ناقص امتحانی نظام کے المناک نتائج

ناقص امتحانی نظام کے المناک نتائج

نویں جماعت کے دو جوانسال طلبہ ناقص امتحانی نظام کے بھینٹ چڑھ گئے۔ ایک صوابی کا تھا اور دوسرا چارسدہ کا۔ دونوں نے نویں جماعت کے امتحان میں کم نمبر لینے پر زندگی کے ہر امتحان سے چھٹکارا حاصل کر لیا ۔ ہم ان خود کشیوں کو ناقص امتحانی نظام کا شاخسانہ کہتے ہیں ۔ امتحانی نتائج سے مایوس ہونے والے بیشتر طالب علموں کا تعلق سائنس گروپ سے ہوتا ہے۔ سائنس کاہر طالب علم پروفیشنل کالجز میں داخلے کی خواہش رکھتا ہے ۔ مقابلہ بہت ہی سخت ہو چکا ہے ۔ بعض اوقات تو کچھ امید وار ایک یا دو نمبر وں کے مارجن سے پروفیشنل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کی حیثیت ایک ایسی کٹی پتنگ کی مانند ہوتی ہے جن کو اپنی منزل کا کچھ علم نہیں ہوتا ۔ یوں سمجھئے انٹر میڈیٹ کے امتحان میں مناسب نمبر نہ لینے کی وجہ سے اس کی بارہ سال کی محنت ضائع ہوگئی ۔ اور پھر پہلی جماعت کے مبتدی اور اُس میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈو اور ڈائی کے اس مقابلے میں ناکام ہونے پر طالب علم ڈائی کا آپشن دینے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ اس نوع کے سانحات کا ذمہ دار ہمارا ناقص امتحانی نظام ہے ۔ ثانوی تعلیمی بورڈ منافع بخش تجارتی ادارے بن چکے ہیں۔ ان اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بالعموم ایسے بار سوخ افراد کو فائز کردیا جاتا ہے جو ایسے عہدوں پر کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ عہدے مراعات کے لحاظ سے اس قدر دلکش بنادیئے گئے کہ تدریسی شعبے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اُن کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ان عہدوں پر صرف ایسے تجربہ کار افراد کی تقرری کی جاتی جو انتظامی امور کے ایک طویل تجربے کے حامل ہوتے ، نہ ان آسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کی جاتیں نہ اُن کے انٹر ویو ہوتے ۔ محکمہ کے سینئر ترین اساتذہ کے نام مجاز اتھارٹی کو روانہ کر دیئے جاتے ، پینل میں شامل لوگوں کو بھی اس دفتری کارروائی کا علم نہ ہوتا ۔ ازروئے قانون گورنر ثانوی تعلیمی بورڈ کے اعلیٰ عہدوں پر تقرری کرتا ، گزشتہ ایم ایم اے کی حکومت میں یہ اختیارات گورنر سے لے کر وزیر اعلیٰ کو منتقل کر دیئے گئے اور یہی فیصلہ ثانوی تعلیمی بورڈز میں سیاسی مداخلت کا نکتہ آغاز بن گیا ۔ جس کے نتیجے میں بورڈ ز کے انتظامی امور متاثر ہوئے ۔ ہم جب درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوئے تو اُس دور میںپرچے جانچنے کا کام ٹھیکے پر دینے کا رواج قائم نہیں ہواتھا ۔ پہلے ٹیچر کو پرچے جانچنے کی آفر آتی ۔ اس کی رضامندی پر اُسے کسی ممتحن اعلیٰ سے منسلک کردیا جاتا ۔ جو بالعموم کالجز یا یونیورسٹی کا عمر رسیدہ تجربہ کار اُستاد ہوتا ۔ ممتحن اعلیٰ آٹھ سے دس تک نائب ممتحین کے کام کی نگرانی کرتا ۔ کسی بھی نائب ممتحن کو تین سوسے زیادہ پرچے جانچنے کی اجازت نہ ہوتی ۔ اور یہ عمل پندرہ سے بیس دنوں میں مکمل کرنے کا پابند ہو تا ۔ پرچوں کا پیکٹ اُسے بذریعہ ڈاک روانہ کر دیا جاتا ۔ موصولہ پرچوں میں سے پندرہ کی ایک آزمائشی قسط ممتحن اعلیٰ کے تحریری ہدایت نامے کی روشنی میں جانچ کر ڈاک ہی کے ذریعے بھیج دیتا ۔ آزما ئشی پرچوں کی جانچ کے معیار کو تسلی بخش قرار دینے کی صورت میں نائب ممتحن بقیہ پرچوں کی مارکنگ شروع کر دیتا ۔مارکنگ کے بعد سو ، سو پرچوں کی ایک قسط مناسب وقفوں سے ممتحن اعلیٰ کو روانہ کرتا رہتا ۔ ممتحن اعلیٰ جانچے جانے والے پرچوں میں سے ساڑھے سات فیصد کام کی خود چیکنگ کرتا ۔ نمبرات لگانے میں اگر اُسے توازن نظر نہ آتا تو سر زنش کے ساتھ نائب ممتحن کو دوبارہ وہی پرچے جانچنے کی ہدایت کرتا تاکہ کسی امید وار کے ساتھ ناانصافی کا شائبہ تک باقی نہ رہے ۔ ان نتائج سے کم و بیش تمام امید وار مطمئن ہوتے ۔ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ اُس زمانے میں کسی طالب علم نے نتائج پر عدم اطمینان کی وجہ سے خود کشی کی ہو ۔ اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے ۔ مارکنگ میں مرکز یت پیدا کرنے کے نام پر تمام تعلیمی بورڈ ز میں پرچے جانچنے کا جمعہ بازار لگا دیا جاتا ہے ہر مضمون کے ممتحن اعلیٰ کو نائب ممتحین کی ایک ٹولی سپر د کر دی جاتی ہے اسی طرح ہر نائب ممتحن دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے زیادہ سے زیادہ پرچے جانچنے کی کوشش کرتا ہے شنید ہے کہ ایک دن میں ممتحین ڈیڑھ سے دو سو تک پرچے جانچنے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ایک ممتحن اعلیٰ کی زیر نگرانی کام کرنے والے نائب ممتحین کا پندرہ دنوں کا ٹارگٹ بالعموم آٹھ دس ہزار پرچے ہوتے ہیں ۔ اس سے آپ پرچے جانچنے کا معیار کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں پرچے جانچنے کے غیر معیاری طریقہ کار کے علاوہ ،سائنس کے مضامین کے پریکٹیکل امتحانات میں ممتحن کے اختیارات بندر کے ہاتھ میں اُستر ے کی مانند ہوتے ہیں۔ اُن کی صوابدیدپر دیئے جانے والے نمبروں کے نتیجہ میں بے شمار ذہین طلبہ کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے اور وہ تحریری امتحان میں بہترین کارکردگی کے باوجودبعض اوقات پریکٹیکل امتحان میں کم نمبر ملنے کی وجہ سے پروفیشنل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں اس نا انصافی کا سدباب صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب کلاس کے اساتذہ کو پریکٹیکل امتحان لینے کی ذمہ داری سونپ دی جائے ۔ کیونکہ باہر کے کسی ممتحن کے پندرہ منٹ دورانیئے کے امتحان میں کسی امیدوار کی دو سال کی کارکردگی کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا ۔ یہ ذمہ داری امید واروں کے اپنے اساتذہ بخوبی نبھا سکتے ہیں ۔ موجودہ ناقص امتحانی نظام پر اگر نظر ثانی نہ کی گئی اور ثانوی تعلیمی بورڈز کو منافع بخش تجارتی ادارہ ہی سمجھا گیا تو طلبہ میں خود کشی کے رجحانات بڑھ سکتے ہیں ۔

اداریہ