Daily Mashriq

قانون کی جنگ میں استعفے کا مطالبہ

قانون کی جنگ میں استعفے کا مطالبہ

پاکستان کے عوام بالخصوص نوجوانوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے کا کریڈٹ عمران خان کو دیے بغیر چارہ نہیں، اپنے حق کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا' صدائے احتجاج بلند کرنا اور جہاں شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہو آواز اُٹھانا ، بلاشبہ تحریک انصاف اور اس کے نوجوانوںکا خاصا رہا ہے، اس سے قبل ہمارے سماج کو خلاف ورزی پر صدائے احتجاج بلند کرنے کی کم کم ہی توفیق ہوتی تھی۔نوجوانوں میں سیاسی شعور کی ابتداء دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک انصاف کی طرف سے آواز اُٹھانے ' صدائے احتجاج بلند کرنے اور حق کے حصول کے لیے سڑکوں پر دھرنے دینے کی صورت میں ہوئی۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے عوام کی اکثریت نے عمران خان کا ساتھ نہ دیا بلکہ عمران خان بارے مجموعی طور پریہ تاثر قائم ہوا کہ عمران خان کو سڑکوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا کے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ عمران خان نے مگر ہمت نہ ہاری اور حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند رکھا' انہی ایام میں پانامہ کا ہنگامہ کھڑا ہوا۔ عمران خان نے اس بار پہلے سے زیادہ توانا آواز کے ساتھ آواز اُٹھائی اور مؤقف اختیار کیا کہ جس ملک کے حکمران کرپٹ ہوں' انہیں حکمرانی کا کوئی اختیار نہیں۔ عمران خان کے اس مؤقف کو شروع شروع میں حزب اختلاف اور دیگر سیاسی جماعتوں نے مضحکہ خیز قرار دے کر خاص توجہ نہ دی۔ پانامہ کیس میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جہاں عمران خان بالکل تنہا دکھائی دیے۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کو قانونی شکل دیتے ہوئے سپریم کورٹ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پانامہ کیس سپریم کورٹ لے جانے سے قبل تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل رہی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہاں سے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے راستے جدا ہو گئے۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہونے لگی ' تحریک انصاف نے اول اول جو ثبوت فراہم کیے وہ اخباری تراشوں اور کئی سو صفحات پر مشتمل تھے، جسے سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اخباری تراشے ٹھوس ثبوت نہیںہیں۔ سپریم کورٹ میںطویل سماعت اور بحث کے بعد فیصلہ سنایاگیا اور 20اپریل کو سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے خلاف پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میںمشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا ،جسے حکمران مسلم لیگ (ن) نے''فتح'' قرار دیا۔ 20اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم رہی ، 3ججز ایک طرف جب کہ دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قراردینے پر اتفاق کیا۔ 20اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دونوںسیاسی جماعتوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ہر ایک نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کے حق میں آیا ہے۔ اس سارے پس منظر میں عمران خان مگر پرسکون'مطمئن اور پرامید دکھائی دیئے۔ پانامہ کیس کے لیے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی نے مسلسل 60روز تک کام کیا، نواز شریف سمیت ان کی فیملی کے دیگر ارکان کو طلب کرکے ان سے سوالات کیے اور سپریم کورٹ میںجو رپورٹ پیش کی اس کی تفصیلات میڈیا میںآ چکی ہیںجس کا لب لباب یہ تھا کہ جے آئی ٹی ارکان نے ٹھوس رپورٹ تیار کی ہے جو واضح طور پر شریف فیملی کے خلاف ہے۔ 

یہاں سے پانامہ کیس نے نیا رخ اختیار کیا ' تحریک انصاف جو شریف فیملی کو پہلے ہی کرپٹ تصور کر رہی تھی اس نے بڑی شدت سے یہ کہنا شروع کردیا کہ اب وزیر اعظم کے پاس اپنے عہدے پر براجمان رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی دیگر جماعتوںنے بھی دامے درمے سخنے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وزیر اعظم کو اب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ تحریک انصاف نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ بھی کردیا۔ حکمران جماعت اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر سر جوڑ کر بیٹھی ہیں اوراپنے مستقبل کے لائحہ عمل بارے غور و خوض کررہی ہیں۔ وزیر اعظم کی طرف سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیںدیںگے ۔اس سارے پس منظر میں ہمارے خیال میں ایک چیز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور وہ ہے اداروں کی مضبوطی اور قانون کی جنگ ۔ ہمارے قارئین کو یادہو گا کہ جب عمران خان پانامہ لیکس کا کیس سپریم کورٹ لے کر گئے تو ہم نے انہی سطور میں لکھا تھا کہ عمران خان کے اس اقدام سے ادارے مضبوط ہو ں گے۔ آج جب کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آئی ہے ، سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے تو تحریک انصاف کی طرف سے یہ مؤقف کیوں سامنے آ رہا ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں ۔ ہمارے خیال میں تحریک انصاف نے جہاںقانون کے نفاذ اور اداروںکی مضبوطی کے لیے طویل جنگ لڑی ہے اسے تھوڑا انتظاراور کرنا چاہیے اور وہ ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ ۔تحریک انصاف نے جو آج مؤقف اختیا ر کیا ہے وہ یہ تاثر دیتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ہمارا مسئلہ میاں نواز شریف نہیں بلکہ سسٹم کی بحالی ہے اور یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تحریک انصاف کے اس اقدام سے جمہوریت ہی ڈی ریل ہو جائے ، تحریک انصاف کا کیس انتہائی مضبوط ہے اور آنیوالا کل بھی شاید تحریک انصاف کا ہو،احتساب کا عمل جاری رہنا چاہئے یہی جمہوریت کا حسن ہے ،اس طرح کے احتساب کا آمریت میں تصور بھی محال ہے ۔

اداریہ