Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک بار اتفاق سے ہارون رشید کی ایک بڑے بزرگ شقیق بلخی سے ملاقات ہوگئی۔ وہ جانتا تھا کہ بزرگوں کا احترام کرنا چاہئے اور جب ایسی ہستیوں سے ملا جائے تو ان سے علم و عقل کی باتیں سننی چاہئیں تاکہ زندگی بنے اور سنورے۔حضرت شقیق ملے تو ہارون رشید نے پوچھا۔ آپ ہی اس دور کے زاہد ہیں ؟ جواب ملا۔ میں تو شقیق ہوں! ہارون رشید چپ ہوگیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے غلط سوال کیا۔ کوئی اپنے آپ کو اپنی زبان سے عابد و زاہد کہہ سکتا ہے؟ نہیں۔ جو کہے تو سمجھ لیجئے کہ ضرور اس میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہوگا۔کچھ وقت ساتھ گزرا تو ہارون نے کہا۔ حضرت والا! کچھ نصیحت کیجئے کہ میں اپنے پلے باندھ رکھوں! فرمایا۔ تو حکومت کرتا ہے تو ایک بات کا خیال رکھ! ہارون نے پوچھا کس بات کا؟ فرمایا تجھے صدیق اکبر کی جگہ بٹھایاگیا ہے تجھ میں معاملہ فہمی' تدبراور سچائی ہونی چاہئے جیسی کہ ان میں تھی۔ تجھے عمر فاروق کی جگہ بٹھایاگیا ہے اس لئے تجھ میں عدل ہونا چاہئے اور حق و باطل میں فرق کرنے کی قوت! تجھ میں تسخیر کائنات کی صلاحیت ہونی چاہئے جیسی ان میں تھی۔ تجھے حضرت عثمان غنی کی جگہ بٹھایاگیا ہے ۔ اس لئے تجھ میں حیا' مروت ' کرم' غصے پر قابو کی صفتیں ہونی چا ہئیں جو ان میں تھیں۔ اے اللہ کے نیک بندے یاد رکھ کہ تجھے حضرت علی مرتضی کی جگہ بٹھایاگیا ہے تجھ میں اخلاص علم و زہد ہونا چاہئے جیسا کہ ان میں تھا۔ ہارون خاموشی سے ایک ایک بات سنتا رہا پھر بولا۔ حضرت کچھ اور ارشاد ہو! حضرت شقیق نے فرمایا۔ ایک جگہ ہے تجھے اس کا دربان بنا یا گیا ہے۔ ہارون نے پوچھا۔ کس جگہ کا دربان مقرر کیاگیا ہے ؟ فرمایا۔ اس کا نام دوزخ ہے۔ تجھے اس کا دربان بنا کر تین چیزیں دی گئی ہیں۔ ہارون نے پوچھا ۔ وہ کون سی؟ فرمایا۔ ایک خزانہ ہے' ایک تازیانہ ہے اور ایک تلوار۔تیرے لئے حکم ہے کہ ان تینوں چیزوں سے کام لے۔ جو تنخواہ دار یا حاجت مند ہوں۔ انہیں بیت المال سے دے امانت اور دیانت سے اس کی ایک ایک پائی خرچ کر۔ کوئی حلال اور حرام کی تمیز نہ کرے جائز و نا جائز میں فرق نہ کرے' قانون پر نہ چلے تو اسے تازیانے سے سبق سکھا۔ اس میں ادب تمیز' شائستگی اور دوسروں کے لئے خیر خواہی کے جذبات پیدا کر۔ حکمران کا خوف اٹھ جائے تو امن باقی نہیں رہتا۔ اگر کوئی کسی کی ناحق جان لے یا تیری مملکت کی سرحدوں کو پامال کرے تو پھر تلوار اٹھا۔ اگر تو ایسا نہ کرے گا تو یاد رکھ! دوزخیوں کا سردار بنے گا اور تیرے ساتھی تیرے درباری تیرے عہدے دار اور تیری ہاں میں ہاں ملانے والے تیرے ساتھ جہنم سدھاریں گے۔ ہارون یہ سن کر دیر تک چپ رہا۔ امام غزالی نے لکھا ہے پھر اس نے کہا کچھ اور ارشاد ہو حضرت شقیق نے فرمایا۔ چشمے سے نہریں نکلتی ہیں۔ ہر طرف پھیل جاتی ہیں۔ سمجھ لے کہ تو چشمہ ہے ! تیرے نائب تیرے عمال تیرے عہدے دار نہریں ہیں یاد رکھ۔ اگر چشمہ صاف ہوگا تو نہریں بھی صاف ہوں گی۔ ہارون نے یہ باتیں سنیں تو دعا مانگی۔ خداوند! مجھے ان نصیحتوں پر عمل کی توفیق عطا فرما! میں بہت کمزور اور بہت گنہگار آدمی ہوں!(روشنی)

اداریہ