ریپڈ بس منصوبے کو تنازعات کا شکار نہ بنایا جائے

ریپڈ بس منصوبے کو تنازعات کا شکار نہ بنایا جائے

صوبہ خیبر پختونخوا کے پایہ تخت پشاور میں ریپڈ بس سروس منصوبے کا افتتاح چودہ اگست کو متوقع ہے منصوبے کے خدوحال طے کئے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمے اور انتظامیہ کا دعویٰ رہا ہے کہ اس منصوبے کے حوالے سے کاروباری طبقے اور متاثرہونے والے شہریوں کے تحفظات باقی نہیں ایسے میں اچانک تاجر تنظیموں کی جانب سے روٹ میں تبدیلی پر احتجاج کی دھمکی کے ساتھ سامنے آنا کوئی نیک شگون نہیں ۔ کسی منصوبے کیلئے بین الاقوامی بینک یا ادارے سے قرض لینے کی دیگر شرائط میں سے بڑی شرط منصوبے کا غیر متنازعہ محفوظ اور متاثر ہونے والے فریقوں اور افراد کو مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو معقول معاوضے کی فراہمی ہے۔ اگر ریپڈ بس منصوبے کے فطری روٹ کا جائزہ لیا جائے تو اسے چمکنی سے شروع ہو کر براستہ خیبر روڈ حیات آباد پر اختتام ہونا چاہیئے تھا ایک روایتی فطری اور سیدھا روٹ بنانے پر نہ تو شہر ی اور کاروباری افراد کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان تھا اور نہ ہی اس پر لاگت زیادہ آتی مگر شہر کو جس طرح سے نوگو ایریا بنایا گیا ہے ایسے میں نہ تو یہ ممکن سمجھا گیا اور نہ ہی حکام کو مطلوب تھا ۔ اب ریپڈ بس سروس کا روٹ بالاحصار سے امن چوک تک بھول بھلیوں کا ایک نادر نمونہ ہوگا اس حصے میں سب سے زیادہ کاروباری افراد متاثر ہوں گے جس میں سنہری مسجد روڈ کے دکاندار شاید سب سے زیادہ متا ثرہوں خیبر بازار اور شعبہ بازار کا کاروبار بھی اس روٹ کے باعث متاثر ہوگا ۔ تاجروں کا یہ سوال اہمیت کا حامل اور اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ روٹ طے کرنے کے بعد اب اس میں تبدیلی کی کیا ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں اس وقت اس منصوبے پر تنقید بلکہ تجاویز دینے کا بھی وقت نہیں اس منصوبے پر کام فوری طور پر شروع ہوجانا چاہیئے کیونکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں آمد ورفت اور ٹریفک کے بدتر ین مسائل کا حل ہر قیمت پر کرنا مجبوری بن چکی ہے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا تو جہاں اس کے لئے فنڈز کی فراہمی میں رکاوٹ کا امکان ہے وہاں تاجروں اور دیگر متا ثرین کے عدالت جانے کے باعث ممکنہ طور پر اس کے التواء کا امکان پیدا ہوگا ۔ اس منصوبے کے سیاست کی نذر ہونے کا بھی دھڑ کا لگا رہتا ہے ۔ اس نافع منصوبے کو تنازعات کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے اولاً اس کے روٹ میں غیر ضرور ی تبدیلی نہ کی جائے جو روٹ طے کیا جا چکا ہے اب اس میں تبدیلی نہ لائی جائے اور اگر نا گزیر ہے تو حکومت متا ثرین سے فوری مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرے اور منصوبے میں رخنہ آنے نہ دے ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ اگر اس منصوبے کا آغاز و تکمیل خدانخواستہ موجودہ دور حکومت میں نہ ہو سکا تو جہاں موجود ہ حکومت کیلئے سخت نا خوشگوار صورتحال کا باعث ہوگا وہاں اس سے عوام کو بھی سخت مایوسی ہوگی ۔ وسیع تر مفاد اور عوامی فلاح کیلئے عوام کو قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور تکالیف سہنی پڑتی ہیں اور خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری لوگوں کو کم سے کم متاثر ہونے دینا اور موزوں منصوبے کی تیاری ہے۔ ہر دو فریق حکومت اور معترضین سے عوام کی فلاح و سہولت کے واسطے اپیل ہے کہ وہ عوامی مفاد میں ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے اور اس مسئلے کو تنازعات سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور منصوبے کی جلد تکمیل کی راہ ہموار کی جائے ۔
عین وقت پر تجاوزات ہٹانے کی مہم چہ معنی دارد
اب پچھتا ئے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کے مصداق بارشوں اور سیلاب سے شاہی کٹھہ او رشہر کے نالوں پر تجاوزات کو ہٹانے کیلئے اب آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ شہر یوں کا خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک کا شکوہ اپنی جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہر بار فیصلہ کرنے کا اعلان ہی ہوتا رہے گا یا پھر اس پر عملدر آمد کی نوبت بھی آئے گی ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بہ نفس نفیس نالوں سے تجاوزات ہٹانے کا عملی قدم اٹھا یا تھا مگر تیسرے چوتھے سال بعد بھی ندی نالوں کے کنارے بلکہ ندی نالوں کے اندر پانی کے راستوں سے تجاوزات ہٹائے نہ جا سکے ۔ موجودہ حکومت کا تجاوزات ہٹانے کی کامیاب مہم سے کسی کو انکار نہیں مگر ایک نا ممکن کام کر دکھانے کے بعد اسے ادھورا چھوڑنا اور ندی نالوں میں سیلاب کے باعث عوام کی جان و مال اور املاک کی تباہی کے واقعات مزید امکانات وخدشات تفکر کا باعث امور ہیں۔ شاہی کٹھہ ہو یا دریائے باڑہ کی گزرگاہ بڈھنی پل ہو یا ناصر باغ کا نالہ جہاں جہاں بھی تجاوزات ہٹانے کی مہم کی ضرورت تھی یا پشتے تعمیر کرنے تھے سارے منصوبے اور کام ادھورے پڑے ہیں ۔

اداریہ