Daily Mashriq

مغربی سرحد کے چیلنج

مغربی سرحد کے چیلنج

چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے پاک بحریہ کے افسروں کی تربیت کے اختتام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' اور کچھ دوسری ایجنسیاں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں خاص طور پر بلوچستان کا ذکر کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے ''را'' کے منصوبے بھی چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے پاک فوج ان منصوبوں کو ناکام بنا دے گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ عالم خٹک نے کہا کہ ''را'' اور افغان خفیہ ایجنسی جلال آباد' قندھار اور مزار شریف میں واقع بھارتی قونصل خانوں کو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ جنرل زبیر محمود حیات اور ریٹائرڈ جنرل عالم خٹک نے پاک بحریہ کے کمیشن پانے والے کیڈٹس کو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے جن چیلنجز سے آگاہ کیا ہے وہ نئے نہیں ہیں اور پاک فوج کے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے جس عزم اور صلاحیت کو اجاگر کیا ہے وہ بھی نیا نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کو اپنی تینوں مسلح افواج کی صلاحیت' ان کے عزم اور ان کی شجاعت پر فخر ہے۔ لیکن بھارت اور افغانستان جس طرز جنگ پر عمل پیرا ہیں اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے سویلین آبادی کا بھی اسی طرح مستعد اور نگران ہونا ضروری ہے جتنا مسلح افواج کا۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ افغانستان سے مزید لوگ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں اور اپنے آپ کو افغان مہاجر ثابت کر رہے ہیں۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے۔ محض تین روز کے اندر صرف طورخم سرحد سے دس ہزار افغان باشندوں کا پاکستان میں داخل ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اتنی مختصر مدت میں اتنی بڑی تعداد میں سرحد میں داخل ہونے والوں کی پڑتال کے ذریعے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں ہے کہ ان میں سے کون یا کتنے سبوتاژ کی نیت سے داخل ہوئے ہیں اور کتنے محض روزگار کے لیے آئے ہیںیا بارشوں کے موسم کے حوالے سے جاری کی جانے والی امداد حاصل کرنے کی امید میں آئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے رجسٹریشن دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اول تو برطانیہ کی مداخلت پر ازسرِ نو رجسٹریشن سے اتفاق نہیں کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ پہلے جو رجسٹریشن ہو چکی تھی اس کے تحت جن افغان باشندوں کو رجسٹرڈ افغان مہاجر قرار دیا جا چکا تھا وہی بھاری تعداد ہے۔ اور اس خدشہ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ نئی رجسٹریشن شروع کی گئی تو مزید افغان باشندے رجسٹرڈ افغانوں میںشامل ہونے کے لیے سرحد پار کر سکتے ہیں اور یہ خدشہ صحیح ثابت ہوا کہ تین روز کے اندر محض طورخم سرحد سے دس ہزار افغان باشندے پاکستان میں داخل ہوئے۔ یہ رجسٹریشن کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ۔ افغان جنگ کو تیس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے۔ اب تیس سال سے کم عمر کے افغانوں کا پاکستان میں داخل ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی کا جو منصوبہ شروع کیا گیا ہے اسے جلد مکمل کیا جانا چاہیے اور سرحد میں طورخم چمن اور ایسی ہی جو گزرگاہیں رکھی گئی ہیں ان پر چیکنگ سختی سے کی جانی چاہیے۔ یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ جو بھی سرحد عبور کرنا چاہے اسے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے۔ ایک چیکنگ پوائنٹ سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کی اتنی تعداد مقرر کی جانی چاہیے چیکنگ کا عملہ جتنی تعداد کی مکمل پڑتال آسانی سے کر سکے۔ غیر رجسٹرڈ افغانوں کی رجسٹریشن بند کی جانی چاہیے کہ اب جن افغانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی وہ افغان جنگ کے مہاجر نہیں ہیں۔ اگر یہ دعویٰ کریں کہ یہ افغان مہاجروں کی اولاد ہیں تو پھر ان کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ یہ رجسٹرڈ افغانوں کی ولدیت کا ثبوت مہیا کریں۔ پاکستان میں مقیم جو واقعی افغان جنگ کے مہاجر ہیں ان کا مکمل ڈیٹا بیس ہونا ضروری ہے تاکہ غیر رجسٹرڈ افغان دراندازوں کو شہریت کے قوانین کے تحت پاکستان سے واپس بھیجا جا سکے۔ ان در آنے والے افغانوں میں کتنے دہشت گرد اور دشمن خفیہ ایجنسیوں کے کارندے پاکستان میں موجود ہو سکتے ہیں یا آ سکتے ہیں وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مراسلہ سے بھی ظاہر ہے جس میں اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں بھارت کے 65قونصل خانوںکو بند کروائیں جن میں تخریب کاری اور خفیہ کاری کی تربیت دے کر افغانوں کو پاکستان بھیجا جاتا ہے ۔ دنیا کے کسی ملک کے کسی دوسرے ملک میں اتنے قونصل خانے نہیں ہیں لیکن بھارت اتنی بڑی تعداد میں قونصل خانوں کے نام پر دہشت گردی اور تخریب کاری کے اڈے افغانستان میں قائم کیے ہوئے ہے۔ افغان حکومت اس سے لاعلم نہیں ہو سکتی آخر اس نے بھارت کو یہ ''قونصل خانے'' کھولنے کی اجازت دی ہے۔ افغان حکومت کارویہ بھی اچھی ہمسائیگی کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا۔ افغانستان کے علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروںعناصر پناہ لیے ہوئے ہیں ، ان کی کفالت ' اسلحہ بندی اور تربیت بھارتی خفیہ ایجنسی کرتی ہے۔ یہ عناصر پاکستان میں تخریب کاری کرتے ہیں۔ پاکستان نے جب افغان حکمرانوں سے یہ اڈے بند کرنے کے لیے کہا تو افغان حکومت نے جواب دیا کہ اس علاقے پر افغانستان کا کنٹرول نہیں ہے۔ فرض کیجئے یہ دعویٰ صحیح ہے تو افغان حکومت اس علاقے سے ملحقہ جس علاقے پر کنٹرول ہے وہاں سے ان کی رسد اور کمک تو بند کر سکتی ہے۔ لیکن ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو تحریک طالبان پاکستان کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔ پاکستان کی مغربی سرحد کی اس سنگین صورت حال کو جو ں کا توں نہیں رہنے دیا جا سکتا۔ اس لیے مغربی سرحد کے بارے میں سویلین اور فوجی قیادت کو اس صورت حال پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں ایک طرف پاک افغان سرحد پر باڑھ بندی کے عمل کو تیز تر کرنے کے لیے اقدامات

پر غور کیا جانا ضروری ہے دوسری طرف پاکستان میں مقیم افغانوں کو اپنے وطن واپس بھیجنے اور سرحد پار کرنے کے لیے ویزہ کی پابندی کو یقینی بنانا ہو گا۔ اور تیسری طرف فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنا ہو گا تاکہ فاٹا کے عوام کو برابر کے پاکستانی ہونے کی شناخت ملے۔

اداریہ