پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے عزم کااعادہ

پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ کے عزم کااعادہ

ملک میں سیاسی قیادت جہاں اقتدار کی کشمکش میں ہے عسکری قیادت ایک تسلسل کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے کسی غلط فہمی کے امکان' پروپیگنڈے' غیر یقینی کی کیفیت اور اس حوالے سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے اور ان کا مکمل طور پر انسداد کرنے کی سعی میں ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو روز قبل ہی سی پیک کی ہر قیمت پر تکمیل کے عزم کا اعادہ کیا تھا جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کراچی میں بحریہ افسران کی107 ویں مڈ شپ مین اورسولہوویں شارٹ سروس کمیشن کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک)کے خلاف راکی سازشوں سے بھی واقف ہیں۔جنرل زبیر کے مطابق 'بھارتی خفیہ ایجنسی ملک میں بے چینی اورعدم استحکام پیدا کرکے اربوں ڈالر مالیت کے سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی کی شاندار تاریخ ہے اور ہمارے سیکورٹی دفاعی آپریشنز، میری ٹائم کائونٹر ٹیررازم، اینٹی پائریشن آپریشنز میں مزید بہتری آئی ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے جبکہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیکورٹی قائم ہونا پاکستان کی سیکورٹی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر مقامی پراکسیز کے ذریعے فعال بیرونی اسٹیٹ اسپانسرڈ عناصر کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کررہی ہیں۔چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر کا پاک بحریہ کے تربیت حاصل کرنے والے افسران سے خطاب کرتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری بارے اظہار خیال اسی تناظر میں خاص طور پر اہم ہے کہ گوادر پورٹ پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکزی منصوبہ اور بحری راستوں سے سامان تجارت کی ترسیل و رسائی کی حفاظت میں بحری قوت کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ ایک اور قابل توجہ امر یہ بھی تھا کہ بھارتی بحریہ کی گوادر پورٹ کی جانب سے حال ہی میں مہم جوئی کی ایک ناپاک کوشش کو پاک بحریہ نے ناکام بنا کر ثابت کردیا تھا کہ پاک بحریہ گوادر پورٹ اور سمندری راستوں کے تحفظ کی ذمہ داری میں پوری طرح مستعد اور ہر دم تیار ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت گوادر پورٹ کے گہرے پانی کی بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی موزونیت اور دنیا کے سمندری تجارتی راستے کا مرکزی پڑائو ہونے کے باعث اہمیت مسلمہ ہے جس کے پیش نظر اس کے تحفظ کی ضروریات بھی یقینا اسی سطح اہمیت کی حامل ہیں۔ بھارت اور دیگر قوتوں کی بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوششیں کوئی راز کی بات نہیں۔ کلبھوشن نیٹ ورک کے پکڑے جانے سے تو اس کا ناقابل تردید ثبوت بھی ہاتھ آگیا ہے۔ اگرچہ بلوچستان کے حالات پر قابو پایا جا چکا ہے۔ مگر اب بھی کبھی کبھار افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں جس پر قوم کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک میں وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ پوری شدت سے ہو رہا ہے ملک میں سیاسی انتشار کے باعث سٹاک مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر کریش کر تی جا رہی ہے۔ حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت پانامہ کیس کو سی پیک کے خلاف سازش سے تعبیر کر رہی ہے ایسے میں ملک میں اور ملک سے باہر پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے بارے مختلف پہلوئوں پر سوچ بچار فطری امر ہے۔ اگرچہ سی پیک وزیر اعظم نواز شریف اور چینی قیادت کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ حکومت پاکستان اور چین کی حکومت کے درمیان معاہدہ ہے لیکن بہر حال ملک میں حکومت کی قیادت اور جس قیادت سے بات چیت کی گئی ہو اس کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے۔اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے سی پیک کے تحفظ و تکمیل کی یقین دہانی پہلی مرتبہ نہیں کرائی گئی بلکہ عسکری قیادت بار بار اس کا اعادہ کرتی رہتی ہے۔ خواہ کچھ بھی ہو سی پیک کے معاملے پر نہ تو ملکی قیادت عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سمیت عوامی سطح پرکسی کو اختلاف ہے اور نہ ہی اس بارے میں کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ البتہ اس منصوبے سے پاکستان دشمنوں کو سخت تکلیف ضرور ہے کہ ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ سی پیک منصوبے میں رخنہ ڈالیں۔عسکری قیادت کی جانب سے یقین دہانی پوری قوم کی ترجمانی ہے۔ قطع نظر اس کے کہ ملک میں سیاسی بحران کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کا سی پیک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن بہر حال یہ ضروری ہے کہ اس بحران کا جلد سے جلد خاتمہ بالخیر ہو اور ملکی قیادت یکسوئی کے ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نہ صرف پاکستان اور چین کے لئے ہی اہمیت کا حامل ہے بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ہے جس کے تحفظ کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں اور پاک فوج اس کی حفاظت کا ضامن ہے۔پاک فوج اور پوری قوم پاک چین اقتصادی راہداری کے تحفظ میں جس طرح پر عزم اور سینہ سپر ہیں وہ نہایت اطمینان کا باعث امر ہے دشمن خواہ جتنی بھی سازشیں کرے وطن عزیز میں بسنے والا ایک ایک فرد اس کو ناکام بنادینے میں پر عزم ہے اور قربانیوں کے لئے بھی تیار ہے۔

اداریہ