Daily Mashriq


تعلیمی نظام کی گل افشانیاں

تعلیمی نظام کی گل افشانیاں

بشری نقائص ا ور کمزوریاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو انسان سے خطا کا پتلا ہونے کے ناتے سر زد ہو جاتی ہیں اور احساس ہونے پر اس کی تلافی کرلیتے ہیں۔ یوں معاملات زیادہ بگڑتے نہیں۔ دوسری قسم کی خطائیں نا دانستہ نہیں ہوتیں بلکہ لوگ اپنے مادی مفادات کے لئے دوسرے انسانوں کے حقوق مارتے ہوئے پورے معاشرے اور نظام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ دوسری قسم کی خطائیں اور کمزوریاں پاکستان میں بہت عام ہیں اور یہ تقریباً ہر شعبہ زندگی میں جاری و ساری ہیں۔ پچھلے دنوں مشہور سیاستدان جاوید ہاشمی نے پاکستان کے ان ہی واقعات و معاملات کے پیش نظر کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی صادق اور امین نہیں۔ المیہ ہی ہے ؟خیر انہوں نے تو یہ کسی اور تناظر میں کہا تھا۔ اور یہاں جو بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس معیار کی صداقت و امانت نہ سہی جو قرآن و سنت کو مطلوب ہے لیکن کم از کم اس کا ایک ادنیٰ معیار تو معاشرے کے قائم رہنے کے لئے بھی ضروری ہے اور جب ادنیٰ معیار صداقت و امانت بھی دائو پر لگ جائے تو ایسے ہی ہوتا ہے جیسا اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔ خیر یہ تو سیاسی معاملات ہیں چلتے رہیں گے اور دنیا کے بعض دیگر ملکوں میں بھی ہوتے رہتے ہیں اگرچہ وہ ہمارے ہاں کی طرح نہیں ہوتے۔لیکن ہمارے تعلیم کے شعبے میں گزشتہ تین چار عشروں بالخصوص گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جو مقابلہ جلب زر برپا ہے اس نے تعلیم کو محض تجارت میں تبدیل کردیا ہے اور یہ اس لئے ہوا کہ ہماری حکومتوں نے شعبہ تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ پیسوں والوں نے اپنے بچوں کے لئے الگ سے پرائیو یٹ ادارے قائم کروا کر الگ نظام تعلیم (انگلش میڈیم) قائم کیا۔ بعض خواص کے بچے تو بہت پہلے سے بیرون ممالک (امریکہ و یورپ) میں حصول تعلیم کے لئے جاتے تھے جن کا تعلق ہمارے حکمران' جاگیر دار اور صنعت کار طبقات سے تھا۔ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلا کہ گورنمنٹ سیکٹر کے سکول' کالجز اور جامعات کا تعلیمی' اخلاقی اور انتظامی معیار گرتا چلا گیا۔ سیاسی اثر و رسوخ نے ہمارے تعلیمی اداروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ دوسری طرف سرمایہ دار طبقے نے جب دیکھا کہ اس وقت شعبہ تعلیم میں بھی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے تو انہوں نے دھڑا دھڑ سکولوں سے لے کر جامعات اور میڈیکل کالجز تک اداروں میں سرمایہ کاری کی۔ لیکن المیہ یہ ہوا کہ یہ تجارتی ذہن ہمارے میڈیکل کالجوں کی طرف بھی مائل ہوا اور جب ان کو پتہ چلا کہ پندرہ ہزار طلبہ میں سے صرف ڈھائی تین ہزار طلبہ و طالبات کو انٹری ٹیسٹ کی چھلنی سے گزرنے کے بعد داخلہ ملتا ہے اور باقی ماندہ طلبہ کی ایک کثیر تعداد دل میں ڈاکٹر بننے کا ارمان لئے پھر رہی ہے اور اان طلبہ کے والدین بھی ہر قیمت پر اپنے نو نہالوں کو ڈاکٹر ہی بنانا چاہتے ہیں تو انہوں نے طلبہ اور ان کے والدین کی اس کمزوری کو خوب ایکسپلائٹ کیا اور پاکستان کے ہر صوبے میں دھڑا دھڑ میڈیکل کالجز مشروم کی طرح اگنے لگے۔پرائیویٹ سیکٹر کے ان میڈیکل کالجوں نے ہمارے نامی گرامی تاریخی کالجوں کو بہت متاثر کیا۔ ان کالجوں میں اساتذہ کو سرکاری کالجوں کے مقابلے میں بھاری تنخواہیں دکھلا کر مائل کرنے کی کوشش ہوتی ہے ورنہ پارٹ ٹائم کلاسیں پڑھنا تو سرکاری کالجز کے اساتذہ کا بنیادی حق بن گیا ہے۔ اس سبب سے ڈاکٹر صاحبان اپنے کالج میں ایک آدھ کلاس پڑھا کر ادھر دوڑتے ہیں یوں دو تین میڈیکل کالجوں کے درمیان یہ دوڑ پورا سال جاری رہتی ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے بحرانوں کاشکار ہوتے رہتے ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور میڈ یکل کالجز اپنے طلبہ و طالبات کو اعلیٰ نمبروں سے پاس کروانے کے لئے جس گیدڑ سنگھی کو استعمال کرتے ہیں وہ ایک طویل رام لیلیٰ کی داستان ہے اور بعض باتیں خوف کے مارے لکھی نہیں جاسکتیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں میٹرک سے لے کر ایم بی بی ایس تک جو عنصر جادوئی کردار ادا کرتا ہے وہ پریکٹیکل اور وائیو ا ووس (Viva) کا امتحان ہوتا ہے اور میڈیکل کے فائنل میں تو جادو اور کمال بدرجہ اتم یوں موجود ہے کہ کل 1600نمبرات میں سے 700 تھیوری کے ہوتے ہیں اور 900 وائیوا وغیرہ کے ۔ اب اگر کوئی طالب علم 700 میں سے 600 بھی لے لے لیکن وائیوا میں ممتحن کی نگاہ شفقت سے محروم رہ جائے تو وہ بس سر ہی پیٹتا رہ جائے گا۔اس کے جادوئی عمل کا شاخسانہ آج میڈیکل کالجز کے درمیان وائیوا کے امتحان میں مقابلے میں دیکھا جاسکتا ہے اور اس دفعہ تو کمال ہوگیا ہے کہ ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کے طالب علم نے پوری خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو ٹاپ کیا ہے۔ سب کو مبارک ہو۔ اب آئندہ ہمارے ہسپتالوں پر اس کے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ دیکھنے کے قابل ہوں گے کہ جن تعلیمی اداروں میں ڈھنگ کی ٹیچنگ فیکلٹی دستیاب نہ ہو اور وہاں… ماشاء اللہ۔

''ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا لکھئے''

متعلقہ خبریں