کولسٹرول کو کنٹرول کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ویسے ہمارے مشوروں پر اگر عمل کرنے کا ارادہ ہوتو نیم حکیم خطرہ جان والی بات نہیں بھولیے گا۔

متعلقہ خبریں