Daily Mashriq

والدین کے لیے ۔۔۔

والدین کے لیے ۔۔۔

اس بارعید کے فوراًبعدمیٹرک کا رزلٹ آیاہے ۔ ہزاروں طلبہ مختلف انٹرمیڈیٹ بورڈوں سے اس امتحان میں بیٹھے تھے ۔نتائج کے ساتھ ہی بچوں کی گیارہ بارہ سال کی محنت کا پہلا پڑاؤ مکمل ہوا ہے ۔ میٹرک کی سطح تک بچوںکو محنت تو بہت کرنی پڑتی ہے۔ اور اس محنت کا پھل بھی انہیں نتائج کی صورت میں مل جاتا ہے ۔ لیکن میٹرک تک بچوں کو کسی بڑے فیصلے سے نہیں گزرنا پڑتا کیونکہ اس پڑاؤ تک سائنس یا آرٹس کے دو ہی راستے ہوتے ہی کہ جن پر بچے کو آگے بڑھنا ہوتا ہے ۔میٹرک کے بعد اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے کیونکہ بچے کو اپنے کیریئر کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس نے کس شعبے میں جانا ہے اور جس شعبے میں جانا ہے اس کے لیے کس ادارے کا انتخاب کرنا ہے ۔ ماضی میں اس حوالے سے اتنا کمپی ٹیشن نہیں تھا جتنا اب ہے ۔ سولہ سترہ برس کا بچہ یقینا اس قابل نہیں ہوتا کہ جان سکے کہ میٹرک کے بعد وہ کس تعلیمی میدان اور کس تعلیمی ادارے کا انتخاب کرے ۔ اس سلسلے میں والدین یا گھر کے بزرگ ہی اس کی مدد کرسکتے ہیں ۔ پڑھے لکھے والدین بچوں کی تعلیم کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہوتے ہیںمگرامی ،ابوکے ذہن میںبچے کے لیے دوچار ہی آپشن ہوتے ہیں،ڈاکٹرنہیں تو انجنئیر، یا پھر سی ایس ایس،پی ایم ایس وغیرہ،انہی میں سے کسی ایک کوہی اختیار کرناہے۔چاہے بچے کی استعداد ہے یا نہیں امی ابوکی خواہش کو پوراکرنے کی کوشش میں بچہ بے چارہ ہلکان رہتا ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں نئے پروفیشنز کی آگاہی بہت کم ہے۔یہی چند پروفیشنز ہیں کہ جن میں عام طور پر ہمارے ہاں کیرئر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔چونکہ ہم چند روایتی شعبوں ہی سے واقف ہوتے ہیں اس لیے انہی شعبوں میں اپنے بچوں کو ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔تعلیم کا ایک بنیادی مقصد توایک اچھا انسان بنناہوتاہے لیکن ایک اچھے انسان کی ایک ڈیفی نیشن یہ ہے کہ وہ اچھاانسان ایک اچھااور کامیاب پروفیشنل بھی ہواور یہی جدیددنیاکے جدیدانسان کا تقاضابھی ہے۔دنیا اب پہلے جیسی رہی بھی نہیں۔بے شک اسے گلوبل ویلج کہاجاتا ہے تو کوئی غلط نہیں کہاجاتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فاصلے کم ہوگئے ہیں۔کمیونیکیشن اور رابطے زیادہ ہوگئے ہیں۔سوشل میڈیا ،انٹرنیٹ نے دنیا کو ٹودی پوائنٹ کردیا ہے۔اسی گلوبل ویلج نے علم کی جغرافیائی حدوں کومٹادیاہے ۔ یوں پروفیشنزکی مارکیٹ بھی بہت وسیع ہوگئی ہے۔ہیومن ریسورس کی ہرجگہ مانگ موجود ہے۔اس کے لیے سِکل ڈویلپنگ ہر تعلیمی ادارے کامطمح نظر دکھائی دیتاہے۔ماضی میں تعلیم کے شعبے کولوکل مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پروگرام کیا جاتا تھا لیکن اب اس مارکیٹ کی وسعت اور پھیلاؤ میں بے انتہااضافہ ہوچکاہے ۔ مارکیٹ کی اس وسعت کوذہن میں رکھ کر کوئی بھی طالب علم اپنے مستقبل کو سنوار سکتاہے۔ بحیثیت معلم میںسمجھتاہوں کہ اللہ نے جس طرح انسانوں کو ایک جیسا نہیں بنایااسی طرح ہرانسان کے سِکل کوبھی دوسرے انسان سے مختلف رکھاہے ۔ اس لیے ہربچے میںڈاکٹر یاانجنیئر بننے کی استعد ا دو صلاحیت نہیں ہوتی۔مگرایسا کوئی بچہ والدین کے اصرار پر اس راستے پر چل تو پڑتا ہے لیکن فطری صلاحیت کی عدم موجودگی میں اکثر اسے ناکامی ہی ہوتی ہے۔یوں ایک اچھا خاصا ذہن والدین کی خواہشوں کی بھینٹ چڑھ کرخودکوایک ناکام انسان تصور کربیٹھتاہے۔ حالانکہ ناکامی اس بچے کی نہیں ہوتی ،ناکامی تووالدین کی یا اساتذہ کی ہوسکتی ہے کہ بچے میں پوشیدہ صلاحیت کوپہچان نہ پائے ۔اللہ نے بے شک ہرانسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھ چھوڑی ہے کہ جس میں وہ انسان بیسٹ ہوتاہے سوال صرف اس صلاحیت کو پہچاننے کاہے،پھرترقیاں اور کامیابیاں اس نوجوان کامقدر ہوتی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بچے کے سکلزکو جانچنے یاپرکھنے کاکوئی نظام موجودنہیں ہے۔ترقی یافتہ معاشروں میں بچوں کی استعداد کو پرکھنے کے سسٹمز موجود ہوتے ہیں اور بچے کے پروان چڑھتے چڑھتے اس کے سکلز کا اندازہ لگالیا جاتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں چلنے والے تقریباًتمام ایجوکیشن سسٹم میں یادداشت کو اہمیت دی جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے امتحانی سسٹم میں یادداشت پر ہی نمبر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔اور ہمارا تعلیمی نظام بھی اسی یادداشت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ یں والدین سے یہی گزارش کروں گا کہ اپنی خواہشات اپنے بچوں پر مسلط کرنے کی بجائے اس کے میلانات ورجحانات کو دیکھیں ۔اس کی ڈی ایم سی کوہی ایک نظر دیکھ لیں کہ کس مضمون میں اس کی پرفارمنس بہتر ہے ۔ اس سے مشورہ بھی کرلینا ضروری ہے اور ایک کام یہ بھی کرلیا جائے کہ بچے کے سکول کے استاد سے بچے کے سکلز کے بارے میں پوچھ لیا جائے تب فیصلہ کریں کہ بچے نے آگے کیا پڑھنا ہے ۔ ایک آخری بات جو میں کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ قابلیت کسی چیز کو یاد کرلینے کا نام نہیں بلکہ بنیادی کانسپٹ کے کلیئر کرنے کا نام ہے ۔ اور صلاحیت صر ف محنت سے بیدار ہوتی ہے ۔ بچہ اگر محنت کا خوگر ہوگیا تو مشکل سے مشکل مضامین اسے ازبر ہوجائیں گے ۔والدین بس اتنا کریں کہ ان میں محنت اور چیزوں کو سیکھنے کی جستجو کی صلاحیت کو بیدار کردیں اور پھر دیکھیں نتائج ان کی توقعات سے بھی بڑھ کرآئیں گے ۔

اداریہ