Daily Mashriq


پاناما کیس، وزیر اعظم کے خاندان کی حکمت عملی

پاناما کیس، وزیر اعظم کے خاندان کی حکمت عملی

جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد آج سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت متوقع ہے۔ عدالت کے باہر سیکورٹی کے انتظامات سخت کیے جاچکے ہیں اور مزید باڑھ بھی لگا دی گئی ہے۔ لیکن عدالت میں پیش ہونے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ نے کیا حکمت عملی اختیار کی ہے یہ واضح نہیں۔ پچھلے دنوں میڈیا میں ایسی اطلاعات نشر ہوئی ہیں کہ نئے وکلاء عدالت میں پیش کیے جائیں گے اور وکلاء کمیونٹی کی معروف قائد عاصمہ جہانگیر سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وکلاء کی نئی ٹیم تشکیل دیے جانے کے بارے میں کسی پیش رفت کی اطلاع نہیں سنائی دی۔ جہاں تک وکلاء کی پرانی ٹیم کی بات ہے وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان ملک سے باہر ہیں اور آئندہ چند ہفتے تک ان کی واپسی کی توقع نہیں ہے۔ شاہد حامد جو وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کی صاحبزادی اور ان کے شوہر کے وکیل کے طور پر پیش ہوتے تھے وہ بھی بیرون ملک ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سلمان اکرم راجہ سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن وہ آئندہ ہفتے بیرون ملک جانے والے ہیں۔ البتہ خواجہ حارث وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے مقدمے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ مقدمے کی مزید کارروائی کے لیے وقت لینا چاہیں گے کیونکہ جے آئی ٹی کی کئی سو صفحات رپورٹ کو جاری ہوئے محض ایک ہفتہ ہوا ہے اور اس کے مطالعے اور کیس کی تیاری کے لیے وقت درکار ہو گا۔

ایک اور ڈولی لفٹ کی رسی ٹوٹ گئی

پچھلے دنوں مری کے قریب ڈولی لفٹ کے دریا میں گر جانے سے 12عزیز ہم وطنوں کے جاں بحق ہونے کا سانحہ چشم کشا ہونا چاہیے تھا اور جہاں جہاں ڈولی لفٹ لگائی گئی ہیں ان کی نگرانی اور انہیں محفوظ بنانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے تھا لیکن یہ عبرت آموز سانحہ ارباب اختیار کی توجہ کامرکز نہ بنا اور کالام کے قریب ایک اور ڈولی لفٹ کی رسی ٹوٹنے کا سانحہ برپا ہو گیا۔ اس واقعہ میں سات افراد ڈولی لفٹ میں دریاپار کر رہے تھے کہ رسی ٹوٹنے سے ڈولی دریا میں گر گئی۔ قریب موجود شہریوں نے دو کو تو بچا لیا ، دو کی لاشیں بھی نکال لیں لیکن تین افراد لاپتہ ہو گئے۔ اللہ کریم دارفانی سے رخصت ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور جو لاپتہ ہو گئے ہیںان کے بازیاب ہونے کی دعائیں قبول فرمائے۔ مری کے قریب جو سانحہ ہوا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈولی لفٹ کسی کی ملکیت تھی لیکن کالام کے قریب جو لفٹ گری ہے اس کے بارے میں اطلاعات ہیں یہ کسی کی ملکیت نہیں تھی علاقے کے لوگوں نے خود ہی اس کا بندوبست کیا تھا۔ پہلے سانحہ کے بعد ضروری تھا کہ تمام ایسے اضلاع کے ڈی سی اوز جن میں ڈولی لفٹس پر لوگ دریا پار کرتے ہیں ان کے جائزے اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کی کارروائی کرتے۔ خیبرپختونخوا کی حکومت کو چاہیے تھا کہ صوبے بھر میں ڈولی لفٹس کو محفوظ بنانے کی کارروائی کرتی اور ان کی جگہ پل بنانے کے منصوبے پر غور کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ ایک محکمہ انتظام آفات کا بھی ہے جس نے مون سون کے موسم میں شہریوں کے لیے الرٹس جاری کرکے مستعدی کا ثبوت دیا ہے لیکن ان پرخطر ڈولی لفٹس کو محروم توجہ رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور صوبائی محکمہ انتظام آفات کے لیے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ ایسے تمام پرخطر راستوں کا فوری طور پر جائزہ لے جہاں سے لوگ ڈولی لفٹس پر یا ان کے بغیر آتے جاتے ہیں اور راستوں اور ڈولی لفٹس کو محفوظ بنانے کا بندوبست کریں۔

متعلقہ خبریں