Daily Mashriq

فریب نا تمام کا کردار جمعہ خان صوفی

فریب نا تمام کا کردار جمعہ خان صوفی

گرما گرم سیاسی حالات کے بیچوں بیچ بیماری نے آن دبوچا یوں چند غیر حاضریاں ہوگئیں۔اچھا یہ ہوا کہ ان چار پانچ دنوں میں کچھ پڑھ لیا۔ جمعہ خان صوفی کی ''فریب نا تمام'' جمیل یوسف کی ''زندگی کی رہگزر'' اور شاہد حمید کی تصنیف ''گئے دنوں کی مسافت'' سوانح عمریوں کے مطالعہ سے آپ کئی زمانوں اور لوگوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ تاریخ بارے سوانح عمریوں میں پسند و نا پسند تو ہوتی ہی ہے مگر مصنوعی پن نہیں ہوتا۔ جمعہ خان صوفی پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانیوں میں سے ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی' کابل کی جلا وطنی' سوویت یونین میں فکری تربیت' کابل میں بیٹھ کر پشتونستان (پختونستان) کی مسلح تحریک کو منظم کرنے اور سیاسی محاذ پر تحریک کے پروپیگنڈہ سیل کو زندہ رکھنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ 1970ء کی دہائی کی سیاست اور اس سیاست کی کوکھ سے جنم لینے والے تنازعات کے حوالے سے ان کی تصنیف کے مندرجات سے اتفاق اور اختلاف کرنے والے بھی موجود ہیں۔اے این پی کے وہ دوست جو ولی باغ کی قیادت (خان عبدالغفار خان کے خاندان کی قیادت) کو آسمانی حکم کی طرح ''واجب'' سمجھتے ہیں ان میں سے بہت سارے دوست صوفی کی کتاب کے مندر جات پر برہم ہیں۔ برہمی اس حد تک ہے کہ کچھ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کتاب پشتون قوم پرستوں کے ازلی دشمنوں نے لکھوائی ہے۔ اس الزام پر ہنسی آتی ہے جس شخص کا سارا خاندان فکری اعتبار سے باچا خان مرحوم کے ساتھ کھڑا رہا جس نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین ماہ و سال پختونستان کی تحریک پر نچھاور کئے گھر سے بے گھر ہوا' والد اور بہت سارے دوسرے عزیزوں کے سفر آخرت میں شرکت نہ کرسکا وہ فقط سچ بولنے پر معتوب ہوا اور جنہوں نے قوم پرستی کی سیاست کے کارخانے سے مال ہی مال بنا یا وہ دیوتا ہیں۔ ہمیں تا ریخ کو تاریخ کے طور پر دیکھنا اور پڑھنا کب آئے گا؟ تاریخ بہت ظالم ہے کسی کا لحاظ نہیں رکھتی۔ آج بھی پختونخوا اور بلوچستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے سینکڑوں پشتون بلوچ اور کچھ پنجابی موجود ہیں جنہوں نے جمعہ خان صوفی کے تعارفی اور سفارشی خطوط پر سابق سوویت یونین اور اس کی حلیف کمیونسٹ ریاستوں کے تعلیمی اداروں کے علاوہ خود کابل کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا اور تعلیم حاصل کی۔ وہ گھر کے بھیدی' عینی گواہ اور ان سارے معاملات کا کردار ہے۔ اگر کچھ غلط لکھا ہے تو اس دور کی سیاست کے زندہ کرداروں ان میں دو بڑے نام اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ حیات ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ قلم اٹھائیں اور جواب دعویٰ تحریر کریں۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ جب تک ان کے موقف کے رد میں سنجیدہ موقف سامنے نہیں آتا حرف آخر جمعہ خان صوفی کی تحریر ہی سمجھی جائے گی۔ انہوں نے پختونستان موومنٹ میں افغانستان اور بھارت کے کردار' مالی و عسکری امداد' بھٹو دور کی مسلح حکومت مخالف تحریک کے بعض بڑوں کی افغانستان ہجرت اور پھر قیام افغانستان کے دوران ان بڑوں کے شب و روز کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ پڑھنے والوں پر اپنا سحر یوں طاری کرتا ہے کہ قاری خود کو اس دور کا ایک کردار سمجھنے لگتا ہے۔ افغانستان سے ملنے والی پونے دو کروڑ ڈالر کی امداد کے مساوی طور پر تقسیم نہ ہونے اور بعض جائیدادوں کے ایک خاندان کے تسلط میں دئیے جانے پر ان کا تجزیہ محض جذباتی رد عمل نہیں بلکہ اس تجزیہ سے جنم لیتے سوالات کے جوابات کا قرض اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی کے علاوہ عطاء اللہ مینگل پر بھی ہے۔ 

پشاور یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کرنے اور پھر اس یونیورسٹی میں لیکچرار تعینات ہونے والے جمعہ خان صوفی کا خاندان اور بالخصوص والد محترم تقسیم ہند سے قبل کے صوبہ سرحد میں باچا خان کی سیاست میں پر جوش طور پر شریک رہے۔ جمعہ خان اپنے خاندان کی دوسری نسل کے نمائندے کی حیثیت سے خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ چلے۔ ان کی کتاب ہمیں سمجھاتی پڑھاتی ہے کہ کس طرح بڑے سیاسی خاندان متوسط طبقوں کے سیاسی کارکنوں کو اپنی سیاسی شان و شوکت' حصول اقتدار اور مفادات کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں اور قدم قدم پر غریب سیاسی کارکنوں کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ جمعہ خان کی کتاب کا زیادہ تر حصہ پشتون قوم پرستی کے جذبات کو کاروبار بنانے والوں کے گرد گھومتا ہے مگر ہم اس میں دیگر قومیتوں کے سیاسی تاجروں کا چہرہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ بھٹو صاحب بارے ان کے خیالات ویسے ہی ہیں جیسے کسی دوسرے اس پشتون قوم پرست کے جس نے 1960ء اور 1970ء کی سیاست کو شعور کی آنکھ سے دیکھا اور عملی طور پر شریک رہا ہو لیکن ان کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت کی قوم پرست پشتون قیادت کی بشری کمزوریوں' محبت دنیا اور دیگر معاملات سے صرف نظر کرنے کی بجائے اپنے قارئین اور تاریخ کے طلباء کے سامنے وہ سب کچھ کتاب کی صورت میں رکھ دیا جو پروپیگنڈے کی یکطرفہ ٹریفک کا کچھ نہ کچھ مداوا کرتا ہے۔ اپنی سوانح عمری یا یوں کہہ لیجئے شعوری جدو جہد کوانہوں نے'' فریب نا تمام'' کا نام کیوں دیا یہ کتاب پڑھنے پر ہی سمجھ میں آتا ہے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ بٹوارے سے اب تک ہمیشہ منزل انہیں ہی ملتی رہی جو شریک سفر نہیں تھے۔ ان کی تصنیف کے بعض حصوں سے اختلاف اپنی جگہ لیکن سچ یہ ہے کہ اس دور کی سیاست' مسلح جدوجہد' بیرونی مداخلت اور دیگر حوالوں سے ایک مستند تحریر پڑھنے والوں کے سامنے ہے۔

اداریہ