Daily Mashriq

محاذ آرائی سے اجتناب بہتر ہے

محاذ آرائی سے اجتناب بہتر ہے

آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ پچھلے دنوں منعقد ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کورگڑا لگاتے نون لیگیوں کی طرف سے خاص انداز میں فوج کے بارے شکوک پھیلانے کی مہم کابھی نوٹس لیا گیا۔ کور کمانڈرز حیران تھے کہ ''چند متوالے لیگی وزراء اٹھتے بیٹھتے یہ تاثر کیوں دے رہے ہیں کہ پانامہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ نے جی ایچ کیو کے کہنے پر شروع کی اور اب جے آئی ٹی بظاہر تو سپریم کورٹ نے بنائی ہے مگر وہ ہدایات کے لئے طاقت کے اصل مرکز کی طرف دیکھتی ہے؟ زیادہ آسان انداز میں اس بات کو یوں سمجھ لیجئے کہ عسکری قیادت کے بڑے ہی نہیں بلکہ نچلی سطح کے ذمہ داران بھی فوج کے خلاف اس منظم پروپیگنڈے پر بہت پریشان ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایسے وقت میں جب بھارت سرحدی خلاف ورزیوں کے ساتھ منفی پروپیگنڈے کا بازار گرم کئے ہوئے ہے امریکی ہمیشہ کی طرح آنکھیں بدلتے محسوس ہو رہے ہیں اور افغانستان کی حکومت د ر اندازی روکنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے الزام تراشی کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہی ہے۔ سیاسی حکومت دائو پر لگی اپنی ساکھ کے بنیادی اسباب کو سمجھنے کی بجائے صبح شام یہ تاثر کیوں دے رہی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت حکمران خاندان پر کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے جو بھی اقدامات اٹھا رہی ہے وہ فوج کی منشا کے مطابق ہیں؟ فقط کور کمانڈرز کی ہی نہیں بلکہ اپنے نچلے درجہ کے ماتحتوں کی پریشانی اور آراء سے آرمی چیف بخوبی واقف ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈان لیکس کا مسئلہ جس طرح حل ہوا اس پر ملکی دفاع کے لئے سر گرم اداروں میں تشویش موجود ہے۔ ایک صحافی کی حیثیت سے خبر کی اشاعت اور ذرائع ہر دو کے حوالے سے گو میرا موقف یکسر مختلف ہے پھر بھی یہ سوال ہمیشہ مد نظر رہا کہ کیا امریکہ یا کسی اور ملک کا آزاد میڈیا( آزاد اس لئے کہہ رہا ہوں کہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشتہارات کے لئے پروپیگنڈہ مہم نہیں شروع کرتے) اپنے ملک کے دفاعی و خارجی اور معاشی مفادات کے منافی کتنی خبریں نشر کرتے ہیں اور کتنے ایسے پروگرام جن کے شرکاء چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیں؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر نواز شریف اور ان کے وزراء کے پاس ان کرداروں بارے کچھ معلومات ہیں جو بقول ان کے سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑے سازشوں میں مصروف ہیں تو کھل کر ان سازشی کرداروں کے ناموں سے عوام کو آگاہ کریں۔ اب تو ان سے میثاق جمہوریت میں بندھی پیپلز پارٹی بھی مطالبہ کر رہی ہے کہ وزیر اعظم سازش کرنے والے افراد اور اداروں بارے قوم کو اعتماد میں لیں اور اگر واقعتا سازش ہوئی تو پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ پی پی پی کے بقول اگر وزیر اعظم سازش کرنے والوں کے ناموں سے پردہ نہیں اٹھاتے تو وہ قومی مجرم کہلائیں گے۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف نون لیگ کے وفاقی وزراء پچھلے دنوں کی طرح ہفتہ والے دن بھی گرم' برہم اور متحرک رہے۔ نون لیگ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو تیسرے فوجی مارشل لاء کے بانی جنرل ضیاء الحق کے اس ریفرنڈم کی طرح قرار دیا جس میں سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ '' کیا آپ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں؟ 93 فیصد فرشتوں کی جانب سے ہاں میں ملنے والے جواب کا حتمی نتیجہ یہ نکلا کہ پھر جنرل ضیاء الحق آئندہ پانچ سال کے لئے پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ پچھلی شب فقیر راحموں کہہ رہے تھے کہ مرحوم جنرل ضیاء الحق کی روح عالم بالا میں تڑپ رہی ہوگی کہ ان کی نرسری کی پنیری اپنے سیاسی شباب کے عروج پر کیسی احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اگر وہ ایک عظیم الشان ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے سربراہ منتخب نہ ہوتے تو غیر سیاسی قیادت تخلیق کرنے کے لئے پنیری کیوں لگاتے۔ لیکن ایسا ہی ہوتا ہے یہاں کون کسی کا احسان مانتا ہے۔ مثلاً ہمارے محبوب و ممدوح جنرل پرویز مشرف کے درجنوں سکہ بند اور پرجوش درباری پچھلے 9 سالوں سے جاتی امرا کے دربار میں جس جوش و جذبہ کے ساتھ دفاع جاتی امراء کا مشن ا دا کر رہے ہیں اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ ان کا خمیر ہی نون لیگ کے مالکان کی اتفاق فونڈری میں ڈھلا ہے۔ پاکستانی سیاست میں ہجرت اور مزارعت پر کسی کو رتی برابر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ دونوں کام جمہوریت اور ملک کے وسیع تر مفاد میں کئے جاتے ہیں۔ 70برسوں میں یہاں جمہوریت کتنے سال رہی اور طبقاتی جمہوریت کتنے سال اس پر سر کھپانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کی بھاری اکثریت طبقاتی نظام کو ہی جمہوریت سمجھتی ہے اور اس نظام کے محافظوں کو جمہوری رہنما۔ کالم کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان ذمہ داروں کے کردار پر بات ہو سکے جنہوں نے طبقاتی بالا دستی کے نظام کو جمہوریت کے طور پر متعارف کروا کر عوام میں ایک نئی قسم کی بت پرستی کو رواج دیا۔ فی الوقت یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ جناب وزیر اعظم نے آخری سانس تک لڑنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے جس سازش کی بات کی اور اپنے سینے میں موجود رازوں سے مناسب وقت پر پردہ اٹھانے کا کہا وہ در حقیقت سودے بازی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ بھی عرض کردوں کہ ان لمحوں ان کے غیر ملکی سر پرستوں میں سے اکثر اپنے مسائل کی وجہ سے دوسری سمت مصروف ہیں۔ البتہ بھارتی اخبارات میں ان کے حق میں شائع ہونے والے تجزیوں سے فائدہ کم اور نقصان اس لئے زیادہ ہوگا کہ پاکستان میں بھارت کے لئے پائے جانے والے جذبات ان تجزیوں کو کچھ اور رنگ دیں گے۔ بہرطور یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ نون لیگ کو آئینی و قانونی طور پر اپنے دفاع کا حق ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کو کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے اداروں کے درمیان ٹکرائو کی صورت پیدا ہو۔

اداریہ