عظیم لوگ جو نہ رہے

عظیم لوگ جو نہ رہے

لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ خان صاحب کا تعلق بھارت کے ضلع کرنال سے تھا۔ وہ اپنے علاقے کے سب سے بڑے جاگیردار اور نواب تھے لیکن انہوں نے تقسیم ہند کے بعد نہ صرف اپنی ساری زمین اور جائیداد چھوڑ دی بلکہ پاکستان آ کر اس جائیداد کے بدلے کوئی کلیم جمع نہیںکروایا۔ لیاقت علی خان کے پاس پاکستان میں ایک انچ زمین ' کوئی بینک بیلنس اور کوئی کاروبار نہیں تھا۔ لیاقت علی خان کے پاس دو اچکن ' تین پتلونیں اور بوسکی کی ایک قمیض تھی۔ ان کی پتلونوں پربھی پیوند لگے ہوئے تھے ، وہ پتلونوں کو ہمیشہ اپنی اچکن کے نیچے چھپا لیتے تھے۔ 16اکتوبر 1951ء کو جب راولپنڈی میں لیاقت علی خان شہید ہوئے تو ان کی نعش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی گئی۔ دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نے اچکن کے نیچے نہ صرف پھٹی ہوئی بنیان پہن رکھی تھی بلکہ ان کی جرابوں میں بھی بڑے بڑے سوراخ تھے۔

شہادت کے وقت خان صاحب کا نہ صرف اکاؤنٹ خالی تھا بلکہ گھر میں کفن دفن کے لیے بھی کوئی رقم نہیں تھی۔ خان صاحب اپنے درزی حمید ٹیلر اور ایک کریانہ سٹور کے بھی مقروض تھے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خان صاحب کی شہادت کے بعد حکومت کو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس کے لئے چینی کا کوٹہ طے کر رکھا تھا۔ یہ کوٹہ جب ختم ہو جاتا تو وزیر اعظم ' ان کی بیگم ، ان کے بچوں اور مہمانوں کو بھی چائے پھیکی پینی پڑتی تھی۔ پچاس کی دہائی میں ایک بیوروکریٹ نے بیگم رعنا لیاقت علی خان سے پوچھا کہ انسان ہمیشہ اپنے بیوی اور بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور جمع کرتا ہے، خان صاحب کیوں نہیں کرتے؟ بیگم صاحبہ نے جواب دیا یہ سوال میں نے بھی ایک بار خان صاحب سے پوچھا تھا لیکن خان صاحب نے جواب دیا تھا کہ میں ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ' میں نے زندگی میں ایک لباس دوسری بار نہیں پہنا تھا ۔ میرے خاندان نے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں خانساماں ' خادم اور ڈرائیور دے رکھا تھا۔ ہمارے گھر میں پچاس سے سو لوگوں کا کھانا روزانہ پکتا تھا۔ لیکن جب میںپاکستان کا وزیر اعظم بنا تو میں نے اپنے آپ سے کہا لیاقت خان اب تمہیں نوابی یا وزارت عظمیٰ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگااور میں نے اپنے لیے وزارت عظمیٰ منتخب کر لی۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا کہ خان صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں جب اپنے لیے نیا کپڑا خریدنے لگتا ہوں تو میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کیا پاکستان کے سارے عوام کے پاس کپڑے ہیں؟ میں جب اپنا مکان بنانے کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان کے تمام لوگ اپنے مکانوں میں رہتے ہیں؟ اور جب میں اپنے بیوی بچوںکے لیے کچھ جمع کرنے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان کے تمام بیوی بچوں کے پاس مناسب رقم موجود ہے؟ مجھے جب ان سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کو نیا لباس' لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔
پاکستان بہت قربانیوں کے بعد وجود میں آیا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے وطن سے محبت کریں، اس کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ لیکن آزادی کے بعد جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے بدتر حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ لیاقت علی خان کسی مدرسے یا خانقاہ کے تربیت یافتہ نہ تھے ، آکسفورڈ یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے لیکن خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ کہاں وہ نوابی اور کہاں پیوند لگے ہوئے کپڑے ۔ وہ حقیقی معنوں میں ولایت کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے جو سیاست اور اقتدار میں صرف اس مقصد کے لیے آئے کہ ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزریں اور آج صورت حال یہ ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جاتا ہے اور اقتدار ملنے کے بعد کم ازکم سات نسلوںکے لیے پیسہ جمع کیا جاتا ہے۔ افسوس جن عظیم شخصیات نے یہ ملک حاصل کیا ' اس قوم نے انہیں بھی نہ بخشا اور لیاقت علی خان جیسے ایماندار آدمی کو بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ، تب سے لے کر آج تک ملک پر ایسے لوگ قابض رہے ہیں جو پاکستان اور پاکستان کے عوام کا نہیں بلکہ اپنی ذاتی تجوریاں بھرنے کا ہی سوچتے ہیں۔ ماضی کی نسبت اگر موجودہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کسی قدر تسلی ہوتی ہے کہ میاں نوازشریف کے سابقہ ادوار میں اور موجودہ دور حکومت میں ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں ،گو سب اچھا نہیں ہے لیکن اگر جمہوری حکومت کے مینڈیٹ کا خیال کرتے ہوئے انہیں پانچ سال کام کرنے دیا گیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ دھیرے دھیرے ہمارے تمام دیرینہ مسائل حل ہو جائیں گے اور اگر سازش عناصر کی ریشہ دوانیاں ماضی کی طرح کام کرتی رہیںاور لیاقت علی خان کی طرح ایک کے بعد ایک منتخب وزیر اعظم کو چلتا کیا گیا تو شاید ہم کبھی بھی ترقی سے ہمکنار نہ ہو سکیں ۔ہمارے خیال میں اس وقت پاکستان جن مشکل راہوں سے گزر رہا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہر محب وطن سسٹم کو بچانے کے لیے اپنی کو شش کو بروئے کار لاتے ہوئے آواز اٹھائے کیو نکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے اصل پاسباں ہیں ۔

متعلقہ خبریں