Daily Mashriq

عوام کو استعفوںکی نہیں انصاف کی ضرورت ہے

عوام کو استعفوںکی نہیں انصاف کی ضرورت ہے

جب پاناما کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع نہیں ہوئی تھی تو اپوزیشن کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے یں۔ ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے تحقیقات اور گواہیاں ان کے عہدے اور اثر سے متاثر ہوں گی ، تحقیقات کے ماحصل اور شہادتوں پر وزیراعظم کے عہدے کے دبدبے کا اثر ہو گا۔ تب اپوزیشن کے پاس وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبہ کرنے کا وزن دار جواز تھا۔ لیکن اب جب سپریم کورٹ کی قائم کی ہوئی جے آئی ٹی ساٹھ دن تک ان سے اور ان کے اہل خانہ سے ان کی دولت ' اس کے ذرائع اور اس کی منتقلی کے بارے میںسوال جواب کر چکی ہیں۔ اب اپوزیشن والے کیوں ان سے استعفیٰ مانگتے ہیں؟ اب تو جے آئی ٹی نے جو رپورٹ دی ہے اس پر سپریم کورٹ مزید کارروائی کرے گی۔ اب تو کوئی ایسے حالات نہیں کہ وزیر اعظم کا عہدہ گواہوں اور تحقیقات کرنے والوں کو بے حوصلہ کر سکے۔ یہ مطالبہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے سیدخورشید شاہ کی طرف سے اس دلیل کے ساتھ آیا کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف نے استعفیٰ نہ دیا تو اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی اور جمہوریت پٹڑی سے اُتر جائے گی۔ حالانکہ یہ کام تو خود میاں نواز شریف بطور وزیر اعظم کر سکتے تھے اور کر سکتے ہیں اگر وہ اسمبلیاں توڑنے اور نئے انتخابات کا اعلان کر دیں۔ جس کا انہیں آئین کی رو سے اختیار حاصل ہے۔ استعفے کا مطالبہ کرنے والوں نے یہ کہا ہے کہ اسمبلیاں قائم رہیں' وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں اور ان کی جگہ مسلم لیگ کا کوئی دوسرا لیڈر وزیر اعظم بن جائے۔ اس سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والوں کی اسمبلی کی نشستیں تو بچ جاتی ہیں ۔ لیکن وزیر اعظم میاں نواز شریف اقتدار سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس تجویز میںوزیر اعظم نواز شریف کی دلچسپی کا کوئی پہلو نہیںہے۔ اگر وہ اس تجویز پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے تو سمجھا جاتا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کی رپورٹ میں اتنا کچھ پڑھ لیا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنے خلاف ہونے کا یقین ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے یہ فیصلہ وزیر اعظم کے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوتا (اگر وہ کرتے) ایک تو ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں سیاسی لیڈروں کے نام کی پارٹیاں ہوتی ہیں۔ دوسرے اگر مسلم لیگ ن کے سربراہ مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے مستعفی ہو جاتے تو پارٹی اس مایوس کن صورت حال کے باعث فوری طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ۔ خود وزیر اعظم میاںنواز شریف جنہیںآج پارلیمنٹ میں اکثریت کی حمایت اور وفاداری حاصل ہے اپنے فیصلے کے باعث خود بھی تنہا ہو جاتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی تنہا کر دیتے۔ ہمارے ہاںرائج سیاسی روایت میں نہ تو وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر خود تنہا رہ جانے کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ پارٹی میں ان لوگوں کو جوان سے وفاداری کا دم بھرتے ہیں اور ان پر انحصار کرتے ہیںتنہا کر سکتے ہیں۔ اس لیے اپوزیشن پارٹیوں کا وزیر اعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ ''کھیلن کو مانگے چاند'' کے مترادف ہے۔ اس طرح وہ (سربراہ کے کرپشن کے الزامات کے خوف سے مستعفی ہونے کی وجہ سے) شرمندہ اور کمزور مسلم لیگ کی حکومت میں اسمبلیوںمیںایک سال گزارنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں تاکہ وہ مسلم لیگ ن کے مایوس ہونے والے ارکان کی وفاداریوں کو آزما سکیں۔ اور میاں نواز شریف پارلیمانی پارٹی کی سربراہی سے محروم ہو کر مقدمے کی باقی کارروائی کا سامنا کریں۔ اس تجویز میں میاں نواز شریف کے ہاتھ کیا آتا ہے؟ پی ٹی آئی تو جب سے وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے آپ کواور اپنے اہل خانہ کو تحقیقات کے لیے پیش کرنے کی پیش کش کی تب سے کہہ رہی ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر مقدمہ کی کارروائی کا سامنا کریں لیکن پیپلز پارٹی تو فریق مقدمہ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ پارلیمنٹ کوبچانے کی خاطر وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں جب کہ پارلیمنٹ کو بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی کے ایک بڑے لیڈر چودھری اعتزاز احسن ایک دوسری ہی کہانی سنا رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے سوال و جواب سب کچھ سکرپٹڈ یعنی پہلے سے طے شدہ ہیں۔ غالباً خورشید شاہ اور اعتزاز احسن میں رابطے کا فقدان ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ ن ایک عرصہ سے کہہ رہی ہے کہ ہمیں عوام کی عدالت نے عہدوں پر فائز کیا ہے۔ ہم عوام کے اعتماد کو استعفیٰ دے کر ٹھیس نہیں پہنچا سکتے۔ وزیر اعظم نے پہلے کابینہ اور پھر پارلیمانی پارٹی کے اجلاس بلا کر ان میں اعتماد ووٹ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے اور آخری دم تک لڑیں گے۔ مسلم لیگ ن کے قائدین مقدمے کی ساری کارروائی کو وزیر اعظم کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ کبھی مقامی اور بین الاقوامی۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ انصاف کی خاطر ڈٹے رہیں گے۔ انصاف سپریم کورٹ نے کرنا ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کا اس بنیاد پر وزارت عظمیٰ سے استعفے کا مطالبہ کہ وہ یہ قربانی دے کر سسٹم کو بچا لیں' جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے سے بچالیں یا پارلیمنٹ کو بچا لیں مصلحت بینی پر مبنی نظر آتا ہے جس کی وجوہ وہ خود جانتے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم نوازشریف کے مستعفی نہ ہونے کے فیصلے میں بھی اگرچہ سیاسی مصلحت نظر آتی ہے کہ اس طرح انہیں ایک تو پارلیمانی پارٹی کومربوط رکھنے میں آسانی ہو گی اوردوسری طرف عام انتخابات نزدیک آ جائیں گے جن میںوہ ترقی کے علمبردار اور سازش کے خلاف ڈٹ جانے والے کی حیثیت سے عوام کے پاس جائیں گے۔ تاہم اس فیصلہ میں انصاف کی پاسداری بھی نظر آتی ہے۔ اس ملک کے عوام کو استعفوں کی نہیں انصاف کی ضرورت ہے۔ سسٹم کو انصاف کے تابع ہونا چاہیے نہ کہ سسٹم کی خاطر انصاف کے تقاضوں کو قربان کر دیا جائے۔ 

اداریہ