Daily Mashriq


لکھتا ہوں تو تم ہی اُترتے ہو قلم سے

لکھتا ہوں تو تم ہی اُترتے ہو قلم سے

واٹس ایپ اور برقی پیغامات کی بڑھتی ہوئی تعدادجہاں قارئین کرام کی د لچسپی، کالم نگار کیلئے حوصلہ افزاء اور ادارے کیلئے باعث افتخار امور ہیں وہاں ان مسائل کو کھپانے کا درپیش مسئلہ پریشان کن ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ ہر ملنے والے مسئلے کو اسی ہفتے شامل کالم کیا جائے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ طویل انتظار سے قارئین کرام کی ناراضگی اور اُکتاہٹ سے خوف آتا ہے، اب واٹس ایپ اور برقی پیغامات عین کالم کی تیاری کے وقت ملنے لگے ہیں جس سے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ تاخیر سے اشاعت کی اصل وجہ بہت سے قارئین جان چکے ہیں۔ کورئیر اور ڈاک سے ملنے والے مراسلات کو ترجیح اسلئے دی جاتی ہے کہ اس پر ارسال کنندگان نے رقم صرف کی ہوتی ہے، بہرحال ہماری پوری کوشش رہتی ہے کہ کسی بھی فرد کوزیادہ انتظار کی زحمت نہ دی جائے ۔

گائوں قلعہ سے حکم سید اتمان خیل نے کالم کی وساطت سے آئی جی خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ ان کے بھائی کے قاتلوں کو جو کہ گائوں میں دندناتے پھر رہے ہیں گرفتار نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائیں اور 10 دسمبر 2013ء کو تھانہ مندنی تحصیل تنگی ضلع چارسدہ میں درج ایف آئی آر نمبر 494میں نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کر کے ان کو انصاف دیا جائے چونکہ تھانہ مندنی اور تھانہ تنگی میں حدود کا تنازعہ بھی چل رہا ہے، اس وجہ سے بھی ان کے بھائی کے قاتل آزاد پھر رے ہیں، لہٰذا اس کا بھی کوئی حل نکالاجائے۔ فریادی کا کہنا ہے کہ وہ ایف ایس سی کا طالب علم ہے مگر جان کی خوف اور پولیس کے رویئے کے باعث ان کی پڑھائی متاثر ہورہی ہے ۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کیلئے تین ماہ سے تنخواہوں کی مد میں فنڈز کی عدم فراہمی کی شکایت ملازمین یونین کے صدر یونس مروت نے بار بار کی مگر ہر بار ان کا مسئلہ شامل کالم نہ ہوسکا۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ ملازمین کے مشکلات کا ہر اس شخص کو بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے جس کی آمدن قلیل ہو یا وہ سرکاری ملازم ہو ۔ سرکاری ملازم خواہ جس گریڈ کا بھی ہو اس کی کل آمدن تنخواہ ہی ہوتی ہے، اگر وہ بھی تین ماہ سے نہ ملے تو گھر میں فاقے کی نوبت ہی آتی ہے۔ وزیراعظم ہائوس اور محکمہ خزانہ کے بابوئوں کو اگر تین ماہ سرکاری خزانے سے کچھ نہ ملے تو لگ پتہ جائے۔

اس مہنگائی کے دور میں جہاں حاضر سروس سرکاری ملازمین کا گزربسر بمشکل ہوتا ہے، وہاں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی قلیل پنشن سے کسی طور گزارہ مشکل سے ہی ہوگا۔ سب کچھ حکومت اور حکمرانوں کے سامنے ہے۔ بار بار بھینس کے آگے بین بجایا جاتا ہے مگر سماعت اور بصارت کے محرومین پر اثر ہی نہیں ہوتا۔محمد فاروق چارسدہ گائوں پڑانگ سے لکھتے ہیں کہ محکمہ ڈیفنس سے1980ء میں LDC گریڈ پانچ میں ریٹائرڈ ہوا ہوں اور مجھے ہر ماہ حکومت سے مبلغ 8000 بمع میڈیکل الائونس پنشن ملتا ہے۔ میرا کنبہ6 افراد پر مشتمل ہے، میرا بیٹا بیروز گار ہے، تقریباً این ٹی ایس کے ہر ٹیسٹ میں شامل ہوتا ہے مگر آج تک نوکری نہ ملی۔ میری عمر 80سال ہے، اب بھی ایک دکان میں 100 روپے روزانہ دیہاڑی کرتا ہوں سالانہ بجٹ میں وفاق پانچ سے دس فیصد ہی پنشن بڑھاتاہے جبکہ اس بڑھوتی سے کیا ہوتاہے، میری حکومت سے درخواست ہے کہ میرے جیسے معمر افراد کی مشکلات کا ادراک کرے اور پنشن میں معقول اضافہ کیا جائے ۔

مہر دل خان ناظم ویلج کونسل منگل چائی گدون تحصیل ٹوپی ضلع صوابی کے مراسلے نے محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ کے نظام کی فعالیت کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کے اس تفصیلی مراسلے کو محکمہ تعلیم کے حکام چاہیں تو ان کو بتانا تو ممکن ہے اس کی مکمل اشاعت ممکن نہیں۔ مراسلہ نگار نے اپنے علاقے کے ایک زنانہ سکول کی اُستانی کی ڈھٹائی کا تذکرہ کیا ہے جو کہ اسے صوبے کے اکثر گرلز اسکولوں میںمعمول کی صورتحال گرداننا خلاف حقیقت نہ ہوگا۔ مراسلہ میںکہا گیا ہے کہ گورنمنٹ گرلز میڈل سکول دالوڑی بالا گدون کی ایک معلمہ مہینے میں بمشکل 8یا 10 دن ڈیوٹی پرآتی ہیں اور اس کی غیر موجودگی میں دوسری معلمہ حاضری رجسٹر میں جعلی دستخط کے ذریعے حاضری ثبت کرتی ہے ۔ مذکورہ اُستانی بار بار کہنے کے باوجود ٹھس سے مس نہیں ہوتی۔ ان کو کسی کی پرواہ ہے اور نہ ہی خوف خدا، اُلٹا فخر سے کہتی ہیں کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ علاقیکا منتخب ناظم ہونے کے ناتے میں اور علاقے کے دیگر معززین بار بار اس اہم مسئلے کو حل کرنے کی استدعا کرچکے ہیں لیکن ہم سب بے بس ہو چکے ہیں۔ آپ کے کالم میں ایڈریس نظر سے گزرا تو میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں صورتحال سے آگاہ کرنے کی سعی کر رہا ہوں برائے کرم اسے اپنے کالم میں شائع کریں تاکہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران حرکت میں آجائیں۔

ہاشم خان وزیر نے اپنے واٹس ایپ میں چند ضروری امور کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کے مطابق دیہی علاقوں میں خسرہ وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دوم آج کل امتحانات کے دن ہیں اور شادی بیاہ کا سیزن ہے، ہر گلی محلے میں سات روز قبل ہی ڈی جے میوزک سر شام چلانے کا رواج چل نکلا ہے۔اگر ایک آدھ دن ہو تو قابل برداشت ہے لیکن پورا پورا ہفتہ یہ شغل برداشت سے باہر ہے۔ خدارا ہر کام کیلئے پولیس بلانا اچھی بات نہیں، کچھ کام تو ہم عوام بھی کر سکتے ہیں جبکہ ہر مسجد سے دن بھر چندے کی درخواست کیساتھ سارا دن گانے کی طرز پر حمدوثنا اور نعتیں زبردستی سنائی جاتی ہیں اور رات کے وقت سیرت النبیؐ کانفرنسوں اور دستاربندی کے نام پر مفت میں جوشیلی تقاریر سنائی جاتی ہیں، لہٰذا ان سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ خدارا اس عمل سے باز آئیں، نیک کاموں کیلئے چندہ جمع کرنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن اس کا طریقہ کار درست ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں