Daily Mashriq

پاکستان کے خلاف سازش؟

پاکستان کے خلاف سازش؟

پاناما لیکس کا جب سے شوشا اٹھا ہے تب سے پاکستان میں بعض حلقوں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے خلا ف بیر ونی سازش کار فرما ہے ۔ اس بارے میں طرح طرح کی بولیا ں بولی جا رہی ہیں تاہم یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھی کسی قدر پاکستان میں سول حکومت جمی ہے، اس کے پاؤں اکھا ڑنے کی مساعی ہوئی ہیں ۔ اس بارے میں نہ صرف منتخب حکومت کو ڈھا نے کی سازشیں کی گئیں بلکہ پاکستان کے آئین کو بھی ہلا دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا یا گیا ۔ پاکستان میں غیر ملکی اثر ورسوخ تب ہی بڑھاہے جب پا کستان میں یاتو غیر منتخب حکومتیں قائم ہوئیں ، یا پھر صدارتی نظام حکومت قائم کیا گیا ۔ یہ سلسلہ تقریبا ً سابق صدر سکند ر مرزا کے دور سے جا ری ہے ، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعض بیر ونی طا قتیں چاہتی ہیںکہ پاکستان ایک لا دینی ریاست بنے ، اور وہا ں پارلیمنٹ کو بالا دستی قطعی طور پر حاصل نہ ہو کیو ں کہ پارلیمنٹ کی مو جو دگی میںان طاقتوں کہ جن میں امریکا پیش پیش ہے کے مفادات پر زد پڑتی ہے ۔ پا کستان کی پہلی قانو ن ساز اسمبلی کو اسی سازش کے تحت تو ڑا گیا تھا اور فیڈرل کو رٹ کے جج جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت اسی بنیا د پر اختراع کیا تھا جس کے بعد صدارتی نظام کی راہ ہمو ار کی گئی اور ایو ب خان نے صدارتی نظام قائم کر کے ایک شخصی حکومت قائم کی ۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ، نو کر شاہی ، اور عدلیہ کی تثلیث نے شروعات ہی میں پاکستان میں صدارتی نظام کے لیے ایکا کیے رکھا۔1955ء کی راولپنڈی سازش اس سلسلے کی کڑی تھی جو بعد ازاں ایو ب خان کے ہاتھوں کا میا ب ہوئی اور ملک میں بی ڈی نظام کے نا م سے پا رلیمنٹ کی بالا دستی کی بجا ئے شخصی بالادستی صدارتی نظام کی صورت میںقائم کی گئی ۔ ایو ب خان نے اپنے صدارتی نظام کو خلا فت راشدہ کا نظام قرار دے کر نافذ کیااور کہا کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نظام خلا فت ہے اور اس بارے میں بڑاپروپیگنڈہ کیا جاتا رہا۔ اسی زمانے میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ پا کستان تشریف لائیں تو انہو ں نے بھی اس کو اسلا می نظام قراردے کر کے بے حد پسند یدگی کا اظہا ر کیا ۔ اگر جائزہ لیا جا ئے تو یہ بات بہت واضح ہے کہ پاکستان میں 1973ء تک ایک متفقہ آئین اس لیے نہیں مل سکا کہ پاکستان میں سیا سی استحکا م نہیں تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سیاسی افر اتفری میں غیر ملکی قوتیں ملو ث تھیں تاکہ پاکستان کو ایسا آئین نہ مل جا ئے جس میں شخصی حکومت کی بجا ئے پا رلیمنٹ کے اختیا را ت ہوں۔ پاکستان کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ بھٹو مر حوم اور اس زمانے کی حزب اختلا ف کی جما عتوں نے مل کر ایک اسلا می ، پا رلیمانی جمہو ری آئین پر اتفاق رائے کر کے متفقہ آئین ملک کو دیا ۔ اس میں پختون خوا کی اس وقت کی صوبائی اسمبلی کا بھی اہم کر دار ہے ۔ چنا نچہ متفقہ آئین بن جا نے کے با وجو د اس آئین کو بکھیر نے کی غرض سے اس میںبعض اوقات ترمیم لانے ، کبھی یہ پروپیگنڈہ کر نے کی پھلجھڑی چھوڑی جا تی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہے اس لیے نظام بدلنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کا موجودہ آئین جو دراصل 1973ء کے آئین کی بگڑی سنوری صورت ہے بہترین جمہو ری ، پا رلیمانی اور بہترین اسلامی آئین ہے ۔ جہا ں تک یہ سوال رہا کہ بہترین جمہو ری پا ر لیمانی اور اسلا می آئین ہونے کے باوجو د تینوں نکا ت کا سقم کیو ںپا یا جا تا ہے تو وہ نیتو ںکی بات ہے جیسا کہ پارلیمانی نظام اورپاکستا ن کے آئین کے تحت وزیر اعظم بااختیا ر ہوتا ہے مگر پی پی کے گزشتہ دور میں وزیراعظم کی بجا ئے اختیا ر کا منبع صدر رہا کیو ں کہ آصف زرداری کاشخصی کردار موجو د تھا اب وہی آئین ہے ، ویسی پارلیمنٹ ہے مگر کلی اختیا ر وزیر اعظم نے اپنے ہا تھ میںلے رکھے ہیں۔ ان تما م واقعات سے یہ ثابت ہو ا ہے کہ آئین پر اس کی روح کے مطا بق بھٹو مر حوم کے دور سے اب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔نو از شریف توپارلیمنٹ میں قدوم میمنت لزوم فر ما تے ہی نہیں ہیں ۔ امریکا چاہتاہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کی طر ح ایک لا دینی ریاست بنا کر اس کی ڈور بھارت کے ہا تھ میں پکڑ ادی جائے، صدارتی نظام کا المیہ یہ ہے کہ اس میں شخصی حکومت کا اثر نما یا ں رہتا ہے۔ ماضی میں پا کستان میں اس کا کا فی تجر بہ رہا ہے ، لیکن حیر ت ہے کہ پاکستان میں بعض قابل احتر ام شخصیات کی جانب سے اکثر وبیشتر صدارتی نظام کی بات اٹھتی ہے ، مثلاً جنرل (ر) اسلم بیگ نے سیا ست میں قدم رکھا تو انہو ں نے بھی صدارتی نظام کی خواہش کی ، بعد ازاں جب محسن پا کستا ن ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی سیا سی جماعت کھڑی کی تو انہو ں نے بھی اسی نظام کی حما یت کی ، اس کے بعد سابق چیف جسٹس افتخار چودھری ٍنے میدان سیاست میںقدم رنجا فرمایا تو انہو ں نے بھی صدارتی نظام ہی کی بات کی ، اب قائد عوام ثانی عمر ان خان نے بھی صدارتی نظام کی بات اگل دی ہے ۔ بات نظام کی ہئیت کی نہیںہو تی بلکہ اخلاص اورنیت کی ہوتی ہے۔جب آصف زرداری صدر پاکستان تھے اس وقت بھی پاکستان کا یہ ہی پارلیمانی آئین نا فذ تھا مگر اختیا ر آصف زرداری کی جیب میںتھے۔ آج بھی وہی آئین مو جو د ہے مگر اختیا ر ات وزیر اعظم کے کھسے میں پڑے ہوئے ہیں ۔اس مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو تا اسی وجہ سے پاکستان بحران در بحران کا شکا ر ہے جس د ن حکومتیں یہاں پاکستان کے سیا سی اداروں ہی کی بات نہیں بلکہ تمام سر کاری ادارے آئین کی روح کے مطابق روبہ عمل ہو ں گے تو پاکستان کے تما م دلدر مٹ جائیں گے ملک سے خلو ص چاہیے شخصیت سے نہیں۔

اداریہ