Daily Mashriq

ساجد خان شہید

ساجد خان شہید

ساجد خان مہمند رتبہ بالخصوص شہادت پر فائز ہو گئے ۔ یقینا شہادت ایک اعزازہے اور یہ اللہ تعالیٰ ان بندوں کو عطا کرتا ہے جنہیں اس منصب کیلئے چنا جاتا ہے اور ساجد خان اس اعزاز کے حقدار تھے ۔ ان کی شہادت کوئی اتفاقیہ بھی نہیں ہے ۔ وہ کئی دنوں سے ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار اور چند دن قبل ہی ایک بڑے گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی کر کے آئے تھے ۔ وہ ا ن لوگوں کی سرکوبی کرنا چاہتے تھے ۔ جو مسلسل ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ ساجد خان مہمند خیبر پختونخوا کے ان چند افسروں میں سے تھے جن پر بجا طور یہ محکمہ فخر کرتا رہے گا ۔ شہدا ء کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے اور قربانیوں کا یہ لا متنا ہی سلسلہ آگے بڑھا ہے ۔ ان کی شہادت خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ محکمہ پولیس آئندہ ماہ یو م شہادت منانے کی تیاری کر رہا ہے ، یقینا ساجد خان کی جدائی سے ان کے ہم پیشہ ساتھی رنجیدہ ہونگے۔ یہی حال ان کے دوستوں ، رشتہ داروں اور عزیزوں کا بھی ہے ۔ ان کے اہل خانہ تو نڈھال ہیں ۔ بالخصوص ان کے پو تے علیان تو ان کی شفقت و محبت سے دائمی محروم ہوگئے ہیں چمن اور قریبی اضلاع میں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا تو تصدیق اور تفصیل جاننے کیلئے ہم فوراً ساجد خان کا نمبر ڈائل کر تے اور اسی دن بھی یہی ہوا ، جب چمن میں دھماکے کی خبر ملی تو فوراًان کا نمبر ملایا اور پہلی بار ایسا ہوا کہ ساجد خان نے کال ریسیو نہیں کی ، دوسری بار ملانے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ٹی وی سکرین پر یہ ٹکر ابھرا ، کہ ڈی پی او نشانہ بنے ہیں بس سمجھ گیا کہ وہ اب رتبہ بلند پر فائز ہو چکے ہیں اور اب ہم اس قابل ہی نہیں رہے کہ وہ ہمارا فون سنے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے پختونخوا پولیس کی قر بانیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک لمبی فہرست ہے اور جب بھی کوئی پولیس جوان دہشت گردوں کا نشانہ بنتا ہے تو ایک ایک کرکے سارے جانے پہچانے چہرے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ کئی ایک کے ساتھ ذاتی تعلق تھا اور کئی اس لحاظ سے شنا سا تھے کہ پیشہ ورانہ فرائض کے دوران محض علیک سلیک رہی ۔ مگر ہرایک اپنے کاڑ کے ساتھ جڑا رہا ۔ اور قربانی دے کر مقصد حیات تک پہنچے۔ پولیس کی قربانی کا ذکر ہو تو سب سے پہلے ریاض الدین کا مسکراتا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے ۔۔۔جی ہاں وہی ریاض الدین جو پشاور پریس کلب کے مرکزی دروازے پر متعین تھا اور طویل عرصے تک ان کی تعیناتی نے انہیں ہماری کمیونٹی کا ایک فرد بنادیا ۔ پریس کلب کے داخلی دروازے پر پہنچتے تو ریاض الدین مسکراتے چہرے کے ساتھ استقبال کرتے وہ اپنا فرض خوب جانتے اور نبھا رہے تھے یہی وجہ تھی کہ جب سفاک دہشت گرد نے پریس کلب کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو ریاض الدین نے اسے روکا اور اپنے فرض پرجان نچھاور کر دی ۔ یقینا اگر ریاض الدین شہید ذرا سی بھی غفلت یا تساہل کا مظاہر ہ کرتا ، تو پریس کلب کے اندر بڑی تباہی مچ جاتی ۔ لیکن ریاض الدین نے پشاور کے صحافیوں کو محفوظ رکھا ۔ اس طرح خورشید خان ، جسے دہشت گرد اغوا ء کر کے لے گئے اور ان کی سر بریدہ لاش ہی ملی ، ملک سعد جیسی دبنگ شخصیت ، صفوت غیور ، اور عابد علی کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے پشاور بالخصوص اور خیبر پختونخوا کے کونے کونے میں حفاظتی چوکیوں اور ناکوں پر متعین اہلکا ر ہوں یا پولیوجیسے موذی مرض سے بچائو کے قطرے پلانے والے رضا کار وں کی حفاظت پر مامور سپاہی چوک چوراہوں میں ٹریفک کا نظام سنبھالنے والے سارجنٹ ہوں یا ملک دشمن عناصر پر نظر رکھنے والے خفیہ پولیس کے جوان سب نے اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالا اور ڈال رہے ہیں بس کوئی بھی پیچھے نہیں ہٹا اور پیغام بھی یہی ہے کوئی ہٹا بھی نہیں سکتا ۔ قربانیوں کا سلسلہ اس انداز میں جاری ہے کہ پورے ملک میں اس کی نظیر نہیں ۔ محکمہ پولیس کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک پختونخوا پولیس کے ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ،2ڈی آئی جیز ، ایک اے ایس پی ، 7ایس پیز ، 24ڈی ایس پیز ، 25انسپکٹر ز ، 115سب انسپکٹرز ، 131اسسٹنٹ انسپکٹر ، 148 ہیڈ کانسٹیبلز اور 1133کا نسٹیبل فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کے نذرانے پیش کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ تاہم دوسری جانب اگر ان شہدا کے لواحقین اور ورثا ء کے لئے مراعات کو دیکھا جائے تو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں ۔ پنجاب میں پولیس کے شہدا کو جو پیکج دیا جاتا ہے وہ کئی گنا زیادہ ہے ۔ اس کی زیادہ تفصیل میں جانے کی بجائے صرف 2مثالیں دینے پر ہی اکتفا ء کرتے ہیں ۔پنجاب پولیس کے کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو شہید پیکج کے تحت 2کروڑ 35لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں ۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے اہلکار کو 44لاکھ روپے ملتے ہیں ۔ اس طرح ڈی آئی جی اور اوپر سطح کے افسروں کو شہید پیکج کے تحت 7کروڑ 22لاکھ روپے ملتے ہیں ۔ یہ تفاوت تمام عہدیداروں کے لئے اس تناسب سے ہے ۔ یقینا زیادہ قربانیوں کے حامل صوبے کی پولیس فورس کے ساتھ یہ نا انصافی ہے ۔ اس کا خاتمہ ضروری ہے اور آخر میں شہید ساجد مہمند کے جسد خاکی کو بذریعہ سڑک لانے کے حوالے سے جو تاثر پھیلا ہے وہ بجا طور پر تشویشناک ہے ۔ اگر چہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی اپنا موقف دیا ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شہید کی میت کو سی ون تھرٹی کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا تھا ۔ بہرحال شہید کو قدرت کی جانب سے جو اعزا زملا ہے وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ یہ اعزاز ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔

اداریہ